امریکا کا ایران کیخلاف نئی پابندیوں کا اعلان

امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسینٹ نےخبردار کیا کہ ایران سے تعاون کرنے والے ممالک کو امریکی گرفت کا سامنا ہوگا، ایران کو ترسیلات زر کی کچھ ادائیگیوں کے لیے دیے گئے لائسنس منسوخ کردیے گئے، یہ ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں ہوں گی۔
امریکی وزیرخزانہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو ہمارے صبر کو آزمانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، اقتصادی ناکہ بندی اور بحری محاصرے کے بعد نئی فوجی کارروائیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی، ان اقتصادی پابندیوں کے بعد ایرانی نظام خود ہی گھٹنے ٹیک دے گا، ایرانی معیشت کی ہر اس رگ کو کاٹنا ہے جو اس رجیم کو سہارا دے رہی ہے، جو ایران کو معاشی سہارا دے گا اسے بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی وزیر خزانہ نےکہا معاشی پابندیاں مضبوط ہتھیار ہے اور ہم یہ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر کوئی ہماری توقعات پر پورا اترنا نہیں چاہتا تو اس کو ڈالر سسٹم سے نکلنا ہوگا، جو ملک اس مرتی حکومت کی مالی شریان بنے گا عالمی تنہائی کا شکار ہوگا۔
اسکاٹ بیسینٹ کا کہنا تھا یو اے ای پہلے ہی ایران کے ساتھ اپنا تمام کاروبار معطل کر چکا ہے، جو ملک یا کمپنی ایران سے لین دین کرے گی اسے اب براہِ راست امریکی پابندیوں کا سامنا ہوگا، ایران کو انسانی ہمدردی یا مخصوص تجارت کے نام پر جو لائسنس حاصل تھے، ان کا دائرہ انتہائی تنگ کردیا جائے گا، اب ایران کے لیے ہر مالیاتی لائف لائن کو مستقل طورپر بند کیا جائےگا۔
اسکاٹ بیسینٹ نے کہا معاشی محاصرہ ایران کو مجبور کر دے گا کہ ہرمزکو کھولے اور جنگ کے خاتمے کیلئے امریکی شرائط مانے، جو ممالک امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وہ شراکت داری کے ثمرات حاصل کریں گے، ہمارے شراکت داروں کی عالمی سرمایہ کاری تک رسائی گہری ہوگی، جو ممالک تہران کے ساتھ جڑے رہیں گے، وہ اس مرتی حکومت کی تنہائی کا حصہ بنیں گے۔
