امریکا نے قطر کو اسرائیلی حملے سے قبل آگاہ کیا تھا ، ترجمان وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کا کہنا ہے کہ امریکا نے قطر کو اسرائیلی حملے سے متعلق پیشگی اطلاع دی تھی، تاہم دوحہ نے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق یہ بیان اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جب خلیجی ملک کے دارالحکومت کے ایک رہائشی علاقے میں حملہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ قطر امریکا کی معاونت سے غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کا ایک اہم ثالث ہے۔
کیرولائن لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی فوج نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل حماس پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، اور اس کے کچھ رہنما بدقسمتی سے دوحہ میں موجود تھے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’قطر جیسے خودمختار ملک اور قریبی اتحادی پر یکطرفہ بمباری نہ تو امریکا اور نہ ہی اسرائیل کے مقاصد کو آگے بڑھاتی ہے، اگرچہ حماس کو ختم کرنا ایک جائز ہدف ہے کیونکہ وہ غزہ کے عوام کی مشکلات سے فائدہ اٹھا رہا ہے‘‘۔
ترجمان کے مطابق ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ہدایت دی کہ وہ قطری حکام کو حملے کی اطلاع دیں، اور انہوں نے ایسا کیا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے بھی بات کی، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ کیا کسی ممکنہ ردعمل کی دھمکی دی گئی یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ افسوسناک واقعہ امن کے لیے ایک موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے‘‘۔
دوسری جانب قطر نے امریکی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو حملے سے متعلق کسی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں ملی۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر لکھا کہ ’’ایک امریکی اہلکار کی کال حملے کے دوران دھماکوں کی آوازوں کے بیچ موصول ہوئی‘‘۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے قطر میں فضائی کارروائی کر کے حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم، حماس کے سیاسی بیورو کے رکن سہیل الہندی نے کہا کہ خلیل الحیہ سمیت سینئر قیادت محفوظ رہی، البتہ خلیل الحیہ کا بیٹا ہمام الحیہ، دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد، عبداللہ عبد الواحد (ابو خلیل)، معمن حسونہ (ابو عمر) اور احمد المملوک (ابو مالک) شہید ہوگئے۔
سہیل الہندی کے مطابق قطر کی اندرونی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کارپورل بدر سعد محمد الحمایدی بھی اس حملے میں شہید ہوئے۔
