امریکہ ایران کشیدگی، کیا مذاکرات سے مستقل جنگ بندی ممکن ہے؟

حالیہ دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں ایک طرف سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں تو دوسری جانب بیانات اور اشارے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ابھی راستہ مکمل طور پر ہموار نہیں ہوا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مختصر مگر بار بار پاکستان کے دورے، پاکستان، عمان اور روس کے درمیان سفارتی روابط، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات مل کر ایک پیچیدہ مگر دلچسپ عالمی منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں۔

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا گزشتہ 48 گھنٹوں میں دو مرتبہ پاکستان آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے میں کچھ غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ بظاہر یہ دورے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے تھے، مگر پس پردہ اطلاعات یہ بتاتی ہیں کہ ایران اپنی شرائط اور مطالبات پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچا رہا ہے۔ یہ وہی سفارتی راستہ ہے جو بیک چینل مذاکرات کہلاتا ہے اور اکثر حساس معاملات میں استعمال ہوتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ایران چاہے تو ’فون کر سکتا ہے‘، بظاہر ایک سادہ پیشکش لگتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان داخلی سیاست کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور اس میں ایک قسم کا نفسیاتی دباؤ بھی شامل ہے۔ امریکہ خود کو برتر پوزیشن میں ظاہر کرنا چاہتا ہے، جبکہ حقیقت میں ایران بھی آبنائے ہرمز جیسے اہم سٹریٹجک مقام کی وجہ سے مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔یہ تمام صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک بظاہر سخت مؤقف رکھتے ہوئے بھی پس پردہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے۔ ایران پر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کی وجہ سے، جبکہ امریکہ بھی کسی بڑی جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے عمان اور روس کے دورے بھی اسی سفارتی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ عمان روایتی طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ روس ایران کا قریبی اتحادی ہے اور اس تنازع میں اس کے اپنے مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ان دوروں کا مقصد نہ صرف حمایت حاصل کرنا ہے بلکہ ایک کثیر الملکی سفارتی فریم ورک تشکیل دینا بھی ہو سکتا ہے۔

اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ابتدا میں پاکستان کو صرف ایک سہولت کار سمجھا جا رہا تھا، مگر اب یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان ایک فعال ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے خطے میں امن کے عزم کا اظہار اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اسلام آباد اس عمل میں سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارتی کوششیں کسی ٹھوس معاہدے پر منتج ہو سکیں گی؟ ماہرین کے مطابق امید تو موجود ہے، مگر راستہ طویل اور پیچیدہ ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو رعایت دینے کے لیے تیار تو ہیں، مگر مکمل اعتماد کا فقدان اب بھی امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ پیشرفت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ امریکہ اورایران جنگ نہیں چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں، چاہے وہ براہ راست ہوں یا بالواسطہ۔آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک نازک توازن پر کھڑی ہے۔جہاں ایک طرف جنگ کا سایہ موجود ہے، تو دوسری جانب امن کی امید بھی زندہ ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ سفارتی کوششیں تاریخ کا رخ بدلتی ہیں یا ایک اور ناکام تجربہ ثابت ہوتی ہیں۔

Back to top button