یوتھیے صدر علوی کی ایوان صدر سے فوری چھٹی یقینی؟

آئین کی بجائے عمران خان کی وفاداری میں قانون کی دھجیاں بکھیرنے والے یوتھیے صدر علوی کی ایوان صدر سے جلد چھٹی یقینی ہو گئی۔پارلیمنٹ کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ انتخابات سے قبل صدارتی انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں جماعتوں نے نئے صدر کے انتخاب کے لیے 9 مارچ کی تاریخ کی تجویز دے دی ہے۔دونوں جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسمبلیوں کی حلف برداری کے فوری بعد صدارتی انتخاب ہوں گے۔انتخاب میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بطور صدر حکومتی اتحادیوں کے امیدوار ہوں گے۔
واضح رہے کہ 8 ستمبر 2023 کو ڈاکٹر عارف علوی 5 سالہ مدت پوری کرنے والے ملک کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے چوتھے صدر بن گئے تھے۔تاہم صدر کے انتخاب کے لیے ضروری الیکٹورل کالج کی عدم موجودگی کے باعث ڈاکٹر عارف علوی تاحال ملک کے صدر ہیں اور اس سے وہ ملکی تاریخ کے ان سربراہان مملکت میں سے ایک بن گئے جن کی مدت میں توسیع ہوئی ہے۔ کیونکہ قانون کے تحت دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی جانب سے صدر مملکت کو منتخب کیا جاتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 44 (1) کے مطابق صدر اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے دن سے 5 سال کی مدت کے لیے اپنے عہدے پر فائز رہیں گے، لیکن وہ اس عہدے پر اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک ان کے جانشین کا انتخاب نہیں ہو جاتا۔
تاہم اب 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات کے درمیان الیکشن کمیشن آف پاکستان اب 9 مارچ تک صدر مملکت کے عہدے کے لیے انتخابات کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔
صدر کے انتخاب کا مرحلہ آدھے سینیٹر کی 6 سالہ مدت کی تکمیل کے بعد ریٹائرمنٹ سے صرف دو دن قبل مکمل کیا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق موجودہ سینیٹرز چاروں صوبائی اسمبلیوں کے قیام کے بعد صدر کا انتخاب کریں گے، صدر کا انتخاب 9 یا 10 مارچ کو ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی میں مخلوط حکومت بنانے کے لیے بننے والے 6 جماعتی اتحاد نے آصف علی زرداری کو ملک کے اعلیٰ آئینی عہدے کے لیے متفقہ امیدوار بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔آصف زرداری اس سے قبل فوجی حکمران پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد ستمبر 2008 سے 2013 تک صدر رہ چکے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 41(4) کے مطابق’صدر کا انتخاب صدر کی میعاد ختم ہونے سے 60 دن سے پہلے اور مدت ختم ہونے کے 30 بعد نہیں ہونا چاہیے، اگر قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی وجہ سے مقررہ مدت کے اندر صدر کا انتخاب نہ ہو سکے تو عام انتخابات کے 30 دن کے اندر اندر کرایا جائے گا۔عام انتخابات 8 فروری کو ہوئے، اس لیے 100 رکنی سینیٹ میں سے نصف کی ریٹائرمنٹ سے صرف 2 روز قبل صدارتی انتخاب 9 مارچ تک کرانا ضروری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات بھی مارچ کے پہلے ہفتے میں ہونے تھے لیکن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں تاخیر کے باعث سینیٹ انتخابات اب مارچ کے آخری یا اپریل کے پہلے ہفتے میں ہوں گے جس کا مطلب ہے کہ ایوان بالا کچھ مدت کے لیے غیر فعال اور نامکمل رہے گا۔
صدر مملکت کے انتخاب کے فارمولے کے مطابق ایک سینیٹر کا ایک ووٹ شمار کیا جاتا ہے جبکہ سندھ اسمبلی میں تقریباً چار ووٹوں کے برابر ایک ووٹ ہوگا، اس طرح آصف زرداری کو صدارتی انتخابات میں فائدہ ہوگا۔
واضح رہے کہ موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی 5 سالہ مدت گزشتہ سال 9 ستمبر میں پوری ہوچکی اور وہ توسیع شدہ مدت پر عہدے پر ہیں۔آئین کا آرٹیکل 44(1) کہتا ہے کہ صدر اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے دن سے 5 سالہ مدت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا لیکن وہ اس عہدے پر اس وقت تک فائز رہے گا جب تک کہ اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کا انتخاب نہیں کرلیا جاتا۔ڈاکٹر عارف علوی 5 سالہ مدت پوری کرنے والے ملک کے چوتھے جمہوری طور پر منتخب صدر ہیں، اس سے قبل 3 صدور جنہوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی، ان میں چوہدری فضل الٰہی تھے جو ملک کے پانچویں صدر تھے وہ 1973 سے 1978 تک اس عہدےپر فائز رہے، آصف علی زرداری 11ویں صدر تھے جو 2008 سے 2013 تک عہدے پر رہے جب کہ 12 ویں صدر ممنون حسین 2013 سے 2018 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔
ڈاکٹر عارف علوی مسلسل تیسرے صدر ہیں جنہوں نے اپنی مدت پوری کی اور ملک کے پہلے صدر ہیں جنہیں ’الیکٹورل کالج‘ نامکمل ہونے کی وجہ سے توسیع دی گئی، صدر کا الیکٹورل کالج قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بالترتیب 69 فیصد اور 57 فیصد ارکان اپنی مدت پوری کرنے کے بعد 11 مارچ کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔لیکن 8 فروری کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں سینیٹ میں یقینی طور پر اپنی تعداد میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی، اگر پی ٹی آئی سینیٹ انتخابات سے قبل انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی تو اسے یقینی طور پر نقصان ہوگا اور اسے ایوان بالا میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے سنی اتحاد کونسل پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس وقت سینیٹ کی مجموعی تعداد 100 ہے جس میں چاروں صوبوں کے 23، سابقہ فاٹا اور اسلام آباد کے چار چار اراکین شامل ہیں۔صوبوں کے لیے مختص کردہ 23 نشستوں میں سے 14 جنرل نشستیں، 4 خواتین، 4 ٹیکنوکریٹس اور ایک اقلیتی رکن کے لیے مختص ہے۔اس مرتبہ صرف 96 اراکین ایوان بالا میں ہوں گے جب کہ 25ویں آئینی ترمیم کے تحت خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد قبائلی علاقوں کی نمائندگی ختم ہو جائے گی۔اس مرتبہ سینیٹ کے انتخابات میں 48 نئے سینیٹرز منتخب ہوں گے جن میں چاروں صوبوں سے جنرل اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر 11، اسلام آباد سے 2 جب کہ پنجاب اور سندھ سے 2 اقلیتی ارکان ہوں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رانا مقبول احمد کے انتقال، پی ٹی آئی کے شوکت ترین اور بلوچستان عوامی پارٹی کے انوار الحق کاکڑ کی جانب سے نگران وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد استعفیٰ دینے کی وجہ سے ایوان کے ارکان کی تعداد اس وقت 97 ہے۔سینیٹر کی مدت 6 سال ہوتی ہے، ان میں سے آدھے اراکین ہر 3 سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے اراکین کے لیے انتخابات ہوتے ہیں۔
