جنگی گولے، پتھر اور ہیرے

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
مشرق کے علم فلکیات کو مغرب میں سائنس نہیں، بلکہ توہمات کا مجموعہ جانا جاتا ہے مگر اسکے باوجود مغرب ومشرق دونوں میں ستاروں کے اثرات پر یقین کرنیوالے بہت ہیں۔علم فلکیات کے پاکستانی ماہرین اکثر پاکستان کی تاریخ پیدائش 14اگست 1947ء کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ پاکستان کے ستارے کچھ ایسے ہیں کہ ان میں مدوجزر بہت ہے، نشیب وفراز ہیں، امید اور مایوسی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ بیشتر ماہرین کے خیال میں جنگیں، فوجی غلبہ اور عدم استحکام انہی پیدائشی ستاروں کے الٹ پھیر کی وجہ سے ہے۔ یہ توہمات ہیں یا حقیقت مگر ایک بات تو ثابت شدہ ہے کہ پاکستان کی تقدیر کیساتھ جنگیں جڑی ہوئی ہیں۔
پاکستان کے قیام سے پہلے بھی سکندر اور پورس کی جنگ،عربوں، ایرانیوں اور افغانیوں کے اس خطے پر لگاتار حملے یہاں کی تاریخ بناتے اور بگاڑتے رہے ہیں ۔ سکھوں کی جنگیں بھی عروج وزوال کاسبب بنتی رہی ہیں انگریزوںکی آمد کے بعد پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اس خطے کے لوگوں نے برطانیہ کے حق میں لڑائیاں لڑیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پہلی جنگ عظیم میں صرف پنجابیوںکےلگ بھگ40ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دوسری جنگ عظیم میں یہ تعداد بڑھ کر50ہزار تک پہنچ گئی یہی وجہ ہے کہ یونینسٹ وزیر اعظم پنجاب سر سکندر حیات، برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل سے قاہرہ میں تقسیم ہندوستان کے مسئلے پر ملے تو چرچل نے مشہور تاریخی فقرہ کہا تھا کہ ’’ خون بہاکے طور پر ہندوستان سے الگ ملک حاصل کرنا پنجابیوں کا حق ہے‘‘ گویا جنگ عظیم نے تقسیم ہندوستان کا فیصلہ کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ پاکستان ابھی بن بھی نہیں پایا تھا کہ1947ء میں مسئلہ کشمیر پر بھارت سے تنازع پیدا ہوگیا1948ء میں ہی پہلی کشمیر جنگ برپا ہوگئی پھر1965ءاور1971ءمیں اوپر تلے دومزید جنگیں ہوئیں، کارگل اور حالیہ پاک بھارت جنگ ملاکرکُل پانچ پاک بھارت جنگیں اور دوافغان عالمی جنگیں پاکستان جیسا کمزور معاشی ملک نہ صرف برداشت کرگیا بلکہ نہ قحط پڑا ،نہ خوراک اور معیار زندگی میں کوئی نمایاں کمی آئی۔اگر دائرہ خیال کومزید بڑھایا جائے تو کوریا اور ویت نام کی جنگ میں بھی ہم کسی نہ کسی طرح بالواسطہ شریک تھے، عرب اور اسرائیل کی جنگوں میں بھی ہمارا کردار رہا ،یو کرین کی جنگ میں بھی پاکستانی اسلحہ اور بارود جانے کی خبریں شائع ہوئی ہیں گویا نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان دنیا کی جنگوں میں ایک مستقل کردار رہا ہے۔ امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ میں پاکستان فریق نہیں مگر ثالث ضرور ہے گویا علم فلکیات والے درست ہی کہتے ہیں کہ جنگیں ہمارے خطے کی تقدیر کیساتھ جڑی ہوئی ہیں ہم مزاجاً پرامن ہیں مگر جنگیں ہماری راہ میں آتی رہی ہیں۔ ہمارے مخالف بھارتی نژاد امریکی ٹی دی پال نے وارئیرا سٹیٹ یعنی جنگجو ریاست لکھ کر پاکستان کو آمادہ جنگ ہونے کا طعنہ دیا مگر وہ اس حقیقت کو بھول گئے کہ زیادہ ترجنگیں پاکستان پر مسلط ہوئیں اور پاکستان کو اپنی بقا کی خاطر ان میں کودنا پڑا۔75برسوں میں7جنگیں لڑکر بھی کھڑا رہنا دنیا کی تاریخ میں پاکستان کا کریڈٹ ہے۔
پاکستان کی تقدیر اور جنگوں سے اس کا جڑا ہونا جہاں تعلیم، صحت اور فلاحی ریاست کے بنانے میں رکاوٹ ثابت ہوا وہاںجمہوریت بھی بار بار پٹڑی سے اترتی رہی مگر ایک دوسرے حوالے سے سینٹو اور سیٹو کے جنگی معاہدوں سے ہی پاکستان ایک مضبوط فوج بنانے میں کامیاب ہوا ۔افغانستان اور روس کیخلاف جنگوں میں پاکستان کو جدید ترین اسلحہ اور مالی امداد ملی۔ جنگوں نے جہاں ریاستی نظام کو تلپٹ کیا وہاں صنعت کاری، ڈیمز کی تعمیر ، ترقیاتی کاموں اور عوامی خوشحالی میں بیرونی امداد کا بہت بڑا کردار رہا، اس بیرونی امداد کی وجہ بہرحال پاکستان کی طاقتور فوج اور جنگوں میں اسکی مہارت رہی۔ ماضی کی اس کہانی کے بعد امریکہ ایران جنگ کے پاکستان پر اثرات کا تجزیہ کریں تواس جنگ کے بعد امکانات کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ جنگ بندی سے پاکستان کو دنیا بھر میں وقار ملا ہے اور دوسری طرف پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں اہم ترین فریق کے طور پر انٹری ہوئی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ اور پاکستانی فوج کی مشرقِ وسطیٰ میں تعیناتی پاکستان کی دفاعی اور معاشی صلاحیت کیلئے ایک نئے انجکشن کی صورت بن سکتی ہے۔ پاکستان کے حکمت کاروں نے ملک کے50قیمتی سال افغانستان کے پتھروں میں اسٹرٹیجک گہرائی تلاش کرنے میں ضائع کردئیے ،انسانی جانوں کے ضیاع، وقت کی بربادی اور اپنے بہترین سرمائے کے خرچ کے باوجود افغانستان نے ہماری مغربی سرحد کو کبھی پرسکون نہیں رہنے دیا، افغانستان کے پتھر دل طالبان اور پتھروں سے بھری سنگلاخ زمین سے آئندہ بھی کسی بہتری کی امیدنہیں کہ ان کی خانہ جنگیاں10صدیوں سے جاری ہیں اور آئندہ صدی میںبھی ان کے تھمنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ افغانستان اگر پتھروں کی زمین ہے تو مڈل ایسٹ میں ہیرے بھرے پڑے ہیں۔ پیٹرو ڈالر اور امکانات کی ایک وسیع دنیا ہے جو مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کی پرامن پالیسی کی متلاشی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی بھارت سے دوستی اور دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئے پریشان کن ضرور ہے مگر یہ معاہدہ چلتا نظر نہیں آتا ،اسرائیل اور بھارت سے دوستی چلانا متحدہ عرب امارات کیلئے مشکل ہوگا۔
سچ تو یہ ہے کہ آج کی دنیا جنگوں کی متحمل نہیں ہوسکتی انسانوں، تہذیبوں اورملکوں کو امن اور مل جل کر رہنے کے باعزت راستے تلاش کرنا ہونگے۔ پاکستان تاریخی طور پر ایک تجارتی راہداری رہا ہے، صدیوں سے افغانستان کے راستے سنٹرل ایشیا اور چین تک اس خطے کے تجارتی روابط تھے، مغلیہ دور تک تو افغانستان ہندوستان ہی کا ایک حصہ رہا انگریزوں کی آمد سے افغانستان ایک الگ ملک بنا، اسی طرح جب انگریز گئے تو ایک ہندوستان کے12ممالک بناکرگئے۔ اسکاٹش نژاد سام ڈارلمپل نے اپنی کتابShattered lands میں ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کی برٹش سلطنت عدن سے لیکر پشاور تک پھیلی ہوئی تھی اس کتاب کے مطابق ہندوستان کا وائسرائے ہی آج کے مسقط، آج کے ابوظہبی اور آج کے یمن کا حکمران بھی تھا گویا یہ سب بھی تاریخی طور پر برما کے ساتھ ساتھ کبھی متحدہ ہندوستان کی تہذیب کا حصہ رہے ہیں،حیدرآباد دکن کی فوج کا ایک دستہ عربوں پر مشتمل ہوتا تھا جو عرب سے ہی بھرتی ہوتا تھا اور اسکی تنخواہیں دکن کا نظام ہی دیتا تھا ۔یہ بھی یاد رہے کہ عثمانی سلطنت کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کی بیٹی نیلوفر دکن کے آخری نظام مکرم جاہ سے بیاہی ہوئی تھیں دنیا کے آخری مسلمان خلیفہ نےاپنی وصیت میں مکرم جاہ کو اپناجانشین خلیفہ مقرر کیا تھا۔ گویا ہندوستان کا پوری مسلم دنیا سے تعلق داری اور قرابت داری کاتاریخی رشتہ ہے ۔پاکستان کے مشرق وسطیٰ میں نئے اور طاقتور داخلے سے نہ صرف یہ ٹوٹے ہوئے رابطے اور رشتے بحال ہونگے بلکہ اسرائیلی مظالم اور دباؤ سے تنگ مشرقِ وسطیٰ کو پاکستان کی شکل میں ایک طاقتور حلیف بھی میسر آئیگا اور اگر یہ سب کچھ ہوتا ہے تو ہیروں کی سرزمین مشرق وسطیٰ کے کچھ ہیرے، جواہرات لازماً پاکستان پربھی نچھاورہوں گے۔
