اسمبلی واپس نہ آنے سے عمران کے ساتھ کیا ہاتھ ہو سکتا ہے؟

تحریک انصاف میں قومی اسمبلی سے استعفے واپس لینے کے حامی اراکین اسمبلی کا دھڑا عمران خان کو یہ باور کروانے کو کوشش کر رہا ہے کہ پارلیمنٹ میں واپس نہ جانے کی صورت میں اگلے الیکشن کروانے کے لیے جو نگران حکومت تشکیل دی جائے گی وہ حکمران اتحادی جماعتوں کی مرضی سے بنے گی جس کا نقصان تحریک انصاف کو ہو گا۔
بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح خان نے کہاں سے کتنا مال بنایا؟
یاد رہے کہ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے منحرف دھڑے سے تعلق رکھنے والے راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر رہے ہیں جن سے مشاورت کے بعد نیب کا نیا چئیرمین بھی تعینات کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ راجہ ریاض کو عمران سے بغاوت کرنے کے عوض اگلے الیکشن میں نواز لیگ کا ٹکٹ دینے کی یقین دہانی مل چکی ہے۔ ایسے میں جب اگلے برس نئے لیکشن کروانے کے لیے نگران حکومت کی تشکیل کا وقت آئے گا تو یہ بڑا فیصلہ شہباز شریف اور راجہ ریاض مشاورت سے کریں گے جو کہ آئین اور قانون کے مطابق ہو گا۔ لہذا اس کا سراسر نقصان عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کو ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے استعفوں کی تصدیق کے لیے پیش نہ ہونے کے فیصلے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ لٹکا ہی رہے گا اور استعفے منظور ہو سکیں گے اور نہ ہی نشستیں خالی ہوں گی۔ ایسے میں پارلیمانی کاروائی متاثر ہو گی۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف کی جانب سے مستعفی ہونے والے اراکین کو طلب کیے جانے پر تحریک انصاف نے اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد 123 مستعفی اراکین کے استعفوں کا معاملہ طوالت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی مبصرین اس صورت حال کو پارلیمانی اور جمہوری روایات کے لیے نیک شگون قرار نہیں دیتے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے 11 اپریل کو قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اجتماعی استعفے سپیکر آفس میں جمع کروائے تھے۔ سپیکر راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے اراکین کو اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے 6 جون کو طلب کر رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ استعفوں کی باضابطہ تصدیق، پالیمانی قواعد اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق لازمی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے اراکین کی جانب سے پیش ہوکر تصدیق نہ کرنے کے اعلان کے بعد یہ معاملہ مزید لٹکا رہے گا۔
سینئر قانون دان حامد خان کہتے ہیں کہ قواعد کے مطابق سپیکر کو استعفی دینے والے اراکین کو بلا کر تصدیق کرنا ہو گی اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اسی طریقہ کار پر عمل کر رہا ہے کیونکہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے کہ تحریری استعفے کی تصدیق کیے بغیر استعفیٰ منظور نہ کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی جانب سے استعفوں کی تصدیق کے لیے پیش نہ ہونے کے فیصلے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ لٹکا ہی رہے گا اور استعفے منظور ہو سکیں گے اور نہ ہی نشستیں خالی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں پارلیمانی کاروائی متاثر ہو گی۔ حامد خان نے کہا کہ یہ صورت حال حکومت کے فائدے میں ہے اور وہ یک طرفہ طور پر ہی تمام قانون سازی کر رہی ہے۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ اسمبلی قواعد میں یہ بات شامل ہے کہ اگر کوئی رکن تحریری استعفیٰ دے تو اس کی تصدیق کی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ احتیاط اس وجہ سے رکھی گئی ہے کہ کسی رکن کو مجبور کرکے استعفی نہ لیا جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی بنا پر 2014 میں بھی تحریک انصاف کے اراکین کے استعفے منظور نہیں کیے گئے تھے اور وہ واپس اسمبلی میں آ گئے تھے۔ مجیب الرحمن نے کہا کہ اگر تحریک انصاف بضد ہے کہ استعفے واپس نہیں لے گی تو جا کر استعفوں کی تصدیق کرے۔ بصورت دیگر معاملہ معلق رہے گا اور سیاسی کھینچا تانی جاری رہے گی۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ارکان قومی اسمبلی اپنے استعفے واپس نہیں لیں گے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ’پارٹی کا اپنے ارکان اسمبلی کے استعفے واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘ تاہم اس اعلان کے باوجود سیاسی حلقوں میں اس سوال کی بازگشت سنی جا سکتی ہے کہ آیا تحریک انصاف اراکین قومی اسمبلی میں واپس جائیں گے یا نہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی عمران کو اسمبلی میں آ کر اصلاحات میں کردار ادا کرنے کی پیش کش کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں عدم موجودگی سے حکومت کو قانون سازی اور فیصلہ سازی میں کھلی چھوٹ حاصل ہے جس سے تحریک انصاف کو سیاسی طور پر نقصان ہو گا۔ حامد خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ حکومت یک طرفہ فیصلے کیے جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سپیکر نے تحریک انصاف کے ایک منحرف رکن اسمبلی کو قائد حزب اختلاف بنا دیا ہے جسکی مدد سے چیئرمین نیب اور الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری عمل میں لائی جا رہی ہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو نگران حکومت کا قیام بھی حکومتی جماعتوں کی منشاء سے ہو جائے گا جس کا نقصان تحریک انصاف کو ہو گا۔
مجیب الرحمٰن شامی بھی سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے اسمبلی میں نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو فیصلہ سازی اور قانون سازی میں کھلا ہاتھ ملا ہوا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب جب کہ منحرف اراکین نے اپنا قائد حزب اختلاف بھی منتخب کر لیا ہے تو استعفوں کا معاملہ لٹکا رہنے سے تحریک انصاف کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ استعفے منظور نہ ہونے کے باعث ضمنی الیکشن نہیں ہوں گے اور ممکن ہے کہ سپیکر استعفوں کو اس وقت منظور کریں جب انتخابات قریب آ چکے ہوں اور ان حلقوں میں ضمنی انتخاب نہ ہو سکے۔
