عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ میں مفاہمت کا فارمولا کیا ہو سکتا ہے ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان جن بحرانوں میں گھرا ہوا ہے ان سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ معقولیت پسندی اپنائی جائے تا کہ ریاستی معاملات معمول پر لائے جا سکیں۔  روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ معقول اور معمول دو سگے اور جڑواں بھائی ہیں، اگر معقول بھائی کی صحت، مزاج اور عقل درست کام کر رہی ہو تو معمول بھائی کے معاملات بھی ٹھیک رہتے ہیں۔

سہیل وڑائچ  کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ حالات کو معمول یعنی نارملائزیشن کی طرف لانا ہے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب حکومت، تحریک انصاف اور فوجی قیادت، تینوں معقولیت پسندی سے کام لیں۔ تاہم حال یہ تینوں سیاسی فریق انتہا پسندی، ضد اور انا کا شکار ہیں۔ دنیا بھر میں مصالحت، جنگ بندی اور نارملائزیشن صرف اور صرف لچکدار رویہ اپنا کر ممکن ہوتی ہے، اگر ہر فریق اپنے موقف اور ضد پر اڑا رہے تو حالات کا معمول پر آنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ عمران کے چاہنے والوں کی خواہش ہو یا پھر حالات کو معمول پر لانے کا لازمی تقاضہ، اصل سوال تو یہ ہے کہ خان کی رہائی کے بدلے فوج کو کیا ملے گا؟ جب تک تینوں فریق تھوڑا تھوڑا نقصان برداشت کرنے کا ذہن بنا کر اجتماعی فائدے کا فارمولہ طے نہیں کریں گے، یہ بحران حل نہیں ہوگا۔ سادہ سی بات ہے کہ عمران خان کو رہا کرکے فوج کیوں نئی مصیبت میں پڑے اور اپنے قائم کردہ سیاسی نظام کے لئے خطرات کیوں پیدا کرے؟ شہباز حکومت عمران خان کو ریلیف دے کر اپنی خود کشی کا سامان کیوں پیدا کرے؟ دوسری طرف عمران خان یہ سوچتا ہوگا کہ حکومت اور فوج کے سامنے لچک اپنانے سے اس کا بیانیہ اور مقبولیت متاثر ہو گی۔

سہیل وڑائچ کے بقول بظاہر تینوں فریقین کے دلائل منطقی طور پر درست ہیں اور تینوں کے پاس اپنے اپنے دلائل کا ٹھوس جواز موجود ہے۔ لیکن حسن اتفاق سے اس بڑے بحران کو معقولیت سے معمول پر لانا بہت آسان ہے۔ فارمولہ یہ ہے کہ عمران خان وقتی طور پر موجودہ نظام کو مان کر جلد آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی شرط عائد کر دیں، حکومت کا ایک سال گزر گیا عمران مڈٹرم کا مطالبہ کر دیں۔ ہوسکتا ہے کہ معاملہ تین ساڑھے تین سال بعد انتخابات پر طے ہو جائے، دوسری طرف اگر عمران یہ شرط مان لیتا ہے تو حکومت کو قانونی اور آئینی جواز مل جائے گا، فوج بھی فائدے میں رہے گی کیونکہ اس کے خلاف الزامات لگنا بند ہو جائیں گے۔ اگر ان نکات پر معاملہ طے ہو جائے تو سیاسی ٹمپریچر فوراً معمول پر آ جائے گا۔

لیکن سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں نہ تو معقول بھائی کی کارفرمائی نظر آتی ہے اور نہ معمول بھائی کو ٹکنے کی اجازت ملتی ہے۔ ہمارا سیاسی کارکن انتہاپسند، بے دلیل اور بے صبرا ہے۔ ہمارا مذہبی کارکن شدت پسند اور خود کش بمبار بن چکا ہے، ہماری سیاسی قیادت جھگڑے طے ہی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ مصالحت کی صورت میں اسے اپنے مفادات قربان کرنا پڑتے ہیں۔ آج اگر ہم پاکستان معقول اور معمول بھائی کے حوالے کر دیں تو ہمارے مذہبی، سیاسی اور معاشی مسائل دلیل، عقل اور لچک سے ہی حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ تاہم اصل صورتحال تو یہ ہے کہ معقول بھائی بے چارا ہر محفل میں کونے میں دبکا رہتا ہے کیونکہ وہاں ایک دوسرے سے بڑھ کر غیر معقول اور نامعقول بات کی جاتی ہے۔ اسی لیے وجہ اکثر سیاسی اور مذہبی مجالس جھگڑے اور بدکلامی پر ختم ہوتی ہیں۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں امن اور خوشحالی ہے وہاں معمول بھائی ہی معمولات زندگی چلاتے ہیں۔ دراصل معمول بھائی کو طاقت اور اختیار بھی خود معقول بھائی ہی دیتے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی معقول بھائی رخصت ہو جاتے ہیں، وہاں دلیل و عقل سے ہٹ کر معاملات چلنا شروع ہو جاتے ہیں لہٰذا وہاں سے معمول بھائی بھی خود بخود رخصت ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ایسا معاشرہ نارمل سے ابنارمل ہو جاتا ہے، وہاں سے کوئلوں اور بلبلوں کی سریلی آوازیں رخصت ہو جاتی ہیں اور مردار خور چیلیں اور گدھ چھا جاتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج کی مثال ہی لے لیں، جونہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا، معقولیت ختم ہو گئی لہٰذا معقول بھائی نے اپنا سامان باندھ لیا، اب وہ دن بھی دور نہیں جب معمول بھائی بھی امریکہ سے غائب ہو جائیں گے۔

جیل سے رہائی کے لیے عمران اور اسٹیبلشمنٹ کی ڈیل کا کتنا امکان ہے ؟

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان انتہائی بحرانی صورت حال کا شکار ہے، دہشت گردوں کی افغانستان سے پشت پناہی ہو رہی ہے، بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، سندھ نئی نہریں نکالنے کے فیصلے پر ناراض ہے، خیبر پختون خوا میں فرقہ وارانہ دہشت گردی امن کو تار تار کر رہی ہے، دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے ہمارے نیوکلیئر پروگرام پر بھی بری نظر رکھی جا رہی ہے، ملکی معیشت میں خلیجی ممالک کی طرف سے 50 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے جو دعوے کیے گئے تھے وہ بھی پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔ سیاست عدم استحکام کا شکار ہے، اپوزیشن رہنما جیل میں ہیں، دہشت گردی تک کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔ ایسی صورت حال کا حل یہ ہے کہ پہلے اندرون ملک اپنی صفوں کو متحد کیا جائے، اسکے لیے اپوزیشن سے مذاکرات ضروری ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تینوں فریقوں میں موجود معقول بھائی اور معمول بھائی پہل کریں، اور اپنی جھوٹی انا کے بتوں کو توڑ کر 23 کروڑ پاکستانیوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی طرف قدم بڑھائیں۔ مختصر یہ کہ ہمارے مسائل کا حل معقول بھائی اور معمول بھائی ہیں، ان کے مقابلے میں ضد، انا، غصہ، انتقام اور اقتدار کا نشہ ملکی سالمیت کے لیے نقصان دہ ہے۔ آیئے معقول بھائی اور معمول بھائی کو مضبوط کریں تاکہ ہم سب مضبوط ہو سکیں۔

Back to top button