رمضان میں کھانے کی اشیاء مہنگی ہونے کی اصل وجہ کیا؟

کپتان کے نئے پاکستان میں روز بروز بڑھتی مہنگائی سے عوام شدید پریشان ہیں، لیکن تبدیلی سرکار مہنگائی کے جن کو قابو کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا یے کہ اسکی بڑی وجہ آج سے دو دہائی قبل ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دور میں قیمتوں کو قابو کرنے کا نافذ کردہ نظام ضلعی انتظامیہ سے لے کر عدلیہ کے سپرد کرنا ہے جس سے منافع خور بے قابو ہوگئے، اور پرانے نظام کو لگی اس کاری ضرب سے ملک اب تک باہر نہیں نکل سکا۔
عوام کا کہنا ہے کہ ناجائز منافع خوری کے اس کھیل کی ابتدا عام طور پر علی الصبح مارکیٹ کمیٹیوں سے ہوتی ہے۔ ٹرکوں، ٹرالیوں اور ریڑھوں پر لدی سبزیاں اور پھل رات بھر منڈی میں آڑھیتیوں کے ٹھکانوں پر پہنچتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد مارکیٹ کمیٹیوں کا کردار شروع ہوتا ہے جو کہ نرخوں کا تعین کرتی ہیں۔ قیمت خرید پر دس فیصد منافع تو جائز اور ضروری ہے لیکن مارکیٹ کمیٹیوں کے عہدیداروں کے معاشیات کے اصول مختلف ہیں۔ ان کے ہاں منافع کی شرح عام طور پر تیس فیصد سے شروع ہو کر پچاس فیصد تک اور بعض مخصوص مواقعوں پر اس سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے اور یہی بازار میں مہنگائی کا نکتہ آغاز ہوتا ہے۔
مارکیٹ کمیٹیوں کے نظام اور اسکی تاریخ کو سمجھنے والے بتاتے ہیں کہ انتہاؤں کو چھوتی ہوئی مہنگائی کے موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے اس نظام کی تاریخ اور ماضی میں متعلقہ قوانین میں تبدیلیوں سے آگاہی ناگزیر ہے۔ 2001 تک مارکیٹ کمیٹیوں کا نظام اور بازار میں قیمتیوں کے تعین پر نگرانی کی ذمہ داری براہ راست ضلعی انتظامیہ کے ہاتھ میں تھی لیکن جنرل مشرف نے جب اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے نام پر اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا تو ضلعی انتظامیہ کے اختیارات میں بڑی حد تک کمی واقع ہوگئی کیوں کہ ضلعی انتظامیہ کو حاصل اختیارات ان سے واپس لے کر عدلیہ کے سپرد کر دیے گئے۔ اس طرح پہلے مارکیٹ کمیٹیوں کی نگرانی کے اختیارات جو ضلعی انتظامیہ کے پاس تھے، سول جج کو منتقل ہوگئے اور یہیں سے بحران کا آغاز ہوا۔ یہ بحران اس لیے پیدا ہوا کہ مہنگائی اور منافع خوری پر قابو پانے کے اختیارات عدلیہ کو منتقل ہونے کے بعد مارکیٹ کمیٹیوں والے بے اختیار لوگ بازاروں کی نگرانی کس طرح کریں گے۔ اس سلسلے میں کوئی نیا نظام تیار نہیں کیا گیا جب کہ ضلعی انتظامیہ کے اختیارات میں کمی کے ساتھ ہی پرانے نظام کا خاتمہ ہو گیا۔ نظام کے اس خلا کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2001 سے 2004 تک منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے سدباب کے سلسلے میں کوئی ایک مقدمہ بھی درج نہ کیا جا سکا لہٰذا کسی عدالتی کارروائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ان چار برسوں کے دوران یعنی جنرل مشرف کے دور اقتدار میں ہی یہ خلا اتنا بڑا مسئلہ بن گیا کہ خود ان ہی کے زیر سایہ کام کرنے والی مسلم لیگ ق کی حکومت نے کوڈ آف کرمنل پروسیجر یعنی سی آر سی پی سی میں ترمیم کرکے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے اختیارات کسی حد تک بحال کر دیے لیکن ان کے ساتھ ہی بعض دیگر محکموں کو بھی اس کام کا ذمہ دار بنا دیا گیا جن میں محمکہ زراعت کا ایک شعبہ، محکمہ لائیو اسٹاک، محکمہ ماحولیات، محکمہ خوارک اور بلدیاتی اداروں کے علاوہ خود مارکیٹ کمیٹیاں بھی شامل تھیں۔ اب یہ تمام ادارے اپنے اپنے انداز اور مزاج کے مطابق کام کرتے ہیں۔ تین چار برس کے عرصے میں بازار میں متحرک فورسز کے بے قابو ہو جانے کے تلخ تجربے کے بعد قانون میں تبدیلی ضرور کی گئی جس کے نتیجے میں ایک لولا لنگڑا نظام بھی رفتہ رفتہ وجود میں آ گیا، لیکن اس عرصے کے درمیان میں نظام کا جو خلا پیدا ہوگیا تھا، اس کی وجہ سے مارکیٹ کی نگرانی کرنے والے نئے نظام کی رٹ قائم نہ ہو سکی۔ موجودہ نظام کی اس کمزوری میں کئی دیگر عوامل بھی اہمیت رکھتے ہیں، پرانے نظام کا موجودہ نظام سے موازنہ کرکے انہیں سمجھا جا سکتا ہے۔
اس فرق کے حوالے سے سابق وفاقی سیکرٹری راؤ منظر حیات نے بتایا کہ پرانے نظام کے تحت ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور اسسٹنٹ کمشنر ان معاملات میں کتنے مؤثر تھے، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ اگر وہ مہنگائی کی اطلاع ملنے پر بازار میں نکل پڑتے تو اسکے نتیجے میں قیمتیں عام طور پر پچیس سے تیس فیصد کم ہو جاتیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان افسران کو فوری طور پر جرمانہ کرنے یا جرم کی نوعیت کے پیش نظر گراں فروشوں کو قید کر دینے کا اختیار حاصل تھا۔ یہ ان ہی اختیارات کا نتیجہ تھا کہ سبزی فروش، کریانہ مرچنٹ، قصاب یا ضروریات زندگی فروخت کرنے والا کوئی بھی دکان دار حدود سے تجاوز کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔
راؤ منظر حیات کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ تو ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ نظام نقائص سے مکمل طور پر پاک تھا جس سے بازاروں کا نظم و ضبط برقرار رہتا تھا لیکن یہ دعویٰ ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک فعال نظام تھا کیوں کہ اس نظام کے تحت پولیس کا ادارہ ضلعی انتظامیہ کو جوابدہ تھا اور ضلعی انتظامیہ پولیس کی مدد سے بازاروں کا نظم و ضبط قائم رکھتی تھی۔ 2004 میں سی آر پی سی کے تحت سول انتظامیہ کو کسی حد تک واپس ملنے والے اختیارات سے وہ کمی پوری نہیں ہوئی جو پرانے نظام کے خاتمے سے پیدا ہوئی تھی۔ راؤ منظر حیات کہتے ہیں کہ یہی وہ نظام ہے جس کے بطن سے ریاست کا انتظامی ڈھانچہ برآمد ہوا تھا، اس لیے اس کی تحلیل غیر مناسب تھی۔ اس کے مقابلے میں موجودہ نظام کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ پولیس ضلعی انتظامیہ کے ماتحت نہیں رہی۔ ایک حاضر سروس ڈپٹی کمشنر کہتے ہیں کہ اگر ایسے معاملات میں پولیس ان کے ساتھ تعاون نہ کرے تو وہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ بازار میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور مصنوعی مہنگائی پر قابو پانے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے علاوہ دیگر محکموں کے جو اہلکار کام کرتے ہیں، ان کا رکھ رکھاؤ، چال ڈھال اس اہم ذمہ داری کی ادائی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ دوسرے معنوں میں ان کی چوںکہ تربیت ہی اس کام کےلیے نہیں ہوئی، اس لیے وہ غیر مؤثر رہتے ہیں اور مارکیٹ فورسز ان سے خوف بھی محسوس نہیں کرتیں۔
نئے نظام کی دوسری کمزوری یہ ہے کہ سول انتظامیہ ہو یا دیگر محکموں کے افسران 2001 سے 2004 تک کے خلا کے باعث یہ لوگ اس اہم ذمہ داری کےلیے ماضی کے مقابلے میں کم اہلیت رکھتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ ان کی اہلیت میں اضافے کےلیے حکومت میں فکر مندی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ ایک سینئر بیوروکریٹ کے خیال میں بہت کم اہلکار اپنے کام کو نسبتاً بہتر سمجھتے ہیں اور ان کی کارکردگی دیگر کے مقابلے میں بہتر ہے۔ ان کے مطابق ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی کارکردگی دیگر کے مقابلے میں بہتر ہے، اگرچہ مقدمہ بنانے اور چلانے کی اہلیت ان میں بھی ماضی کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ مسئلے کی ایک اور بڑی وجہ مارکیٹ کمیٹیوں کی تشکیل کا طریقہ کار ہے۔ ان کمیٹیوں میں مارکیٹ فورسز کی نمائندگی تو بڑی مؤثر ہوتی ہے لیکن صارفین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
مارکیٹ کمیٹیوں کی تشکیل کیسے ہوتی ہے، اگر یہ راز سمجھ لیا جائے تو مہنگائی کا پورا مسئلہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ قوانین کے مطابق ان کمیٹیوں کی تشکیل ضلعی انتظامیہ اپنی صوابدید کے مطابق اراکین کی نامزدگی سے کرتی ہے لیکن عملی صورت یہ ہے علاقے کے اراکین پارلیمنٹ اپنے اثر و رسوخ سے ان اراکین کی نامزدگی کراتے ہیں۔ اسی طرح ان کمیٹیوں کے صدور اور سیکرٹریوں کا تقرر بھی ہوتا ہے جو ان منصبوں پر آ کر سرپرستوں یا بیشتر صورتوں میں خود اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
تو کیا صرف اتنی ہی وجہ ہے کہ حکومت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے؟ ناقدین کہتے ہیں کہ صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی سچ یے کہ حکومت اس مسئلے کے حل کی خواہش ہی نہیں رکھتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button