مذہبی جماعتیں حکومتوں کو سرنڈر پر مجبور کیسے کرتی ہیں؟


حکومت وقت نے ایک بار پھر تحریک لبیک کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اس کا بڑا مطالبہ تسلیم کر لیا جس کے بعد کالعدم تنظیم نے بھی ملک گیر جاری احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ تاہم ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا جب حکومت وقت کو پرتشدد مظاہرین اور جھتوں کے سامنے سرنڈر کرنا پڑا ہو۔1977 کی تحریک نظام مصطفی سے لیکر 2008 میں مولانا صوفی محمد سے امن معاہدہ ہو یا نومبر 2017 میں مسلم لیگ نواز کے دور میں تحریک لبیک کادھرنا، ہر بار حکومت کو متشدد مظاہرین کے سامنے سرنگوں کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے کہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے سلسلے میں جاری تحریک لبیک کے مظاہروں اور دھرنوں کے بعد حکومت کو کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے مطالبے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنا پڑ گئی جسکے بعد ٹی ایل پی نے اپنے ملک گیر مظاہرے اور دھرنے ختم کردیے۔ یوں ایک اور مذہبی پریشر گروپ نے ریاست کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مظاہرین کے دباؤ کے تحت کسی حکومت کو اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ گو کہ 1977 میں تحریک نظام مصطفیٰ کے نتیجے میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹنا بھی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی حکومت کے خلاف کامیابی قرار دیا جاتا ہے مگر پاکستان کی حالیہ تاریخ میں بھی اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس طرح کی ایک مثال جولائی 1980 میں اس وقت سامنے آئی جب اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیا الحق نے زکوٰۃ و عشر آرڈنینس جاری کیا جس کے تحت بینکوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اکاونٹ ہولڈرز سے یکم رمضان کو زکوٰۃ کی کٹوتی کریں تو ملک میں کی شیعہ کمیونٹی نے اسے اپنے مسلک کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا۔ مفتی جعفر حسین کی قیادت میں مظاہرین نے وفاقی سیکرٹریٹ کا محاصرہ کرکے بیوروکریسی کو ناکارہ بنا دیا اور کاروبار مملکت روک کر رکھ دیا۔ اس دباؤ کے بعد جنرل ضیا کی حکومت کو مظاہرین کے سامنے جھکنا پڑا اور شیعہ کمیونٹی کو زکوٰۃ کٹوتی سے استثنیٰ دے دیا گیا۔
سنہ 2008 کے انتخابات میں خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی برسر اقتدار آئی۔ مئی 2008 میں عوامی نیشنل پارٹی نے شدت پسندوں کے ساتھ اکیس نکاتی امن معاہدہ کیا مگر وہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا کیونکہ اس دوران دسمبر 2008 تک شدت پسندوں نے سوات کے پچھتر فیصد پر قبضہ کر لیا تھا۔ پھر فوجی آپریشن ’راہ حق ٹو‘ کا آغاز ہوا لیکن سرحد حکومت کی شکایت کے مطابق وہ کوئی زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوسکا۔ چنانچہ شدت پسندوں کے دباو میں آکر صوبائی حکومت نے فروری 2009 میں نفاذ نظام عدل پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مولانا صوفی محمد کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ لیکن مولانا صوفی محمد نے معاہدے کے بعد پاکستان میں رائج نظام اور عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا جس کے بعد یہ معاہدہ ٹوٹ گیا تھا اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
جب سابق وزیراعظم نواز شریف 2013 میں تیسری بار برسراقتدار آئے تو انہوں نے ملک بھر میں جاری دہشت گردی اور بدامنی ختم کرنے کےلیے کالعدم قرار دی جانے والی تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا اعلان کیا۔ حکومت نے ایک مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی جس میں علما بھی شامل تھے۔ کمیٹی نے تحریک طالبان سے مذاکرت کیے اور حکومت کی طرف سیز فائر کے اعلانات بھی کیے گئے، تاہم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد حملے پھر بھی نہ رکے اور ملک بھر میں مذید سینکڑوں معصوم افراد بم دھماکوں اور حملوں میں جاں بحق ہو گئے۔ جس کے بعد جون 2014 میں پاکستان کی مسلح افواج نے وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔ اس کے بعد 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوگیا جس میں سینکڑوں معصوم حکیم طالب علم شہید ہو گے۔ چنانچہ عمومی رائے عامہ بھی مذاکرات کے خلاف ہو گئی جس کے بعد طالبان کو کچلنے کے لئے جاری فوجی آپریشن اور بھی تیز کر دیا گیا۔
نومبر 2017 میں مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں تبدیلی کے خلاف بھی تحریک لبیک اور سنی تحریک نے فیض آباد میں دھرنا دیا جس سے راولپنڈی اسلام آباد میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ 25 نومبر کو حکومت نے دھرنا مظاہرین کو ہٹانے کےلیے پولیس آپریشن کیا جس میں 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، تاہم آپریشن ناکام رہا تھا اور آپریشن کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے اور دھرنے ہونے کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے ورزا کے گھروں پر بھی دھاوا بولا گیا تھا۔ بالآخر نواز حکومت کو مظاہرین کے مطالبات ماننے پڑے اور فوج کی معاونت سے وفاقی حکومت اور دھرنا قائدین کے درمیان 6 نکاتی معاہدہ طے پا گیا۔ اس معاہدے میں آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی بطور ضامن دستخط کیے کیونکہ تحریک لبیک تب بھی انہی کے کہنے میں تھی۔ اس معاہدے کے تحت وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا اور تمام مظاہرین کو رہا کر کے مقدمات ختم کر دیے گئے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ تازہ معاہدے کے بعد تحریک لبیک کے قائد سعد رضوی کی رہائی ہوتی ہے یا نہیں اور ان کی جماعت پر عائد پابندی ختم ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button