آزاد کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی کا اصل حل کیا ہے؟

آزاد کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے تنازع نے ایک بار پھر ریاست کے آئینی، سیاسی اور قومی سلامتی سے جڑے حساس پہلوؤں کو نمایاں کر دیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق یہ معاملہ اب محض ایک مقامی سیاسی اختلاف نہیں رہا بلکہ بلوچستان اور گلگت بلتستان کی طرح ایک نیشنل سکیورٹی ایشو کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ عوامی مطالبات اور آئینی حدود کے درمیان توازن قائم کیے بغیر اس بحران کا پائیدار حل ممکن نہیں۔

خیال رہے کہ آزاد کشمیر ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت، سیاسی جماعتیں اور کئی مبصرین اس مطالبے کو آئینی اور حساس نوعیت کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو بلوچستان اور گلگت بلتستان جیسے معاملات سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے قومی سلامتی سے جڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق کشمیر کا تنازع تاریخی، قانونی اور سفارتی حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت دونوں اس معاملے میں غیر معمولی حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک آزاد کشمیر کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے میں ہونے والی کوئی بھی بڑی تبدیلی صرف مقامی سیاست تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی تناظر پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ابتدا عوامی مسائل، خصوصاً بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمت اور گورننس کے معاملات کے حوالے سے ہوئی تھی۔ انہی عوامی مطالبات کی بنیاد پر کمیٹی نے ماضی میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ تاہم اب جب تحریک آئینی اور سیاسی مطالبات کی طرف بڑھ رہی ہے تو صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کا معاملہ اس وقت تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے موجودہ نظام پر نظرثانی ہونی چاہیے، جبکہ مخالف رائے رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کا تعلق مسئلہ کشمیر کی تاریخی اور قانونی حیثیت سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ آئینی اور بین الاقوامی پہلو بھی رکھتا ہے۔

نجم سیٹھی کا خیال ہے کہ چونکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دباؤ گروپ اور عوامی پلیٹ فارم ہے، اس لیے اسے ایسے آئینی مطالبات پر اصرار نہیں کرنا چاہیے جن کا فیصلہ منتخب اسمبلی اور آئینی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر اس معاملے پر کوئی تبدیلی ممکن ہے تو وہ صرف پارلیمانی اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔انہوں نے سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ سیاسی قیادت کی غیر مؤثر حکمت عملی اور ذمہ داری سے گریز ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں سنجیدگی سے مذاکرات اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں تو بہت سے تنازعات کو شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ عوامی مطالبات اور آئینی تقاضوں کے درمیان ایک متوازن راستہ تلاش کیا جائے۔ بجلی، آٹے اور دیگر عوامی مسائل پر حکومت اور عوامی نمائندوں کو فوری توجہ دینی چاہیے، جبکہ حساس آئینی معاملات کو سیاسی اتفاقِ رائے اور قانونی عمل کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ مبصرین کے بقول آزاد کشمیر اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جذباتی بیانیے، عوامی توقعات اور ریاستی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سیاسی تدبر، مذاکرات اور آئینی راستہ ہی وہ ذریعہ ہو سکتا ہے جو کشیدگی کم کرنے اور ریاستی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد دے۔نجم سیٹھی کےبقول مسئلہ خواہ کتنا ہی حساس کیوں نہ ہو، اس کا پائیدار حل احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے سیاسی ذمہ داری، جمہوری مکالمے اور آئینی عمل میں پوشیدہ ہے۔

Back to top button