فیض حمید کے خلاف اور کن الزامات پر کیسز بنائے جا رہے ہیں ؟

ٹاپ سٹی نامی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک سے اربوں روپے مالیت کی 14 ہزار کنال قیمتی اراضی دباؤ اور دھمکیوں سے اپنے بھائی کے نام کروانے کی کوشش پر کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے خلاف اسی نوعیت کے دیگر کئی کیسوں میں بھی کارروائی کا فیصلہ ہو گیا ہے اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ سینئیر صحافی آفتاب انور کے مطابق فیض حمید کے خلاف اس الزام پر بھی انکوائری شروع کی جا رہی ہے کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کے ٹرائل میں حکومت پاکستان کے سرکاری وکیل سینیئر ایڈوکیٹ اکرم شیخ کے گھر پر بھی ویسا ہی چھاپہ پڑوایا تھا جیسا ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کے گھر پر ڈلوایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تب اکرم شیخ مشرف کے کورٹ ٹرائل کے دوران ہونے والے واقعات کے بارے میں ایک کتاب لکھ رہے تھے جس میں وہ بڑے انکشاف کرنے والے تھے۔ جنرل فیض حمید کے ایما پر مارے جانے والے ڈکیتی نما چھاپے کے دوران نہ صرف اکرم شیخ کی کتاب کا مسودہ چھین لیا گیا بلکہ لوٹ مار بھی کی گئی اور نقدی کے علاوہ قیمتی زیورات بھی غائب کر لیے گے۔ اس کے علاوہ اکرم شیخ اور ان کے بیٹے پر بہیمانہ تشدد بھی کیا گیا جس سے باپ اور بیٹا شدید زخمی ہو گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد کراچی کے ایک عالم دین کے ذریعے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اکرم شیخ کو ملاقات کے لیے بلوایا اور ان سے اظہار افسوس کرتے ہوئے معذرت کی۔ آفتاب انور کے مطابق اس طرح کے اور بہت سارے مقدمات بھی اب کھلنے والے ہیں اور ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کا انتظار کر رہے ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا کہ جنرل فیض حمید کی گرفتاری اور فیلڈ کورٹ مارشل کوئی رسمی کاروائی نہیں بلکہ ایک بڑے آپریشن کا آغاز ہے جس کا بنیادی مقصد فوج میں نفاق پیدا کر کے ملک کو انتشار کا شکار کرنے والے عناصر کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ جیسے ماضی میں وسیع پیمانے پر وسائل خرچ کر کے پراجیکٹ عمران خان کامیاب بنایا گیا تھا، اسی طرح اب پروجیکٹ عمران خان کو لپیٹنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر ایک بڑے آپریشن کا اغاز کر دیا گیا ہے۔ فیض حمید اور انکے ساتھیوں کے خلاف شکنجہ کسے جانے کے بعد یہ خبر بھی آ سکتی ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گے ہیں۔ یاد رہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل ہونے والے کو وعدہ معاف گواہ بن کر مکمل معافی تو نہیں ملتی لیکن اس کی سزا ضرور کم ہو جاتی ہے۔ یوں اگر فیض حمید یا ان کے ساتھی وعدہ معاف گواہ بن جاتے ہیں تو عمران کی بھی باری آ جائے گی اور انہیں فوجی تحویل میں بھی لیا جا سکتا ہے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایک تیر سے کئی شکار کیسے کیے ؟
بتایا جاتا یے کہ جو انکشافات سابقہ ڈپٹی سپریڈنٹ اڈیالہ جیل محمد اکرم نے کیے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیض حمید گرفتاری سے چند روز پہلے تک بھی بانی پی ٹی آئی سے مسلسل رابطے میں تھے اور ان کے چیف منصوبہ ساز کی حیثیت سے عمرانی ایجنڈا اگے بڑھا رہے تھے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتاری کے بعد فیض حمید پر 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں بھی کاروائی شروع ہونے کا امکان ہے۔ فیض پر الزام یے کہ موصوف ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عمران کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کو بغاوت پر اکساتے رہے۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ فیض حمید کے خلاف سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس قتل کا منصوبہ فیض حمید نے ترتیب دیا تھا اور اسی لیے عمران خان نے ارشد کو پاکستان چھوڑ کر باہر چلے جانے کا مشورہ دیا۔ ارش شریف کے قتل کا بنیادی مقصد 2023 میں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری رکوانا اور فیض کو نیا آرمی چیف بنانا تھا۔ منصوبے کے مطابق ارشد کو قتل کروانے کے بعد اسکا الزام شہباز شریف حکومت، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم اور ڈی جی سی جنرل فیصل نصیر پر لگانا تھا۔ اسی لیے ارشد شریف کے قتل کے اگلے ہی روز عمران خان نے فوج پر الزام لگا کر لانگ مارچ کا اعلان کر دیا تھا۔ فیض کے مبینہ منصوبے کے مطابق لانگ مارچ کو پر تشدد تحریک کی صورت دے کر حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس کے علاوہ عمران پر تحریک لبیک کے ایک جنونی کارکن کی جانب سے ہونے والے قاتلانہ حملے کے پیچھے بھی فیض حمید کا ہاتھ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے چونکہ اس واقعے میں کپتان معمولی زخمی ہوئے لیکن وہ عوامی مقبولیت کی آخری حدوں کو چھو گے۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک فیض حمید کی بغل بچہ تنظیم تھی جسے اس نے ہمیشہ حکومت مخالف دھرنوں کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ عمران خان نے اس ناکام قاتلانہ حملے کا الزام جنرل ندیم انجم اور اور جنرل فیصل نصیر پر لگا کر نہ صرف ان کی کردار کشی کی بلکہ ایف آئی آر کٹوا کر انہیں ایک ملزم کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش بھی کی۔ اس کے بعد جنرل فیض حمید کے منصوبے کے مطابق عمران نے جنرل عاصم نصیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی رکوانے کی کوشش کرتے ہوئے راولپنڈی میں لانگ مارچ اور دھرنےکا اعلان بھی کر دیا تھا۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض کے خلاف سنگین ترین کیس 9 مئی کے روز فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کا ہے۔ اس روز فیض حمید نے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے حساس فوجی عمارتوں کی لوکیشنز اور فوجی افسران کے گھروں کے ایڈریسز سوشل میڈیا پر شئیر کروائے۔ لیکن اب 100 سنار کی اور ایک لوہار کی والے محاورے کے عین مطابق فوج میں بغاوت پھیلانے کی سازش کرنے والے دونوں مرکزی کردار، عمران خان اور فیض حمید، گرفتار ہو چکے ہیں اور سزاؤں کے منتظر ہیں۔
