تقسیم میں غلطی کہاں ہوئی؟

تحریر: یاسر پیر زادہ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
سن 1974ء کی ایک شام اٹلی کے شہر نیپلز کے آرٹ سٹوڈیو میں ایک عجیب تماشا ہوا۔ ایک اٹھائیس سالہ فنکارہ، مرینا ابراموویچ، کمرے کے وسط میں بت بن کر کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنے سامنے میز پر 72 مختلف اشیا رکھ دیں۔ ان چیزوں میں گلاب کا پھول، پرندے کا پر، شہد، انگور وغیرہ تھے، مگر ساتھ ہی قینچی، بلیڈ، چھری، کیل تھے اور ایک پستول بھی تھا جس کے ساتھ ایک گولی بھی رکھی تھی۔ دیوار پر ایک اعلان چسپاں تھا کہ اگلے چھ گھنٹے میں آپ ان چیزوں میں سے جو چاہیں اٹھائیں اور میرے ساتھ جو چاہیں کریں، تمام ذمہ داری میری ہو گی۔ گویا اس عورت نے تماشائیوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ آج تمہارا کوئی احتساب نہیں ہو گا۔ پہلے گھنٹے میں لوگ شرمائے شرمائے رہے۔ کسی نے گلاب تھما دیا، کسی نے گال چوم لیا، کسی نے پانی پلا دیا۔ مگر پھر جوں جوں وقت گزرا اور لوگوں کو یقین آتا گیا کہ یہ عورت واقعی مزاحمت نہیں کرے گی اور ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا تو انسانوں کی وہ پرت اترنا شروع ہوئی جسے ہم تہذیب کہتے ہیں۔ کسی نے قینچی سے اس کے کپڑے کاٹ ڈالے، کسی نے بلیڈ سے اس کی گردن پر زخم لگایا، کسی نے گلاب کے کانٹے اس کے پیٹ میں چبھو دیے اور بالآخر ایک صاحب نے پستول میں گولی ڈال کر اس کے ہاتھ میں تھمائی اور ُرخ اُس کی اپنی گردن کی طرف کر دیا۔ اس موقع پر ہال میں موجود چند لوگوں کی غیرت جاگی اور انہوں نے مداخلت کی ورنہ فن کی تاریخ اس شام ایک لاش اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی۔ چھ گھنٹے مکمل ہوئے تو مرینا نے حرکت کی اور تماشائیوں کی طرف چل پڑی۔ مگر وہ لوگ جو چند منٹ پہلے تک اس کے جسم پر بلیڈ چلا رہے تھے، اُس کے آگے بڑھتے ہی ہال سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب تک وہ بے جان شے تھی، سب شیر تھے، جوں ہی وہ دوبارہ انسان بنی، کسی نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کی۔ مرینا نے برسوں بعد اس تجربے کا نچوڑ ایک فقرے میں بیان کیا کہ اگر آپ فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیں تو وہ آپ کو قتل بھی کر سکتے ہیں۔
جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو سوچا کہ آخر ان چھ گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا جس نے انسانوں کو حیوانوں میں بدل دیا۔ نیپلز کے اُس سٹوڈیو میں کوئی جرائم پیشہ لوگ جمع نہیں تھے، یہ فن سے دلچسپی رکھنے والے پڑھے لکھے شائستہ لوگ تھے، وہی لوگ جو گھر جا کر بچوں کو پیار کرتے ہیں، بوڑھی ماں کا حال پوچھتے ہیں اور اتوار کو گرجا گھر میں سر جھکاتے ہیں۔ پھر انہوں نے مرینا کو لہولہان کیوں کر دیا؟ جواب بہت خوفناک ہے۔ اُن چھ گھنٹوں میں صرف ایک چیز تبدیل ہوئی تھی، احتساب کا خوف ختم ہو گیا تھا۔ جس لمحے انسان کو یقین ہو جائے کہ اس سے کوئی نہیں پوچھے گا، اس لمحے اس کے اندر بیٹھا جانور انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ تہذیب دراصل کوئی اندرونی خوبی نہیں، یہ ایک باریک سا خول ہے جو قانون کے ڈنڈے، سماج کی نظر اور خدا کے خوف سے قائم ہے۔ یہ تینوں پہرے دار سو جائیں تو اندر کا قیدی خول سے باہر نکل آتا ہے۔ سائنس دانوں نے یہ تجربہ اپنے انداز میں بھی کیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکی ماہر نفسیات سٹینلے ملگرام نے عام شہریوں سے کہا کہ وہ ایک تجربے کے دوران دوسرے کمرے میں بیٹھے شخص کو غلط جواب پر بجلی کے جھٹکے دیں۔ حکم دینے والا سفید کوٹ پہنے ایک شخص تھا اور بس یہی کافی تھا۔ لوگوں کی اکثریت جھٹکوں کی شدت بڑھاتی چلی گئی حالانکہ دوسری طرف سے چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ چند سال بعد سٹینفرڈ یونیورسٹی میں طلبہ کو قیدی اور جیلر بنا کر ایک نقلی جیل بسائی گئی تو جیلر بنے ہوئے شریف لڑکے چند ہی دنوں میں ایسے ظالم بن گئے کہ تجربہ وقت سے پہلے بند کرنا پڑا۔ ان تجربات پر بعد میں طریقہ کار کے حوالے سے اعتراضات بھی ہوئے، مگر بنیادی سبق وہی رہا جو مرینا کے سٹوڈیو میں ملا تھا۔ ظلم کرنے کیلئے باقاعدہ ظالم ہونے کی سند ضروری نہیں، صرف موقع درکار ہے۔ اور موقع اگر کسی قوم کو اجتماعی طور پر مل جائے تو کیا ہوتا ہے، یہ جاننے کیلئے ہمیں اٹلی جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس سن 47ء ہے۔
بٹوارے کے ہنگام جو کچھ پنجاب اور بنگال میں ہوا وہ انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق پچھتر ہزار سے ایک لاکھ کے قریب عورتیں اغوا ہوئیں، حالانکہ میرا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی کیونکہ بے شمار خاندانوں نے عزت کے خوف سے رپورٹ ہی درج نہیں کروائی اور کچھ ایسی بھی تھیں جو مل تو گئیں مگر اب وہ دوسروں کی ’بیویاں‘ بن کر بچے پیدا کر چکی تھیں، سو اُن بیچاریوں نے جانے سے انکار دیا۔ مگر ان اعداد و شمار سے زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ یہ سب کرنے والے کون تھے۔ یہ کوئی باہر سے آئے ہوئے حملہ آور نہیں تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جو نسلوں سے ایک دوسرے کے پڑوس میں رہ رہے تھے، جن کے بچے اکٹھے کھیلتے تھے، جو ایک دوسرے کی شادیوں میں شامل ہوتے اور جنازوں کو کندھا دیتے تھے۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ غلام غوث نے اپنے یار کرتار سنگھ کی بیٹی اٹھا لی اور کرتار سنگھ کے بھائیوں نے غلام غوث کا محلہ جلا دیا؟ ہوا وہی جو نیپلز کے سٹوڈیو میں ہوا تھا، بس پیمانہ بدل گیا۔ ریاست تحلیل ہو چکی تھی، پولیس اور فوج خود تقسیم ہو رہی تھی، عدالتیں معطل تھیں، حکومت ناپید تھی اور ہر شخص کو یقین تھا کہ اب کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اوپر سےعقائد و نظریات کےجنون نے یہ سہولت بھی فراہم کر دی کہ ظلم کو فرض کا درجہ مل گیا۔ جس شخص کو یقین ہو جائے کہ دوسرے کی بہو بیٹی اٹھانا نہ صرف جرم نہیں بلکہ اپنےمذہب اور اپنی قوم کی خدمت ہے، اس کے ہاتھ کون روک سکتا ہے۔ مرینا کے تماشائیوں کے پاس تو صرف احتساب سے آزادی تھی،47ء کے بلوائیوں کے پاس احتساب سے آزادی کے ساتھ ساتھ ثواب کی امید بھی تھی۔ نتیجہ یہ کہ چھ گھنٹے کا تجربہ چھ مہینوں پر پھیل گیا اور بلیڈ کی جگہ کرپانوں، چھریوں اور جلتی ہوئی مشعلوں نے لے لی۔ منٹو کا افسانہ ’کھول دو‘ یاد آ گیا۔ افسانے کے آخر میں نیم مردہ سکینہ ہسپتال پہنچتی ہے تو ڈاکٹر کھڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کھول دو، اور برسوں کی اذیت کی ماری وہ لڑکی بے ہوشی کے عالم میں اپنے ازار بند کی طرف ہاتھ لے جاتی ہے۔ دنیا کے کسی ادب میں دو لفظوں کا اتنا خوفناک استعمال شاید ہی ہوا ہو۔ تقسیم کے یہ دردناک قصّے، منٹو، کرشن چندر اور بیدی کے لہو ٹپکاتے قلم ہی سے نکل سکتے تھے۔ سن 47ء کا گھاؤ اتنا گہرا ہے کہ سُرخا سُرخ خون کی دھار اب تک بہہ رہی ہے۔
