ڈکی بھائی کے بعد کون کون سے یوٹیوبرز گرفتار ہونےوالے ہیں؟

پاکستان میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز پر آن لائن جوئے کی تشہیر کے الزامات سنگین شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ڈکی بھائی کی گرفتاری کے بعد اب ایف آئی اے نے رجب بٹ اور مسٹر پتلو سمیت متعدد بڑے یوٹیوبرز کے خلاف بھی شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد آنے والے دنوں میں بڑی گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم رجب بٹ سمیت اس مکروہ دھندے میں ملوث متعدد ٹک ٹاکرزگرفتاری کے ڈر سے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ ایف آئی اے نے سرنڈر نہ کرنے والے یوٹیوبرز کو انٹروپول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے سرفراز چوہدری کے مطابق آن لائن جوئے کی ایپس اور ویب سائٹس کی تشہیر کے جرم میں ڈکی بھائی اور رجب بٹ کے ساتھ ساتھ متعدد افراد تحقیقات کی زد میں ہیں۔ ڈکی بھائی کو گرفتار کرنے سے قبل دو مرتبہ نوٹسز جاری کیے گئے تھے،تاہم وہ پیش ہونے سے انکاری رہے جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جبکہ دوسری جانب رجب بٹ کو بھی اس حوالے سے نوٹس بھیجے گئے ہیں، تاہم انکوائری کے آغاز پر ہی وہ ملک چھوڑ گئے تھے۔ سرفراز چوہدری نے واضح کیا کہ رجب بٹ کا نام پی این آئی ایل میں شامل ہے۔ وطن واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا، تاہہ وطن واپس نہ آنے پر انھیں انٹرپول کے ذریعےواپس لایا جائے گا۔ رجب بٹ کے ممکنہ اسائلم لینے کے سوال پر سرفراز چوہدری نے کہا کہ اگر رجب بٹ بیرونِ ملک پناہ حاصل کر لیتے ہیں تو انھیں انٹرپول کے ذریعے واپس لانا ممکن نہیں رہے گا۔ تاہم پوری کوشش ہو گی کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ اس کیس میں مختلف یوٹیوبرز اورخواتین سمیت چھ افراد شامل ہیں جس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ ڈکی بھائی کو نوجوانوں میں جوئے کی ایپس کی تشہیر کرنے کے الزام میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ بیرونِ ملک روانہ ہو رہے تھے۔ ان کی گرفتاری کے بعد اب یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ ریاست سوشل میڈیا ریگولیشن کے معاملے میں کتنا سخت رویہ اپناتی ہے اور کیا ایسے اقدامات سے ڈیجیٹل دنیا میں غیر ذمہ دارانہ رویوں کو واقعی ختم کیا جا سکے گا؟
مبصرین کے مطابق یہ معاملہ صرف انفرادی یوٹیوبرز کا نہیں بلکہ اس سے جڑا بڑا سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کنٹینٹ بنانے والے اپنی ذمہ داری کو کتنا سمجھتے ہیں۔ آن لائن جوئے کی تشہیر دراصل نوجوان نسل کو ایک خطرناک رجحان کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے تاہم یوٹیوبرز تیز تر شہرت اور مالی فائدے کے لیے ایسے اشتہارات قبول کرتے ہیں لیکن ان کے نتائج کا اندازہ نہیں لگاتے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس کارروائی کو محض چند یوٹیوبرز تک محدود رکھا گیا تو اس کے اثرات وقتی ہوں گے، لیکن اگر ریاست تحقیقات کو وسعت دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر موجود بڑے اشتہاری نیٹ ورکس اور ان کے سرپرستوں تک بھی پہنچتی ہے تو یہ معاملہ پاکستان میں ڈیجیٹل کنٹینٹ کی سمت متعین کرنے میں سنگ میل ثابت ہو گا۔
