ایلون مسک سیاسی پارٹی لانچ کرنےکےاعلان سے بھاگ کیوں گئے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹکر دینے کا اعلان کرنے والے ایلون مسک نے اچانک سیاست سے ہی توبہ کر لی۔ امریکہ میں اپنی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کر کے واشنگٹن کی سیاست میں ہلچل مچانے والےدنیا کے امیر ترین  شخص اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک خاموشی سے اس منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے۔ جس کے بعد ماضی کے دوستوں یعنی ٹرمپ اور مسک کے تعلقات میں بہتری کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق مسک کے یوٹرن نے نہ صرف ان کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ مسک کا اعلان یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کاروباری سلطنت میں مشکلات بڑھنے کے بعد مسک اپنی "سیاسی مہم جوئی” کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسک کی سیاسی مہم جوئی محض وقتی جوش تھی؟ کیا واقعی مسک ہمیشہ کیلئے سیاسی کردار سے تائب ہو گئے ہیں؟

خیال رہے کہ رواں برس سابق اتحادی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیکس کٹوتیوں اور اخراجات کے بل پر کھلم کھلا تنازعہ پیدا ہونے کے بعدایلون مسک نے ’امریکہ پارٹی‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا عندیہ دیا تھاتاہم اب وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، مسک نے اپنے قریبی حلقوں میں اعتراف کیا ہے کہ وہ کوئی سیاسی جماعت نہیں بنا رہے وہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے اپنی کمپنیوں پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، مسک نے یہ فیصلہ اپنے قریبی اتحادی اور موجودہ نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ تعلقات بچانے کے لیے کیا۔ مسک کے نزدیک نئی جماعت بنانا وینس کے ساتھ ان کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اسی لیے وہ اپنے کاروبار کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے نئی سیاسی جماعت بنانے کے فیصلے سے پسپائی اختیار کر گئے ہیں۔ مسک کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ نہ صرف مسک نے ٹرمپ کی مخالفت میں نئی سیاسی جماعت بنانے کے فیصلے سے ٰوٹرن لے لیا ہے بلکہ اگر جے ڈی وینس 2028 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو مسک انہیں بھرپور مالی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلی بار نہیں کہ ایلون مسک نے امریکی سیاست میں دلچسپی ظاہر کی ہو۔ انہوں نے 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے، اور ٹرمپ کی صدارت کے ابتدائی دنوں میں اپنا خاصا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا تھا۔ تاہم ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ کے بعد مسک نے اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب ایک بار پھر مسک نے ایک بار پھر یوٹرن لیتے ہوئے سیاسی معاملات بارے محتاط رویہ اپنالیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسک کے لیے اس وقت سیاسی سرگرمیوں سے زیادہ ان کی کمپنیوں کے مسائل اس وقت اہم دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ٹیسلا کے شیئرز رواں سال اب تک 18 فیصد تک گر چکے ہیں، اور جولائی میں کمپنی نے گزشتہ دس سال کا بدترین سہ ماہی سیلز ریکارڈ قائم کیا ہے۔ خود مسک نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے امداد بند کر دیتی ہے تو آنے والے مہینے مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں سرمایہ کار بھی پریشان ہیں کہ آیا مسک اپنی کمپنی کو درکار وقت اور توجہ دے پائیں گے یا نہیں۔ تاہم اب ایلون مسک کے نئی سیاسی جماعت کے قیام کے اعلان سے پیچھے ہٹنے کے بعد ماضی کے دوستوں یعنی ٹرمپ اور مسک کے مابین برف پگھلنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب ایلون مسک نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن ایک مختصر بیان میں یہ ضرور کہا ہے کہ "وال اسٹریٹ جرنل جو بھی کہے، اسے کبھی سچ نہ سمجھا جائے۔” اس کے باوجود مبصرین کے مطابق یہ واضح ہے کہ فی الحال مسک اپنی توانائیاں سیاسی مہم جوئی کے بجائے کاروباری استحکام پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کی غیر متوقع شخصیت کو دیکھتے ہوئے یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں وہ دوبارہ اپنے اس اعلان سے بھی یوٹرن لیتے ہوئے امریکی سیاست میں دوبارہ قدم رکھ سکتے ہیں۔

Back to top button