پنجگور میں اکبر بگٹی شہید کا مجسمہ کس نے غائب کیا؟

بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایئرپورٹ روڈ پر نصب معروف قوم پرست سیاست دان نواب اکبر خان بگٹی شہید کا مجسمہ غائب کر دیا گیا ہے۔ فائبر گلاس سے بنا یہ مجسمہ 15 سال قبل نصب کیا گیا تھا، جس میں نواب اکبر خان بگٹی کو ایک اونٹ پر سوار دکھایا گیا تھا، لیکن اونٹ تو اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہے، لیکن نواب اکبر بگٹی کا مجسمہ غائب کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ بگتی کا مجسمہ اور اونٹ مضبوط فائبر گلاس سے بنائے گے تھے۔
بگتی شہید کا مجسمہ بنانے میں ریزن، جیل کوٹ اور فائبر میٹ استعمال ہوا تھا جسے مختلف سانچوں میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اسے پہلے مٹی میں بنایا گیا، جس کے بعد پلاسٹر سے مولڈ نکال کر اس میں فائبر گلاس لگانے کے عمل سے گزر کر کاسٹ نکالی گئی جسے جوڑ کر مجسمے کی مطلوبہ شکل بنائی گئی تھی۔ تاہم مقامی پولیس ابھی تک پتہ نہیں لگا سکتی کہ اکبر بگٹی شہید کا مجسمہ کس نے غائب کیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ستمبر 2021 میں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے مجسمے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے بعد بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں قوم پرست رہنماﺅں باچا خان اور نواب اکبر خان بگٹی کے مجسموں کو بھی نامعلوم افراد نے سخت نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ بروقت کارروائی کی وجہ سے باچا خان کے مجسمے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تاہم پنجگور میں نواب بگٹی کی اونٹ پر بیٹھے مجسمے کو گرانے کی کوشش کے دوران اسے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اکبر بگٹی کے مجسمے کے سر کو توڑ دیا گیا مگر مجسمے کے بقیہ حصے کو مضبوط ہونے کی وجہ سے حملہ آور توڑ نہ سکے تھے۔
دوسری جانب رابطہ کرنے پر ضلع ہنجگور کی مقامی پولیس نے یہ بھونڈا موقف اختیار کیا مجسمے کو کسی نے نہیں گرایا بلکہ یہ بارشوں کی وجہ سے گر گیا تھا۔ تاہم پولیس اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ کیا بارشوں سے ایسا مجسمہ گر سکتا ہے جو بھاری فائبر سے تیار کیا گیا ہو اور کیا وجہ ہے کہ نواب اکبر بگٹی کا سر بھی غائب ہے۔
اس معاملے پر بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ’کسی کے نظریات سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن کسی کے مجسمے سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘ یاد رہے کہ یہ مجسمہ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد انکے چاہنے والوں کی جانب نصب کیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق نواب صاحب کی شہادت کے بعد انکی شہرت میں ہوشربا اضافہ ہوا اور بلوچستان میں ان کی تصاویر لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ تاہم 2008 کے بعد سے ان تصاویر کو اخبارات کے سٹالز اور کتابوں کی دکانوں سے ہٹا دیا گیا۔ 2013 کے بعد ان سٹالوں سے قوم پرستی کے متعلق کتابیں اور رسائل بھی غائب ہو گئے تھے۔
رانا شمیم حلف نامہ پر قائم، آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
اگرچہ ایک جانب سٹالوں پر بگتی شہید کی تصاویر اور قوم پرستی سے متصل لٹریچر کے خلاف کریک ڈاﺅن ہو رہا تھا لیکن دوسری جانب بلوچستان کے سرحدی ہیڈکوارٹر پنجگور میں بگٹی کا جو مجسمہ نصب کیا گیا تھا اسے ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔ یہ مجسمہ نواب بگٹی کی اس وائرل ہونے والی تصویر پر بنا تھا جس میں وہ اونٹ پر بیٹھ کر پہاڑوں میں سفر کر رہے ہیں۔ یہ تصویر تب بنائی گئی تھی جب 2006 کے اوائل میں فوجی آپریشن میں مارے جانے سے قبل انھوں نے اپنے گھر کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رُخ کیا تھا۔
بتایا جاتا رہا ہے کہ پولیس موقف ہے برعکس جن لوگوں نے مجسمے کو توڑنے اور اسے گرانے کی کوشش کی انھوں نے اس مقصد کے لیے ٹیلیفون کے مضبوط تار استعمال کیے جس کی وجہ سے مجسمہ گر تو نہ سکا لیکن اس کا سر تن سے الگ ہو گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شر پسند لوگ مجسمے کو مکمل طور پر گرا کر نہیں لے جا سکے لیکن اس کا سر ضرور ساتھ لے گئے جبکہ مجسمے کے باقی حصے کو انتظامیہ کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔
نواب بگٹی کے مجسمے کو گرانے سے قبل بلوچستان کے ضلع دکی میں باچا خان کے مجسمے پر مشتمل یادگار کو جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ گذشتہ سال اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایک شخص نے یادگار پر پیٹرول چھڑک کر اس کو جلانے کی کوشش کی تھی لیکن لوگوں نے آگ کو بجھا دیا تھا جس کے باعث یادگار کا نچلا حصہ متاثر ہوا لیکن وہ مکمل طور پر جلا نہیں۔ مقامی انتظامیہ نے ایک شخص عبدالرزاق کو باچا خان کے مجسمے کو جلانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق گرفتارشخص مذہبی شدت پسندی کے نظریات کا حامل تھا۔
باچا خان اورنواب بگٹی کے مجسموں سے قبل بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے مجسمے کو دھماکہ خیزمواد سے اڑایا گیا تھا۔ گوادر میں میرین ڈرائیو پر بنے اس مجسمے کو نامعلوم افراد نے 26 ستمبر 2021 کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا تھا۔ بانی پاکستان کے مجسمے کو اڑانے کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے قبول کی تھی۔ تاہم حکومت نے مجسمے کی جگہ پر دوبارہ مجسمہ نصب کرنے کی بجائے محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ایک یادگار تعمیر کرائی۔
