افغان طالبان کے چھکے چھڑانے والے قیوم خان ملنگ کون ہیں؟

پاکستان سے متصل افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں پر طالبان مخالف ایک نسبتاً غیر معروف مسلح گروہ کے چند گھنٹوں کے قبضے نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس کارروائی کے بعد پہلی بار قیوم خان ملنگ اور ان کے گروہ ’سپاہیانِ میہن‘ کا نام نمایاں ہوا ہے۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چند ہی گھنٹوں میں صورتحال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا، تاہم اس واقعے نے طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیوں اور افغانستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مبصرین کے مطابق افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں طالبان مخالف ایک مسلح گروہ کی کارروائی نے ایک بار پھر ملک میں مزاحمتی سرگرمیوں کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان مخالف گروہ ’سپاہیانِ میہن‘ کے جنگجو چند گھنٹوں کے لیے ضلعی مرکز پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے، تاہم طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ضلع کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا اور صورتحال اب مکمل طور پر معمول پر ہے۔
طالبان حکام کے مطابق حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ضلعی انتظامیہ کے بعض ذمہ داران رخصت پر تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آوروں نے ضلعی مرکز پر دھاوا بولا۔ بعد ازاں سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کر دیا اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا۔
اس کارروائی کے بعد جس شخصیت کا نام سب سے زیادہ سامنے آیا وہ قیوم خان ملنگ ہیں، جن کا اصل نام عبدالقیوم شکارچی بتایا جاتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق وہ بدخشاں کے ضلع یفتل کے علاقے کوہ بالا سے تعلق رکھتے ہیں اور ماضی میں افغانستان کی قومی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے سابق افغان حکومت کے دور میں خصوصی فوجی تربیت حاصل کی اور بعد ازاں امریکی خصوصی دستوں کے ساتھ بھی طالبان کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا۔
جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد قیوم خان ملنگ نے پنجشیر میں احمد مسعود کی قیادت میں قائم قومی مزاحمتی محاذ میں شمولیت اختیار کی اور طالبان مخالف لڑائی میں حصہ لیا۔ بعد میں اختلافات کے باعث انہوں نے اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی اور بدخشاں واپس آ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’سپاہیانِ میہن‘ کے نام سے ایک الگ گروہ تشکیل دیا۔
ذرائع کے مطابق قیوم خان ملنگ نے اس کارروائی سے پہلے بھی مقامی طالبان حکام کو متعدد دھمکی آمیز پیغامات بھیجے تھے۔ ان کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ وہ مطالعے کے شوقین ہیں اور اپنے گروہ کا نام بھی دوستوں کے مشورے سے رکھا۔
سوشل میڈیا پر قیوم خان ملنگ سے منسوب ایک آڈیو پیغام بھی سامنے آیا، جس کی متعدد ذرائع نے تصدیق کی ہے۔ اس پیغام میں انہوں نے طالبان حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد افغانستان میں غربت، بے روزگاری، بنیادی حقوق کی پامالی اور عوامی مشکلات کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک اصل شرمندگی طالبان سے لڑنا نہیں بلکہ افغان عوام کی بدحال زندگی اور انسانی بحران ہے۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت نے اس کارروائی کو محض تشہیر حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان مخالف مختلف گروہ وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں کرتے ہیں، لیکن ان میں سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کی مستقل صلاحیت موجود نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں حملے کے پیچھے ’سپاہیانِ میہن‘ کا کردار سامنے آیا ہے، جبکہ بیرونی حمایت کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ اس حوالے سے حتمی شواہد موجود نہیں۔
بدخشاں پولیس کے مطابق ضلع یفتل میں صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے، نو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز تعینات ہیں اور اس وقت ضلع کا کوئی حصہ طالبان مخالف گروہوں کے قبضے میں نہیں۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ پنجشیر میں قومی مزاحمتی محاذ کی سرگرمیوں میں کمی کے بعد پہلی مرتبہ کسی طالبان مخالف گروہ نے مختصر وقت کے لیے ہی سہی، لیکن کسی ضلعی مرکز پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم موجودہ صورتحال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان حکومت نے فوری کارروائی کے ذریعے علاقے پر دوبارہ کنٹرول قائم کر لیا ہے، جبکہ یہ واقعہ افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت کی موجودہ صلاحیت اور مستقبل کے بارے میں نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
