بیٹری اور UPS کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کیوں؟

پاکستان بھر میں پڑنے والی قیامت خیز گرمی اور ہوشربا مہنگائی کے دوران یو پی ایس اور چارجنگ بیٹریوں کی قیمتوں میں اچانک 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوگیا ہے جس سے عام آدمی کی مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ ایک جانب 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ نے عوام کو یو پی ایس کی خریداری پر مجبور کر دیا ہے، تو دوسری طرف ان کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مارکیٹ سے مال بھی غائب ہو گیا اور خدشہ ہے کہ اسے مزید مہنگے داموں بیچنے کے لئے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

عمران کے کہنے پر فوج مخالف سوشل میڈیا ٹریندز میں کمی

ملک بھر میں چارجنگ بیٹریاں اس طرح چوری چھپے بلیک مارکیٹ میں بیچی جا رہی ہیں جیسے کوئی ممنوعہ کاروبار کیا جا رہا ہو۔ چند ہفتوں میں ہر طرح کے یو پی ایس اور چارجنگ بیٹریوں کی قیمتوں میں 15 سے 25 ہزار روپے تک کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں 40 سال سے بیٹریوں کا کام کرنے والے تاجر شفیع اللہ کی میلوڈی میں واقع دکان پر گاہکوں کا دن بھر تانتا بندھا رہتا ہے، لیکن آجکل وہ بیٹریاں اس طرح فروخت کر رہے ہیں جیسے راشن تقسیم کر رہے ہوں۔ گاہک ڈرے، سہمے اور مودب انداز میں کھڑے ان سے ریٹ پوچھ کر آرڈر دے رہے ہیں اور وہ شانِ بے نیازی سے آرڈر وصول کر رہے ہیں۔ جو گاہک دوسری بار ریٹ پوچھتا ہے اسے ڈانٹ کر دکان سے چلے جانے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ شفیع اللہ نے بتایا کہ اس وقت بیٹریوں کی قلت اور مانگ بہت زیادہ ہے، اس لیے فضول بات چیت کا وقت نہیں، انکا کہنا تھا کہ تیزاب بیچنے والے اس وقت اصل مافیا ہیں لہٰذا وہ بغیر تیزاب ڈالے بیٹریاں فروخت کر رہے ہیں اور گاہکوں سے کہہ رہے ہیں کہ جا کر خود تیزاب خریدو اور ڈالو۔

شفیع اللہ کے بقول ان کی دکان پر دو تین پنکھے اور لائٹیں چلانے کے لیے درکار 180 پاور کی بیٹری 24 سے 30 ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہے، گاہک پریشان اور ناخوش ہونے کے باجود ان سے بیٹریاں خرید بھی رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ چھوٹی بیٹری اور یو پی ایس لگوانے کا خرچ جو گزشتہ سال تک 30 سے 35 ہزار تھا اب 55 سے 60 ہزار تک پہنچ چکا ہے۔
غوری ٹاؤن راولپنڈی سے آئے شہری عبداللہ کے مطابق ان کے گھر میں بجلی نہیں بلکہ سولر سسٹم نصب ہے جس میں بڑی بیٹری لگتی ہے جو 45 ہزار روپے کی ملی ہے، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گھر پر یو پی ایس انسٹال کرانے پر مجبور محمد سلیم نے شکوہ کیا کہ بیٹریاں اور ان کا تیزاب اس وقت بلیک میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں مہنگی بیٹری خریدنے کا تجربہ کرنے والے شہری کے مطابق جب وہ میلوڈی مارکیٹ پہنچے تو وہاں کے مناظر کرونا کی وبائی صورتحال جیسے تھے، چوری چھپے مارکیٹیں کھول کر من پسند قیمتیں وصول کی جا رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عیدالفطر کی چھٹیوں میں 220 امپیئر کی بیٹری 25 ہزار روپے میں خریدی جو اب اسلام آباد کی میلوڈی مارکیٹ میں 40 ہزار روپے سے زائد میں فروخت کی جا رہی ہے۔ راولپنڈی کے کالج روڈ پر موجود تاجر سید سادات علی نے بتایا کہ پاکستان میں 2008 سے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے یو پی ایس گھر گھر پہنچ چکا ہے، پچھلے دنوں کم لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بیٹریاں پڑے پڑے خراب ہو گئی تھیں، اب لوگ نئی بیٹریاں لینے بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں جس وجہ سے مارکیٹ میں قلت پیدا ہو گئی ہے اور قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے بھی بیٹریوں اور دیگر آلات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

Back to top button