نوازشریف اور مریم نوازکی جانیں خطرے میں کیوں ہیں؟

دہشت گرد اور شدت پسند تنظیموں کی جانب سے شریف خاندان کے افراد شدید خطرات کی زد میں ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان اور تحریکِ لبیک کے خلاف جاری کارروائیوں کے بعد شریف خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔ سنگین دھمکیوں کے پیشِ نظر جہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں کی ہدایت پر پولیس نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی جاتی امرا رہائش گاہ پر سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تحریک طالبان اور تحریک لبیک کی جانب سے شریف خاندان کے افراد کو خطرہ ہے۔ مریم نواز اور نواز شریف کو انہیں پرتشدد مذہبی شدت پسندوں کی جانب سے کہیں بھی اور کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد دھماکے اور تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن اور موصولہ دھمکیوں کے تناظر میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور مریم نواز کی رہائش گاہ جاتی امرا کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جاتی امرا کے بیرونی داخلی راستوں کو بلٹ پروف مواد سے مزید محفوظ بنایا جا رہا ہے، جبکہ گھر کے باہر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی جانچ کا عمل بھی جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی ذاتی ہدایت پر ان کے سیکیورٹی سکواڈ میں شامل تمام گاڑیوں کو بھی بلٹ پروف بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاکہ نواز شریف سمیت ان کے ہمراہ سفر کرنے والے سکیورٹی گارڈز کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد ممکنہ خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم پولیس حکام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جاتی امرا میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ تحریکِ لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے بھی اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔ دھمکیوں کے پیش نظر مریم نواز کا سکیورٹی سٹاف بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور پرانے لوگوں کی جگہ نئے افسران کو ذمہ داریاں دے دی گئی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کے خلاف مریدکے کریک ڈاؤن اور اسے کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز اور ان کی کابینہ کے کئی ارکان کو سنگین نوعیت کی فون کالز اور تحریری دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ ان دھمکیوں کی وجہ سے مریم نواز نے اپنی عوامی سرگرمیاں محدود کردی ہیں، اسی تناظر میں انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کے سیکیورٹی آفیسر ایس پی حمزہ امان اللہ کو ایس پی عثمان ٹیپو کی جگہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا نیا چیف سیکیورٹی آفیسر لگا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کو بھی دھمکی آمیز کالز اور پیغامات وصول ہوئے ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کو ریپ اور قتل کی دھمکیاں ملی ہیں، جنکے نتیجے میں خواتین وزرا نے اپنی عوامی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کردی ہے۔ خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق وزیراعلی اور ان کی کابینہ کے اراکین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں ٹی ایل پی کے کارکنوں اور حامیوں کی طرف سے آئی ہیں، جو مریدکے میں 10 اکتوبر کو ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد ہنجاب کی حکومت سے شدید ناراض ہیں۔
پنجاب پولیس سے ہاتھاپائی کی سزا7سال قیدمقررکردی گئی
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ مریم نواز کو ٹی ایل پی کی طرف سے براہ راست خطرات کا سامنا ہے، جس کے بعد ان کی سیکیورٹی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور عوامی جلسوں، میٹنگز اور فیلڈ وزٹس کو کم کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح، سینیئر وزیر مریم اورنگ زیب کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کو ملنے والی دھمکیاں سب سے زیادہ شدید نوعیت کی ہیں، جن میں قتل کی کھلی دھمکی بھی شامل ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور پوسٹس میں انہیں براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے، ٹی ایل پی کے حامی انہیں جھوٹے الزامات لگانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، عظمی بخاری نے ایک انٹرویو میں بھی بتایا ہے کہ تحریک لبیک کی طرف سے انہیں ریپ اور قتل کی دھمکیاں دی جاری ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں ان کی عوامی سرگرمیاں، بشمول پریس بریفنگز اور میڈیا انٹرویوز، نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں، اور ان کی سیکیورٹی میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔
