کچے کے ڈاکوآفرکےباوجودسرنڈرکرنےسےانکاری کیوں؟

سندھ حکومت کی جانب سے عام معافی کے اعلان کو مشروط کرنے کے بعد کچے کے ڈاکو ہتھیار ڈالنے سے انکاری ہو گئے۔ حکومتی اعلان کو دو ہفتے گزرنے کے باوجود ابھی تک ایک بھی ڈاکو نے پولیس کے سامنے سرنڈر نہیں کیا۔ حکام کے مطابق سرنڈر پالیسی عام معافی کا اعلان نہیں، اس لئے ہتھیار ڈالنے اور گرفتاری دینے والے قتل سمیت سنگین وارداتوں میں ملوث ڈکیتوں کو بھی عدالتوں کا سامنا کرنا ہوگا اسی طرح ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کو سرکاری نوکری بھی نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ان کی املاک اور مال و اسباب کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی جائے گی۔ حکومتی پالیسی واضح ہونے کے بعد کچے کے ڈاکوؤں نے سرنڈر کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے تاہم حکام کا دعویٰ ہے کہ سندھ کے کچے کے ڈاکوؤں کے مین پندرہ گروپس کے تقریباً 252 ڈا کو ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی بعض رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ جنہیں جلد ختم کر کے طریقہ کار وضع کر دیا جائے گا جس کے بعد یہ ڈاکو سرنڈر کر دینگے۔
خیال رہےکہ سندھ کے کچے کے علاقے خصوصا ضلع گھوٹکی، کشمور ،سکھر، شکار پور، خیر پور اور لاڑکانہ میں ڈاکو راج ختم کر کے امن و امان قائم کرنے کی پالیسی متعارف کرانے کے حوالے سےگزشتہ تقریبا ایک برس سے غور وفکر کیا جارہا تھا۔ اس سلسلے میں مقتدر حلقوں کو اعتماد میں لینے کے بعد سندھ کابینہ نے 16اکتوبر کو سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کو معافی دینے کا اعلان کیا تھا۔ سرنڈر پالیسی میں واضح کیا گیا تھا کہ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کے ساتھ قانون کے تحت برتاؤ کیا جائے گا۔ کوئی بھی ادارہ ڈاکوؤں کے اہل خانہ کو ہراساں نہیں کر سکے گا اور کچے کے علاقے میں ترقیاتی کام تیز کیے جائیں گے۔ حکومتی اعلان کے باوجود ابھی تک کسی بھی ضلع سے کسی ایک ڈاکو کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں
تاہم پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت سندھ نے ڈاکوؤں کے سرنڈر کرنے کے حوالے سے جو پالیسی متعارف کرائی ہے اس کا مطالبہ مختلف حلقوں کے ذریعے خود ڈاکو ہی کر رہے تھے ۔ کیونکہ بدامنی بڑھ جانے کے بعد اعلی سطح پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ اب بہت کچھ ہو چکا اب کچے میں مزید ڈاکو راج برداشت نہیں کیا جائے گا اس لئے کچے کے ڈاکوؤں کی آماجگاہوں کے ساتھ ساتھ ان کے گاؤں اور دیہات بھی جلائے جائیں گے۔ جس کے بعد مختلف قبائل کے بااثر افراد اور سرداروں نے سیکیورٹی اداروں کے ذمہ داران کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ڈاکو ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔ پولیس ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کے مین پندرہ گروپس ہیں۔ باقی کرمنل افرادان گروپس کے ماتحت مجرمانہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں اور ان گروپس سے تعلق رکھنے والے تقریباً252 ڈاکو ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔ جن میں سے تقریباً 130 کا تعلق لاڑکانہ ڈویژن اور تقریباً 122 ڈاکوؤں کا تعلق سکھر ڈویژن سے ہے۔ ڈاکوؤں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے طریقہ کار پر غور ہورہا ہے۔ جیسے ہی ہتھیار ڈالنے کا طریقہ کار وضع ہو گا۔ بڑی تعداد میں ڈاکو ہتھیار ڈال دینگے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں کے ہتھیار دالنے کے حوالے سے جلد سندھ کے ضلع کشمور میں ایک تقریب منعقد کی جائے۔ جس میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران، متعلقہ قبائلی سرداروں کے سامنے ڈاکو ایک ساتھ ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کریں گے۔ جبکہ دوسری جانب یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ سندھ میں ڈاکوؤں کے سرنڈر کرنے کے حوالے سے ضلعی سطح پر یہ پالیسی بنائی جائے کہ ڈا کو متعلقہ اضلاع کے ایس ایس پیز کے دفاتر میں پیش ہو کر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کریں۔ زرائع کے مطابق اس سلسلے میں کچھ رکاوٹیں سامنے آرہی ہیں جنہیں جلد دور کیا جائے گا۔ تاہم مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ حکموتی دعوؤں کے برعکس سرنڈر پالیسی کے خدوخال سامنے آنے کے بعد کچے کے ڈاکو ہتھیار ڈالنے میں ہچکچا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان کے پاس اس وقت بھاری مالیت کے اسلحے کے ساتھ ساتھ دیگر املاک اور مال و اسباب بھی موجود ہے۔ وہ حکومت سے اپنی املاک کت تحفظ کا تقاضا کر رہے ہیں تاہم حکومت اس وقت انھیں اس حوالے سے کوئی بھی یقین دہانی کروانے سے انکاری ہے جبکہ بعض ذرائع یہ بھی دعوی کر رہے ہیں کہ قتل و غارت، اغوا برائے تاوان اور لوٹ مارکر کے زندگی بسر کرنے والے بعض ڈاکوؤں کے گروپس حکومتی سطح پر بڑے معاشی فوائد حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے سرنڈر کرنے کے بعد ان کے خاندانوں کو حکومت کی جانب سے بھاری معاوضے بھی ادا کیے جائیں تاکہ ان کے خاندان معاشی طور پر بہتر زندگی بسر کریں۔ تاہم حکام نے ایسا کوئی بھی مطالبہ تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے جس کے بعد کچے کے ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
تاہم پولیس حکام کے مطابق کچے کے ڈاکوؤں کے تیغانی اور بڈانی گینگ سے تعلق رکھنے والے کئی ڈاکو ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ان دونوں گینگز کے بدنام زمانہ ڈاکوؤں کے ساتھ دیگر گینگز سے تعلق رکھنے والے ڈاکو ہتھیار ڈالنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔
