حکومت بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کو ائیرپورٹس پر کیوں روکنے لگی؟

پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران ہزاروں ایسے مسافروں کو ائیرپورٹس پر سفر سے روک دیا گیا جن کے پاس بظاہر درست سفری دستاویزات، ویزے اور ٹکٹ موجود تھے۔اس پالیسی نے قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تاہم حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور غیر قانونی ہجرت کے رجحان کو کنٹرول کرنا ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پاکستانیوں سے متعلق کئی افسوسناک واقعات پیش آئے۔ خاص طور پر یونان کے ساحل کے قریب کشتی حادثے کے بعد حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔ اسی تناظر میں ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والے مسافروں کی جانچ پڑتال سخت کر دی اور ہزاروں افراد کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی شخص کو صرف اس خدشے پر سفر سے روکا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو سکتا ہے؟
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب متاثر ہونے والوں میں طلبہ، محنت کش، کاروباری افراد اور وزٹ ویزا رکھنے والے عام شہری بھی شامل ہوں۔ کئی افراد کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس تمام قانونی دستاویزات موجود تھیں لیکن اس کے باوجود انہیں سفر کی اجازت نہیں دی گئی۔شہباز احمد کا واقعہ اس صورتحال کی ایک واضح مثال ہے۔ وہ ترکی کے ذریعے سلووینیا میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ویزا پراسیس مکمل کرنے جا رہے تھے۔ ان کے پاس یونیورسٹی میں داخلے کے کاغذات، واپسی کا ٹکٹ اور ویزا موجود تھا، لیکن پھر بھی انہیں ائیرپورٹ پر روک دیا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں انہیں مالی نقصان، ذہنی دباؤ اور تعلیمی منصوبوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ درست سفری دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو صرف شک کی بنیاد پر سفر سے روکنا آئینی آزادیوں کے منافی ہے۔ ان کے مطابق ریاست کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی ضرور کرنی چاہیے، مگر یہ کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونی چاہیے۔
سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے اور سابق ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کا کہنا ہے کہ کسی بھی مسافر کو صرف اس صورت میں روکا جا سکتا ہے جب اس کی دستاویزات جعلی، مشکوک یا نامکمل ہوں۔ ان کے مطابق یہ ریاستی اداروں کا کام نہیں کہ وہ کسی شخص کے مستقبل کے ارادوں کا اندازہ لگا کر فیصلہ کریں۔قانونی ماہرین مزید نشاندہی کرتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کسی شہری کو بغیر تحریری اور قانونی جواز کے سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس تناظر میں حالیہ آف لوڈنگ پالیسی مزید سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت اور سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے پیچیدہ نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے سخت نگرانی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی ہجرت کے رجحان نے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ سینکڑوں خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچایا ہے۔
معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال کے دور رس اثرات بیرون ملک روزگار کے مواقع پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر منحصر ہے۔ اگر بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد میں یہ خوف پیدا ہو جائے کہ قانونی دستاویزات کے باوجود انہیں سفر سے روکا جا سکتا ہے تو اس کا منفی اثر لیبر ایکسپورٹ اور ترسیلات زر دونوں پر پڑ سکتا ہے۔ مبصرین کے بقول حقیقت یہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اسی کے ساتھ شہریوں کے آئینی حقِ نقل و حرکت کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اصل چیلنج ایک ایسا متوازن نظام قائم کرنا ہے جو غیر قانونی ہجرت کا راستہ روکے، مگر قانونی مسافروں، طلبہ اور محنت کشوں کے خوابوں کو بھی متاثر نہ کرے۔ پاکستان میں جاری آف لوڈنگ کی بحث دراصل سکیورٹی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن تلاش کرنے کی ایک بڑی آزمائش بن چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہی دیکھا جائے گا کہ ریاست اس نازک توازن کو کس حد تک برقرار رکھ پاتی ہے۔
