بجٹ سے قبل سولر پینلزکی قیمتیں کیوں بڑھنے لگیں؟

پاکستان میں مہنگی بجلی، طویل لوڈشیڈنگ اور مسلسل بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں نے عام شہری کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سولر توانائی لاکھوں پاکستانیوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آئی۔ گھروں، دکانوں، دفاتر اور صنعتی یونٹس نے بجلی کے بڑھتے اخراجات سے بچنے کے لیے شمسی توانائی کا رخ کیا اور یوں ملک میں ایک خاموش سولر انقلاب جنم لینے لگا لیکن اب وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل سولر پینلز پر ممکنہ ٹیکس یا سیلز ٹیکس میں اضافے کی افواہوں نے نہ صرف مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے بلکہ ہزاروں ایسے خاندانوں کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جو اپنی جمع پونجی سے سولر سسٹم نصب کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی سمیت متعدد علاقوں میں سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق بعض اقسام کے سولر پینلز کی قیمتوں میں صرف چند دنوں کے دوران پانچ سے سات ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال نے صارفین اور تاجروں دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

سولر انڈسٹری سے وابستہ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ افواہوں، مستقبل کے خدشات اور بعض عناصر کی ذخیرہ اندوزی بھی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب بھی بجٹ سے پہلے کسی نئے ٹیکس یا ڈیوٹی کی خبر گردش کرتی ہے تو مارکیٹ فوری ردعمل دیتی ہے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شروع ہو جاتا ہے۔سولر سیکٹر کے نمائندوں کے مطابق گزشتہ سال بھی درآمدی سولر پینلز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز سامنے آئی تھیں۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ اس اقدام سے مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور پاکستان میں سولر آلات تیار کرنے والی صنعت کو فروغ ملے گا۔ حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ مقامی صنعت کو تحفظ دیے بغیر ملک میں مضبوط صنعتی بنیاد قائم کرنا ممکن نہیں۔

تاہم توانائی کے ماہرین اس معاملے کو صرف صنعتی ترقی کے زاویے سے نہیں دیکھتے۔ ان کے مطابق پاکستان میں سولر توانائی کی تیز رفتار ترقی کی بنیادی وجہ نسبتاً سستے درآمدی سولر پینلز تھے۔ اگر ان پر بھاری ٹیکس عائد کیا جاتا ہے تو اس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

مارکیٹ میں اس وقت سب سے زیادہ سوال یہی پوچھا جا رہا ہے کہ آیا بجٹ کے بعد سولر پینلز مزید مہنگے ہو جائیں گے یا نہیں۔ اسی خدشے کے باعث بہت سے لوگ جلد از جلد خریداری کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بعض خریدار انتظار کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کئی ڈیلرز نے بھی محدود اسٹاک فروخت کرنا شروع کر دیا ہے جس سے بے یقینی مزید بڑھ رہی ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال کاروبار کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ اگر حکومت اپنی پالیسی واضح طور پر سامنے لے آئے تو مارکیٹ میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، لیکن جب افواہیں اور قیاس آرائیاں حقیقت سے زیادہ طاقتور ہو جائیں تو نہ خریدار مطمئن رہتا ہے اور نہ ہی کاروباری طبقہ۔سولر ٹریڈرز کے مطابق اگر درآمدی پینلز پر اضافی ٹیکس عائد کیا گیا تو اس کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر پڑے گا۔ بڑے صنعتی ادارے تو اضافی لاگت برداشت کر سکتے ہیں لیکن وہ خاندان جو کئی ماہ تک بچت کرکے سولر سسٹم لگانے کا خواب دیکھتے ہیں، ان کے لیے یہ اضافی بوجھ ناقابل برداشت ثابت ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں سولر مارکیٹ نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے بعد لاکھوں صارفین نے سولر سسٹمز میں دلچسپی لینا شروع کی۔ اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس رفتار کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

دوسری جانب مقامی مینوفیکچررز کا مؤقف ہے کہ درآمدی مصنوعات پر مکمل انحصار ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت مقامی صنعت کی سرپرستی کرے تو نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان مستقبل میں سولر آلات کی تیاری میں خود کفالت کی جانب بھی بڑھ سکے گا۔ تاہم ماہرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف مقامی صنعت کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری جانب قابل تجدید توانائی کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر پالیسی سازی میں توازن برقرار نہ رکھا گیا تو نہ صرف سولر سیکٹر کی ترقی متاثر ہوگی بلکہ مہنگی بجلی سے نجات کی امید لگائے لاکھوں صارفین بھی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ مبصرین کے بقول وفاقی بجٹ کے حتمی اعلان تک سولر مارکیٹ میں بے یقینی برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم ایک بات واضح ہے کہ سولر توانائی سے متعلق حکومتی فیصلے صرف ایک صنعت کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے توانائی مستقبل، ماحولیاتی اہداف اور کروڑوں شہریوں کے معاشی مفادات سے جڑا ہوا بڑا مسئلہ ہے۔

Back to top button