پی ٹی آئی اور جے یو آئی ف میں اچانک قربتیں کیوں بڑھنے لگیں؟

وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی محاذ آرائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان رابطوں اور ملاقاتوں نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے جے یو آئی (ف) کو حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلانے کی تجویز دے دی ہے، جبکہ دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں آئندہ سیاسی حکمت عملی، احتجاجی لائحہ عمل اور مستقبل کے انتخابی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم جے یو آئی نے فی الحال کسی مشترکہ احتجاج کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مکمل اعتماد کی بحالی کے بعد ہی کسی حتمی فیصلے کا امکان ہوگا۔
وفاقی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی ممکنہ صف بندی کے تناظر میں پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان سیاسی رابطوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے جے یو آئی (ف) کے قائدین، بالخصوص مولانا فضل الرحمان، سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے کی تجویز پیش کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں صرف احتجاجی حکمت عملی ہی نہیں بلکہ آئندہ عام انتخابات، سیاسی تعاون اور اپوزیشن کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے خلاف مؤثر تحریک چلانے کے معاملے پر دونوں جماعتوں میں کافی حد تک ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور متعدد نکات پر اتفاق رائے کے قریب پہنچا جا چکا ہے۔
دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور ملاقاتیں معمول کی سیاسی سرگرمی ہیں، تاہم فی الحال پارٹی نے پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کی حمایت نہیں کی۔ جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مشترکہ احتجاج یا سیاسی اتحاد سے قبل دونوں جماعتوں کے درمیان مکمل اعتماد اور واضح حکمت عملی ضروری ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اگر مستقبل میں کسی مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق ہوتا ہے تو اس کا حتمی فیصلہ مولانا فضل الرحمان ہی کریں گے۔
ادھر پی ٹی آئی کو امید ہے کہ پانچ اگست کو پشاور میں ہونے والے جلسے یا اس سے قبل کیے جانے والے اعلانات کے بعد جے یو آئی کی جانب سے کسی نہ کسی سطح پر تعاون یا حمایت سامنے آ سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع، جن میں چارسدہ، مردان، صوابی، نوشہرہ اور سوات شامل ہیں، وہاں پانچ اگست کے جلسے کے حوالے سے فی الحال غیر معمولی سیاسی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ ذرائع کے مطابق اس کی ایک وجہ عوام کی محدود دلچسپی جبکہ دوسری وجہ خود تحریک انصاف کے کارکنوں کی اپنی قیادت سے ناراضی بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد کارکنوں کا مؤقف ہے کہ احتجاجی تحریک کا مرکز صرف خیبرپختونخوا کے بجائے پنجاب اور خصوصاً اسلام آباد ہونا چاہیے تاکہ حکومت پر زیادہ مؤثر سیاسی دباؤ ڈالا جا سکے۔
دوسری طرف خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے ان تاثر کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پانچ اگست کے جلسے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، پارٹی کارکن صوبے بھر میں متحرک ہیں اور ریلیوں و کارنر میٹنگز میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ جلسہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی تحریک میں ایک اہم اور فیصلہ کن سنگ میل ثابت ہوگا۔
افغانستان عالمی دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ کیسے بنا؟
مجموعی طور پر پاکستان کی سیاسی صورتحال ایک نئے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے، جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مشترکہ حکمت عملی اور احتجاجی اتحاد کے حوالے سے حتمی فیصلے کا انتظار برقرار ہے۔
