پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے مراد سعید کے خلاف بغاوت کیوں کر دی ؟

پی ٹی آئی میں اختلافات کی خلیج ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں میں ابھی صلح کی کوششیں جاری تھیں کہ لمبی روپوشی کے بعد سامنے آنے والے مراد سعید نے احتجاجی مارچ کا اعلان کر کے پارٹی کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے مراد سعید سے بغاوت کر دی۔ پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے روپوش و مفرور رہنما مراد سعید کی احتجاج کی کال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے اور معاملہ عمران خان کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف اس اندرونی تقسیم اور خلفشار کا شکار ہے۔جہاں ایک طرف وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر، عاطف خان، تیمور سلیم جھگڑا اور شہرام ترکئی آمنے سامنے ہیں وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے ہی پارٹی چئیرمین بیرسٹر گوہر کو نشانے پر لیتے ہوئے انھیں اسٹیبلشمنٹ کا اطاعت گزار قرار دے دیا ہے۔ جبکہ رہی سہی کسر مراد سعید نےنکال دی ہے اور پارٹی لیڈر شپ کو اعتماد میں لئے بغیر احتجاجی مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سالوں سے روپوش اور مفرور رہنما مراد سعید نے گزشتہ دنوں اپنے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے احتجاج کی کال دی تھی اور کہا تھا کہ اس بار کے پی سے پیدل قافلہ بھرپور تیاری کے ساتھ اسلام آباد مارچ کرے گا۔
تاہم مراد سعید کے احتجاجی کال بارے خطاب سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے کھل کر اس اعلان پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ مراد سعید نے بغیر اجازت خود ساختہ احتجاج کی کال کیوں دی۔ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی نے مراد سعید کی جانب سے دئیے گئے بیان پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور معاملے پر پارٹی چیئرمین سمیت دیگر رہنماؤں نے معاملہ بانی چیئرمین کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے ، نہ ہی جنگ کر سکتے ہیں۔ ایسا طرز عمل پارٹی کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔پارٹی نے فیصلہ کیا کہ یہ بات بانی چیئرمین عمران خان کے نوٹس میں لائی جائے گی کہ مفرور رہنماوں کی جانب سے کس طرح کا جارحانہ انداز اپنایا جارہا ہے جو پارٹی کے لیے مزید تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اہم ارکان کے مراد سعید کی جانب سے 11؍ اپریل کو سوات میں احتجاجی مارچ کے یکطرفہ اعلان پر شدید تحفظات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ معاملہ جیل میں قید پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کے روبرو اٹھایا جائے گا، وہ ہی فیصلہ کریں گے کہ مراد سعید جیسے سخت گیر پارٹی رہنمائوں کے محاذ آرائی پر مبنی موقف کی حمایت کرنا ہے یا پارٹی کے اعتدال پسند رہنمائوں کی حمایت اور کشیدگی کو کم کرکے ریلیف حاصل کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، حال ہی میں اسلام آباد میں ایک سینئر عہدیدار اور اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے والے امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں نے پارٹی کے بانی چیئرمین پر زور دیا تھا کہ وہ پارٹی کی جارحانہ سوشل میڈیا مہمات پر لگام ڈالیں۔ تاہم، عمران خان کی طرف سے تاحال اس حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں ملا کہ وہ اپنی ڈیجیٹل ٹیموں کو ریاست مخالف بیان بازی کو کم کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی کی سینئر شخصیات بشمول پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی اور سیاسی کمیٹی کے کئی ارکان مراد سعید کی جانب سے قیادت سے مشاورت یا رسمی منظوری کے بغیر احتجاج کی کال دینے کے فیصلے سے خوش نہیں۔
انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے بقول یہ ضروری ہے کہ ایسے فیصلوں کی منظوری عمران خان کی طرف سے آئے کیونکہ ماضی کی جارحانہ پالیسیوں سے پی ٹی آئی کو فائدہ کم لیکن نقصان زیادہ ہوا ہے جبکہ ماضی کے احتجاجی مارچ اور ریلیوں سے جیل میں قید پی ٹی آئی قیادت پر دبائو بڑھا ہے۔
عمران خفیہ مذاکرات کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے کیا منوانا چاہتے ہیں ؟
انصار عباسی کے بقول پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم حامی جو کسی نہ کسی طرح اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان مفاہمت اور ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں ان کے جذبات یہ ہیں کہ تصادم کی بجائے بات چیت اور مذاکرات کی طرف بڑھا جائے۔ پی ٹی آئی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جارحانہ پالیسیوں کے باوجود پی ٹی آئی قیادت کی توقعات کے مطابق عمران خان کی رہائی بارے عالمی دبائو آیا اور نہ جارحانہ سیاست سے پی ٹی آئی قیادت کو کوئی راحت ملی، مذاکرات کی حامی پی ٹی آئی قیادت کا ماننا ہے کہ عدلیہ وہ کام نہیں کر سکتی جس کی انھیں امید تھی، اس صورتحال میں مذاکرات ہی بہترین آپشن ہے لیکن متحارب سوشل میڈیا کی موجودگی میں ایسے مذاکراتی عمل کی کامیابی ممکن نہیں۔
