کیا عمران کی پاکستان پر امریکی پابندیوں کی خواہش پوری ہو گی ؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ عاشقان عمران خان نے اپنے کپتان کی رہائی کے لیے صدر ٹرمپ سے لگی امیدیں پوری نہ ہونے کے بعد اب امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کردہ ایک بل کو اپنی امیدوں کا مرکز بنا لیا ہے جس میں پاکستان پر مختلف پابندیاں لگانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

اپنی تازہ تحریر میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عاشقان عمران خان مصر ہیں کہ امریکی کانگرس کے رکن  جو ولسن نے جو بل متعارف کرایا ہے وہ جلد ہی ایک قانون کی صورت اختیار کرلے گا۔ اس کے بعد ہماری فوج کے کلیدی جرنیل امریکہ جانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ان پر کئی نوعیت کی پابندیاں لگ جائیں گی اور وہ عمران خان کو رہا کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ میں عاشقان عمران خان کے دعوے دیکھتا، پڑھتا اور سنتا ہوں تو خیال آتا ہے معاشی ہیجان کے موجودہ عالم میں جبکہ چین، جاپان، سنگا پور اور تائیوان جیسی مضبوط منڈیوں کے سٹاک ایکسچینج بھی ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے کریش کر چکے ہیں تو امریکی عوام اپنے نمائندوں سے ٹرمپ کی پالیسیوں بارے سوالات پوچھیں گے یا عمران کی جیل سے فی الفور رہائی کا مطالبہ کریں گے۔

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کو بدلنے میں امریکہ یقینا اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور اسی لیے عمران کے عاشقان نے اب بھی اسی سے عمران کی رہائی کی امیدیں لگائی ہوئی ہیں۔ یہ کہانی 1950ء کی دہائی سے شروع ہوگئی تھی۔ کپتان کے ’’پچاری‘‘ مصر ہیں کہ ان کی حکومت کو بائیڈن انتظامیہ نے روسی صدر پوٹن کے ساتھ ملاقات سے خفا ہو کر ’’میر جعفروں‘‘ کی مدد سے برطرف کیا تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہوئی تھی جس کے نتیجے میں خان فارغ ہوا تھا۔ برطرف ہونے کے بعد عمران خان شہر شہر گئے اور عوامی جلسوں سے خطاب میں امریکہ میں پاکستانی سفیر کی جانب سے بھیجے گے ’’سائفر‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ’’ہم کوئی غلام ہیں‘‘ کے نعرے بلند کرتے رہے۔ خان نے الزام لگایا کہ انہیں نکالنے کی سازش امریکہ نے تیار کی تھی۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ 1970 کی دہائی میں میری نسل کی جوانی بھی ’’امریکی سامراج‘‘ کے خلاف نعرے لگانے اور پولیس کی لاٹھیاں کھانے کی نذر ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود جوانی سے بڑھاپے کی طرف بڑھتے ہوئے امریکہ کی کامل معاونت کے ساتھ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے لگائے مارشل لاء بھگتے۔ لیکن عمر کے آخری حصے میں پہنچ کر دریافت ہوا کہ امریکہ کے ساتھ ہماری اشرافیہ کا ’’ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میر ہوئے، تیری زلفوں کے سبھی اسیر ہوئے‘‘ والا گہرا معاملہ ہے۔ بدقسمتی سے وسوسے تب درست ثابت ہوئے جب بائیڈن انتظامیہ ہی کے دوران امریکہ میں مقیم عاشقان عمران کی کاوشوں سے وہاں کی ایوان نمائندگان کی بھاری بھر کم تعداد نے نظر بظاہر ’’امریکی سازشوں‘‘کی بدولت عمران خان کی حمایت میں ایک قرارداد منظور کی اور ان کے لئے ’’انصاف‘‘ اور بہتر سلوک کا مطالبہ کیا۔ جب صدر بائیڈن نے اس قرارداد کو توجہ کے قابل ہی نہ گردانا تو امریکہ میں مقیم عاشقان عمران نے ان کے مخالف ٹرمپ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے مجھ جیسے جاہل پاکستانیوں کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش ہوئی کہ اس کی سابقہ صدارت کے دوران عمران بطور وزیر اعظم وائٹ ہائوس گئے تھے جہاں انہیں ٹرمپ ایوان صدر کے اس حصے میں بھی لے گیا جو خاندان کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس حصے میں ٹرمپ کی اہلیہ نے بڑے چائو سے خان کے ساتھ سیلفی کھچوائی۔ بات فقط اس ملاقات تک ہی محدود نہ رہی۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹرمپ نہایت سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ امریکی ڈیپ سٹیٹ ان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتی ہے۔ وہ 2020 کا الیکشن بھی جیت گیا تھا لیکن ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ نے بائیڈن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ لہازا عاشقان عمران سنجیدگی سے یہ سوچتے تھے کہ ’’ڈیپ سٹیٹ‘‘ کے ہاتھوں زخمی اور ناراض ہونے والا ٹرمپ اپنے دوست عمران کو بھی اپنے جیسا سیاست دان سمجھتا ہے جسے ’’میر جعفر‘‘ چلنے نہیں دیتے۔  قوم یوتھ کا موقف تھا کہ پاکستان میں عمران کے علاوہ ٹرمپ کسی اور سیاستدان کو ویسے بھی نہیں جانتا لہٰذا وہ اقتدار میں آیا تو خان پر ’’مزید ظلم‘‘ نہیں ہونے دے گا۔ انہیں یقین تھا کہ ٹرمپ عمران کو جیل سے نکلوانے کے لئے دبائو ڈالے گا۔

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ میں مفاہمت کا فارمولا کیا ہو سکتا ہے ؟

لیکن نصرت جاوید یاد دلاتے ہیں کہ ٹرمپ کو اقتدار سنبھالے اب چوتھا مہینہ شروع ہے۔ لیکن عاشقان خان کی توقع کے مطابق اس نے ابھی تک پاکستان فون نہیں کیا۔ البتہ گزشتہ ماہ امریکی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے پاکستانی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا جس نے داعش سے تعلق رکھنے والے ایک اہم دہشت گرد کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کیا ہے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیر خارجہ سے طویل گفتگو ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک نے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر باہم تعاون آگے بڑھانے کے حوالے سے عہد و پیمان کیے ہیں۔ اس گفتگو کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز پر غور کریں تو میرے ذہن میں ایک پرانی فلم میں شمیم آراء پر فلمایا گانا ’’یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے‘‘ گونجنا شروع ہو جاتا یے۔

Back to top button