عدلیہ کو یرغمال بنانے والے آزاد عدلیہ کے نعرے کیوں لگانے لگے ؟

 

 

 

آج کل پاکستان میں عدلیہ کی آزادی کے نعرے وہ لوگ لگا رہے ہیں جنہوں نے ماضی قریب میں پورے عدالتی نظام کو عمرانی فیض کے تحت یرغمال بنا رکھا تھا۔ لیکن آج عدلیہ کی آزادی کا رونا رونے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عدلیہ آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ آئین کی پابند بھی ہوتی ہے، وہ شتر بے مہار نہیں ہوتی۔ جج صاحبان کو آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوتے ہیں، وہ اپنے ضمیر کی آڑ میں نظریہ ضرورت کے تحت مقننہ اور انتظامیہ کو دیوار سے نہیں لگا سکتے۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وطن عزیز میں ایک بار پھر عدلیہ کی آزادی کی مہم چلائی جارہی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور، وکلا تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی درخواستوں پر سماعت کا سلسلہ جاری ہے۔آئینی بنچ سے یہ فرمائش کی جارہی ہے کہ چونکہ یہاں مسند نشین جج صاحبان 26ویں ترمین کے بینیفشری ہیں اس لیے وہ یہ کیس نہ سنیں اور اکتوبر 2024ء سے پہلے سپریم کورٹ میں جو 16عمراندار جج خدمات سرانجام دے رہے تھے، وہ انصاف فراہم کریں۔

 

لیکن آئینی بنچ کے نزدیک یہ مطالبہ ”انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند“جیسا ہے۔ آئینی بنچ کا اصرار یہ رہا ہے کہ آرٹیکل 191 اے کی ذیلی شق 3 کے تحت ماسوائے آئینی بنچ کے کسی اور بنچ کو آئینی معاملات کی سماعت کا اختیار نہیں تو یہ معاملہ کسی اور بنچ کے سپرد کیسے کردیا جائے؟یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا آپ آئینی بنچ کو غیر آئینی سمجھتے ہیں؟ اس پر اکرم شیخ ایڈوکیٹ نے فرمایا، مجھ پر تو یزید کی بیعت لازم نہیں۔حسین ؓ سے دوستی،یزید کو بھی سلام،میں تو یہ نہیں کر سکتا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں کب کسے یزید قرار دے دیا جائے،کچھ کہہ نہیں سکتے۔

 

بلال غوری کہتے ہیں کہ آئینی بنچ کے سامنے دلائل دینے کے بعد میری اکرم شیخ ایڈوکیٹ سے تفصیلی ملاقات ہوئی تو ان سے استفسار کیا کہ آپ کو کس بات پر اعتراض ہے، آپ کو کیوں یہ لگتا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی سلب کرلی گئی ہے؟ کیا آپ کو آرٹیکل 175 اے کے تحت ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار سے اختلاف ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے سینئر موسٹ جج کی بجائے سنیارٹی میں سرفہرست تین ججوں میں سے کسی کو ایک چیف جسٹس بنانا غلط ہے؟کیا آرٹیکل 191 اے کے تحت آئینی بنچوں کی تشکیل سے عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑگئی ہے؟ 184(3) کے تحت حاصل اختیارات جنہیں انتظامی معاملات میں مداخلت کیلئے استعمال کیا جارہا تھا،ان کو محدود کر دینے سے مسئلہ ہے یا پھر بنچ فکسنگ ختم ہوجانے اور چیف جسٹس کے اختیارات کم کردینے پر شکایت ہے؟

 

اکرم شیخ ایڈوکیٹ ماضی میں بیشمار مواقع پر زیر عتاب رہے۔ انہی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ جناب چیف جسٹس،جسٹس سجاد علی شاہ نے ایسے اشخاص کو جج تعینات کردیا جنہوں نے کبھی عدالت کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے ایک مضمون لکھا تو توہین عدالت کا نوٹس مل گیا۔ اکرم شیخ ایڈوکیٹ نے نامساعد حالات کا سامنا کرنے کیلئے اپنے ساتھی وکلا کی تائید و حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں بطور امیدوار سامنے آگئے۔وکلا نے انہیں واضح اکثریت سے صدر منتخب کرلیا تو ایک نیا مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان نومنتخب صدر سے حلف لینے سے گریزاں تھے اور انکا موقف تھا کہ توہین عدالت کا مرتکب شخص سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر نہیں بن سکتا۔جسٹس سجاد علی شاہ نے اکرم شیخ ایڈوکیٹ کو کہا،آپ نوازشریف کے بندے ہیں۔لیکن چیف جسٹس کو یقین دلایا گیا کہ جب بھی عدلیہ کی آزادی پر حرف آئے گا وکلا آپ کے ساتھ کھڑے ہونگے۔اور پھر جب انسداد دہشتگردی کی عدالتیں بنانے کے فیصلے پر وزیراعظم نوازشریف اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان ٹھن گئی تو سب سے پہلے اکرم شیخ ایڈوکیٹ سڑکوں پر نکلے۔

کیا افغان حکومت طالبان کی سرپرستی چھوڑنے والی ہے؟

بلال غوری کہتے ہیں کہ میں نے اکرم شیخ سے پوچھا کہ جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس ثاقب نثار کے ادوار میں جوڈیشل ایکٹو اِزم کے نام پر جو کچھ ہوا، کیا اسکا راستہ روکنا ضروری نہیں تھا؟ پاکستان میں ایک سول جج کی بھرتی کیلئے باقاعدہ تحریری امتحان ہوتا ہے،انٹرویو کے ذریعے جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے مگر ہائیکورٹ کا جج لگانا ہو تو کوئی طریقہ کار نہیں،کیا اس حوالے سے اصلاحات ضروری نہیں؟ اکرم شیخ ایڈوکیٹ نے بتایا کہ امریکہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کو صدر تعینات کرتا ہے،کچھ ریاستوں میں ججوں کا باقاعدہ انتخاب ہوتا ہے۔نامزد جج کانگرس اور سینیٹ کے سامنے پیش ہوتے ہیں،منتخب عوامی نمائندے ایسے سوال جواب کرتے ہیں کہ بعض اُمیدوار تو اس پیشی کے خوف سے راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں اور اپنا نام واپس لے لیتے ہیں۔لیکن یہاں پاکستان میں ججوں کی تعیناتی کیلئے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کے 13 ارکان میں سے 4 ارکان پارلیمنٹ کی موجودگی بھی انہیں ناگوار گزرتی ہے اور لگتا ہے کہ عدلیہ کی آزادی چھینی جارہی ہے۔اکرم شیخ ایڈوکیٹ عدالتی نظام میں اصلاحات کے تو قائل ہیں مگر ان کا اصرار ہے کہ آئینی ترمیم آخری حل ہوا کرتی ہے۔بقول انکے ڈکٹیٹروں نے بھی عدلیہ کی آزادی پر اتنا مہلک وار نہیں کیا۔وہ پی سی او جاری کیا کرتے تھے مگر ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے والوں کے پاس یہ آپشن ہوتی تھی کہ حلف نہ لیں اور گھر چلے جائیں مگر موجودہ حکمرانوں نے تو یہ راستہ بھی نہیں چھوڑا۔

 

اکرم شیخ موجودہ حکومت کے عہد شباب میں جینے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ ”جینے والو!تمہیں ہوا کیا ہے“لیکن ہم نے منصفوں کے عہد شباب میں بھی جی کر دیکھا ہے۔عدالتی آمریت کا مزہ بھی چکھ کر دیکھا ہے۔عدلیہ آزاد ہومگر دستورکی پابند ہو،شتر بے مہار نہ ہو۔جج صاحبان آئین و قانون کے مطابق فیصلے کریں،اپنے ضمیر کی آڑ میں نظریہ ضرورت کےتحت مقننہ اور انتظامیہ کو دیوار سے نہ لگائیں۔

 

Back to top button