ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟کیا ان سے بچاؤ ممکن ہے؟

پانی میں ڈوبنا، جنگل میں سرپٹ دوڑنا، کسی خونخوار جانور سے جان بچانے کی کوشش یا مافوق الفطرت چیزیں دکھائی دینے کے علاوہ اور بھی بہت سے مناظر ہو سکتے ہیں جو اکثر لوگوں کو خواب میں نظر آتے ہیں اور جاگنے پر بھی انسان بے چینی اور خوف محسوس کرتا ہے اور اکثر لوگ یہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ایسے خواب آخر آتے ہی کیوں ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے خواب کسی بھی عمر کے فرد کو آ سکتے ہیں۔ یہ زیادہ تر ’ریپڈ آئی موومنٹ‘ کے دوران آتے ہیں۔تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ریپڈ آئی موومنٹ کیا ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ نیند کا وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں زیادہ تر ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے ہیں۔ اس مرحلے میں سونے والے کی سانس کی رفتار، دل کی دھڑکن اور فشار خون بڑھ جاتا ہے جبکہ آنکھیں بند ہونے کے باوجود تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ اس دوران پٹھے، بازو اور ٹانگیں عارضی طور پر بے حرکت ہو جاتی ہیں۔ڈراؤنے خواب عام خوابوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں کیونکہ عام خوابوں میں جسمانی اور جذباتی معاملات قدرے معمول پر رہتے ہیں اور یہ زیادہ تر حقیقت اور خیالات پر مبنی ہوتے ہیں۔اگرچہ ڈراؤنے خوابوں کے معاملے کو ابھی پوری طرح سمجھا نہیں جا سکا ہے تاہم زیادہ تر ان کا تعلق نفسیاتی معاملات سے ہوتا ہے جیسے اضطراب، دباؤ، خوف اور ٹراما وغیرہ، جبکہ اس کی وجہ زندگی گزارنے کا انداز بھی بتائی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسے خواب دباؤ اور اضطراب کی وجہ سے آتے ہیں۔ جب دماغ میں کثرت سے منفی خیالات اور تفکرات موجود ہوں تو وہ نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں اور معاملہ ڈراؤنے خوابوں کی طرف چلا جاتا ہے۔اسی طرح اعصابی دباؤ جسم میں کورٹیسول اور اینڈرینالائن جیسے ہارمونز بڑھنے کا باعث بنتا ہے اور یہ صورت حال ڈراؤنے خوابوں کی وجہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وہ لوگ جو کسی شدید صدمے گزرے ہوں ان کو بھی خوفناک خواب زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ صدمے کی کیفیت دماغ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے جس پر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اکثر اوقات یہ صورت حال گزری تلخ یادوں کے ساتھ مل کر خوفناک خواب بن جایا کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر نیند ایک وقت پر لی جائے تو بھی برے خواب آ سکتے ہیں جو لوگ مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور کبھی دن، کبھی شام اور کبھی رات کے آخری پہر میں جا کر سوتے ہیں ان کو ڈراؤنے خواب آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ضرورت سے کم نیند لینے والے بھی ڈراؤنے خوابوں کی گرفت میں آتے ہیں اس سے دماغ کی وہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے جو عام خوابوں کی وجہ ہوتی ہے اسی طرح کم نیند کے ساتھ جب دیگر دباؤ بھی شامل ہوتے ہیں تو برے خواب آتے ہیں۔
تاہم یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی صورتحال سے چھٹکارا ممکن ہے؟ماہرین کہتے ہیں کہ اعصابی دباؤ کو کم کرنے اور فشار خون کو معمول پر رکھنے والی ادویات لینے سے ایسے خوابوں سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ ادویات دماغ میں موجود نیورو ٹرانسمیٹرز کو بہتر کر سکتی ہیں جن کا نیند اور خوابوں سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب نیند لی جائے، اعصابی دباؤ اور اضطراب کو قابو میں رکھا جائے۔ کیفین پر مشتمل اشیا کے استعمال کو حدود میں رکھا جائے، سونے سے قبل زیادہ کھانے سے گریز کیا جائے اور آرام دہ حالات اور مقام پر سویا جائے تو ڈراؤنے خوابوں
سے بچا جا سکتا ہے۔
