پاکستانی اپوزیشن جماعتیں فون کالز پر کیوں چلتی ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ ان کا سامنا ایک ایسی اپوزیشن کے ساتھ ہے جو حکومت گرانے کی سکت نہیں کیونکہ وہ ٹیلیفون کالز پر چلتی ہے، اور ویسے بھی ابھی کپتان کے فون سگنلز اتنے خراب نہیں ہوئے کہ لائن کٹ جائے۔

اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں، خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے ’’پرزے‘‘… مگر پھر کال آ گئی اور تماشہ نہ ہوا۔ انکا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی راہ داریوں میں ’’سیاسی گپ‘‘ کے دوران سب سے زیادہ باتیں ’’تحریک عدم اعتماد‘‘ کی ہو رہی ہیں لیکن اگر نامعلوم فون کال آگئی تو یہ معاملہ بھی رک جائے گا۔ مظہر کہتے ہیں کہ ’’منی بجٹ‘‘ پاس ہونا ہی تھا مگر دلچسپ امر یہ رہا کہ جسے شکست ہوئی اس کے چہر ے پر مسکراہٹ تھی اور جسے فتح حاصل ہوئی وہاں پریشانی نمایاں تھی۔

کہا جارہا ہے کہ یہ بجٹ بھی نامعلوم فون کالز کے بعد پاس ہونے دیا گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دونوں طرف ’’حکومت اور اپوزیشن‘‘ اراکین کی سب مشکل ایک نامعلوم کال نے آسان کردی۔ جنہوں نے آستینیں چڑھا لی تھیں اور غصے میں تھے انہوں نے آستینیں نیچے کر کے بٹن بھی لگا لیے۔ لہذا میں اس سوچ میں ہوں کہ جو سیاست دان ایک فون کال پر ڈھیر ہو جاتے ہیں، وہ سیاست کیا خاک کریں گے۔ اس سلسلے میں دو مزے کے واقعات آپ کو سناتا چلوں۔

مظہر بتاتے ہیں کہ یہ پچھلے سال کی بات ہے جب تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) میں کافی کشیدگی چل رہی تھی۔ ایک دن عمران خان نے حکمراں اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ کو ڈنر کی دعوت دی تو اسی روز ق لیگ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر جمشید چیمہ نے بھی اراکین کو ڈنر پر بلالیا جس میں کچھ اپوزیشن کے لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ اتحادیوں میں سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی نے مجھے فون کیا اورمکہا ’’یار مظہر، یہ بتاؤ معاملہ کتنا گڑبڑ ہے۔

دعوت دونوں طرف سے ہے‘‘۔ میں نے ازراہ مذاق کہا، ’’کال کرکے پوچھ لو دوستوں کو اعتراض تو نہیں‘‘۔ تھوڑی دیر بعد اس کا دوبارہ فون آیا، اور وہ بولا ’’دوستوں سے بات ہوئی یے اور انہوں نے کہا ہے کہ آپ دونوں جگہ جاسکتے ہیں‘‘۔ یہ سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی کہ میں نے تو ایک جملہ پھینکا تھا اور اس نے کیچ کرلیا۔

مظہر کے بقول دوسرا قصہ ذرا سنجیدہ سا ہے اور اس کا تعلق بھی بلوچستان سے ہی ہے۔ جب پچھلے سال سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ بننے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے تھی کیونکہ اپوزیشن کی واضح اکثریت تھی، مگر جس طرح BAP بنی تھی، باپ رے باپ، تو کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ مظہر کے بقول میں نے اپنے یونیورسٹی کے زمانے کے دوست میر حاصل بزنجو کو ووٹنگ سے ایک روز پہلے فون کیا تو کہنے لگا، ’’یار ابھی میں رزلٹ بارے کچھ نہیں کہہ سکتا، کچھ فون کالز کی اطلاعات ہیں، اگر یہ درست ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کہاں کی سیاست‘‘۔ اور پھر… وہ ہار گیا، لیکن صرف الیکشن ہی نہیں زندگی کی بازی بھی مگر اس روز اس نے ایوان میں جع تقریر کی وہ بہت سوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ ان واقعات کی روشنی میں سیاسی گپ شپ تک انقلاب کی باتیں ٹھیک لگتی ہیں مگر ہماری سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ لانگ مارچ ہو یا دھرنا، عدم اعتماد کی تحریک ہو یا اعتماد لینا، الیکشن RTS سے ہو EVM سے ایسی کوئی مشین ایجاد نہیں ہوئی جو الیکشن سے پہلے اور بعد میں ’’آنے والی فون کالز‘‘ کو روک سکے۔ جب سیاست نظریات پر ہوتی تھی تب موبائل فون نہیں ہوتے تھے مگر اس زمانے میں بھی کام یا تو لینڈ لائن سے چل جاتا تھا یا دوستوں کو پیغام دینے کے لیے گھر آنا پڑتا تھا۔

اس زمانے میں آج کی طرح کا ہلکا پھلکا احتجاج نہیں ہوتا تھا بلکہ لانگ مارچ یا دھرنا بلکہ نعرہ ہی ’’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی‘‘ لگتا تھا۔ لہٰذا کئی اراکین اسمبلی خود ڈپٹی کمشنر یا کسی دوسرے افسر کو فون کرکے اپنے آپ کو نظربند کرا لیتے تھے۔ مگراس وقت لڑنے والے اور گولی کھانے والے بھی ہوتے تھے اب تو صرف ’’کھانے‘‘ والے ہوتے ہیں جو ایک ’’فون کال‘‘ کی مار ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ منی بجٹ پاس کروانے کے لیے کس کس کو کال گئی اس کا تو علم نہیں البتہ یہ سمجھ آرہی ہے کہ ’’میچ فکسڈ‘‘ تھا۔ پھر بھی جیتنے والوں کے چہرے بتا رہے تھے کہ یہ جیت کہیں آنے والے بلدیاتی الیکشن اور عام انتخابات کی شکست نہ بن جائے شاید اسی لیے پی ٹی آئی کے رکن نور عالم اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اپنے اپنے انداز میں ’’پھٹ پڑے‘‘۔ جو چپ رہے وہ بھی غالباً وہی کہنا چاہتے تھے جو ان دونوں نے کہا۔

کیا اسٹیبلشمنٹ کی ن لیگ سے ڈیل کی کوشش ناکام ہو گئی؟

البتہ جب تک ’’کالز‘‘ آرہی ہیں تب تک سمجھ لیں نہ کوئی ڈھیل دی جائے گی اور نہ ہی کوئی ڈیل ہو گی، بس اتنا ضرور ہے کہ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔ بقول مظہر، پاکستانی سیاست میں تبدیلی آنے کے کچھ اشارے ہوا کرتے ہیں۔ بس آپ اتنا سمجھ لیجئے کہ اگر پرندے ایک شاخ سے دوسری پر جانا اور بیٹھنا شروع کر دیں تو سمجھ لیں کہ ہوا کا رخ تبدیل ہورہا ہے۔

اب اگر ہر دوسری حکومت کا ساتھ دینے والے فصلی بٹیرے اب تک عمران خان کا دفاع کرتے پائے جارہے ہیں تو مطلب یہ ہوا کہ ان کا معاملہ ابھی اتنا خراب نہیں ہوا جتنا ہمارے کئی تجزیہ کار دوست سمجھ رہے ہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ گھر کے اندر کی آوازیں باہر آنا شروع ہوگئی ہیں۔

کرکٹ کے مقابلے میں سیاست میں کپتان بھی اپنا ایمپائر چاہئے۔ بس یہی ایک نکتہ ہے جس نے پورے اسلام آباد میں ہر طرح کی افواہوں کا طوفان برپا کیا ہوا ہے۔ رہ گئی بات اپوزیشن کی تو اس کا دارومدار بھی فون کالز پر ہے۔ عمران کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے تو نواز شریف یہ رسک کبھی نہیں لیں گے کہ وہ مکمل معاملات طے کیے بغیر واپسی کا سفر اختیار کریں۔

ویسے بھی اب تک انہیں اتنی جلدی بھی نہیں۔ پارٹی ان کی متحد ہے اور بھائی بہرحال منتظر ہے کہ مشترکہ اشارہ کب ملتا ہے۔ مگر معاملات اتنے بھی سادہ نہیں اور رکاوٹ صرف عمران نہیں کچھ اپنے بھی ہیں اور بیگانہ بھی۔ لہذا دیکھتے ہیں کہ لانگ مارچ ہوتا ہے یا نہیں، اور یہ بھی کہ یہ لانگ مارچ مشترکہ اپوزیشن کا ہوگا یا منتشر حزب اختلاف کا۔

وزیر اعظم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کے سامنے ایک ایسی اپوزیشن کھڑی ہے جس میں الیکشن جیتنے کی صلاحیت تو ہے جو ضمنی اور بلدیاتی الیکشن میں نظر آئی مگر حکومت گرانے کی سکت نہیں کیونکہ چلتی وہ بھی ٹیلیفون کال پر ہی ہے۔ ابھی کپتان کے فون سگنل ایسے خراب نہیں ہوئے کہ… لائن کٹ جائے۔

Back to top button