عمران خان سگریٹ مافیا پر ٹیکس کیوں نہیں لگاتے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اگر صرف سگریٹ انڈسٹری پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کو ہمسایہ ملک بھارت کے لیول پر لے جایا جاتا تو حکومت کو چند سو ارب روپوں کے حصول کی خاطر منی بجٹ لانے کی ضرورت پیش آتی اور نہ ہی آئی ایم ایف کے سامنے اپنی خود مختاری گروی رکھنے کی ضرورت پیش آتی۔ تاہم ایسا اس لئے نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان کا تمام تر سگریٹ مافیا اس وقت وزیر اعظم عمران خان کےساتھ ہے اور دونوں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کر رے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی سرکار سالانہ 615 ارب روپے تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر خرچ کرتی ہے جبکہ اسے سگریٹ انڈسٹری پر عائد معمولی ٹیکسوں سے صرف 135 ارب روپے سالانہ وصول ہوتے ہیں۔
عوام کو کینسر جیسی موذی بیماری میں جھونکنے والے سگریٹ کی قیمتوں پر ہوشربا مہنگائی کوئی اثر نہیں ڈال رہی کیونکہ حکومت اس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کر رہی جس کی بڑی وجہ سگریٹ مافیا کے اہم ترین حکومتی شخصیات سے ذاتی تعلقات ہیں۔ ایک طرف حکومت سگریٹس کے ریٹ نہیں بڑھا رہی تو دوسری طرف آئی ایم ایف سے بھی ایسی کوئی تجویز سامنے نہیں آ رہی ہے۔
اس حوالے سے یہ حیران کن حقائق سامنے آئے ہیں کہ پچھلے 5 سالوں میں تمباکو نوشی کے ٹیکس ریٹس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جو کہ سہولت کاری کے زمرے میں آتا ہے، یاد رہے کہ حکومت نے 2017 میں تمباکو نوشی کی صنعت سے 82 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا تھا جو چار برسوں میں بڑھ کر 2021 میں صرف 135 ارب روپے تک ہی پہنچ پایا ہے۔ یہ اضافہ بھی ٹیکس ریٹ میں اضافے کی بدولت نہیں بلکہ فروخت میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت سگریٹ کی قیمت میں اس لیے اضافہ نہیں کرتی اور کوئی ٹیکس نہیں لگاتی کیونکہ اہم ترین حکومتی شخصیات کے سگریٹ مافیا سے ذاتی تعلقات ہیں۔ انکا کہنا یے کہ وزیراعظم عمران خان مشہور ٹوبیکو کمپنی امریکن ٹوبیکو کے منیجنگ ڈائریکٹر سے نہ صرف ملاقات کر چکے ہیں بلکہ ان سے بھاری چندہ بھی وصول وصول کر چکے ہیں حالانکہ ڈبلیو ایچ او یا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا آرٹیکل 53 کسی بھی سرکاری اہلکار یا وزیراعظم کو سگریٹ بیچنے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے سے منع کرتا ہے۔
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان کے زیر نگرانی چلنے والا گورنمنٹ ٹوبیکو کنٹرول سیل ختم کر دیا گیا ہے جس کا کام تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا تھا، مبینہ طور پر اس کی بندش کی وجہ سگریٹ مافیا کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں ہیں جو اس رائے کو تقویت دیتی ہیں کہ سرکار دانستہ طور پر سگریٹ انڈسٹری کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی۔
تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والے 50 اداروں کی تنظیم کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول سے اس بارے استفسار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ تنظیم کے احتجاج اور میڈیا تشہیر کے بعد ہی حکومت نے 2021-22 کے بجٹ میں تمباکو نوشی پر ٹیکس بڑھانے کی حامی بھری، اس حوالے سے نئے ریٹس بھی طے کیے گئے اور قوانین بھی بن گئے، اس وقت ایک ہزار سگریٹس پر 1650 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، بجٹ 2021-22 میں اسے بڑھا کر 2145 روپے کرنے کی تجویز تھی، جس سے سگریٹ 30 سے 50 روپے مہنگے ہو سکتے تھے۔
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15مئی کو کروانے کا اعلان
منی بجٹ میں 343 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے اور تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی، جن میں چاکلیٹ، بسکٹ، سٹیشنری، چکن، بیف، مٹن، سمیت کئی اشیا کی درآمد پر ٹیکس لگایا گیا، ان میں سگریٹ شامل نہیں، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس مافیا کے سیاست دانوں، بیورو کریٹس کے علاوہ میڈیا کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں، جس میڈیا پر چھوٹی سے چھوٹی بات خبر بن جاتی ہے وہاں اتنے بڑے واقعے پر میڈیا کی خاموشی بلاوجہ نہیں ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ سالانہ بجٹ کے بعد منی بجٹ بھی پیش کیا جا چکا ہے، حالیہ بجٹ میں 343 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں، تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی جن میں چاکلیٹ، بسکٹ، سٹیشنری، چکن، بیف، مٹن، سمیت کئی اشیا کی درآمد پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔ وزیراعظم نے بچوں اور طالب علموں کے استعمال کی چیزوں پر تو ٹیکس بڑھا دیا جس کے نقصانات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے، لیکن انتہائی مضر صحت سگریٹ کے آئٹم پر ٹیکس نہیں بڑھایا گیا حالانکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن کے کئی فائدے ہیں، ایک طرف ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوگا، دوسری طرف سگریٹ پینے والے افراد کی تعداد میں کمی ہوگی اور تیسرا فائدہ اس زہر سے سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا علاج بھی کروایا جا سکے گا۔ ناقدین کو حیرت اس بات پر بھی ہے کہ آئی ایم ایف بھی حکومت کو تمبا کو نوشی پر ٹیکس بڑھانے پر پابند نہیں کر رہی۔
یاد رہے کہ سگریٹ میں ایسے کیمیکل شامل ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، وزرات صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ تمباکو نوشی سے ہونیوالی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی سرکار سالانہ 615 ارب روپے تمباکو نوشی سے پیدا بیماریوں کے علاج پر خرچ کر رہی ہے اور ٹیکس صرف 135 ارب روپے وصول کرتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ تقریباً 480 ارب روپوں کی ادائیگی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کی جا رہی ہے، جبکہ یہ رقم تمباکو مافیا سے وصول کی جانی چاہئے۔
