پاکستان کے پاس افغانستان سے لڑنے کے سوا کوئی آپشن کیوں نہیں؟

پاکستان کے پاس افغان طالبان کے ساتھ لڑنے کے علاوہ کوئی اور آپشن باقی نہیں بچی ہے، اگر پاکستان کابل اور قندھار پر حملے کر کے افغان طالبان کو بھرپور جواب نہ دیتا تو طالبان انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری سازش تیار کر چکے تھے۔
معروف اینکر پرسن جاوید چوہدری اپنے ایک تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغانستان تاریخ میں کبھی بھی آزاد نہیں رہا۔ یہ ہمیشہ کسی عالمی طاقت کے زیر تسلط رہے لہٰذا ان سے نبٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے، طاقت یا رقم۔ امریکا انہیں رقم دے کر جان چھڑا چکا ہے جبکہ ہمارے پاس طاقت کے سوا کوئی چارہ نہیں‘ حالیہ دنوں میں پاکستان نے جس طرح افغان طالبان کو سرحد پر ہونے والے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے وہ لازمی ہو چکا تھا ورنہ یہ ہمیں جینے کے قابل بھی نہ چھوڑتے۔
جاوید چوہدری اپنے تجزیے میں بتاتے ہیں کہ افغانستان کا اقتدار اس وقت 35 گورنرز‘ وزرا اور کمانڈرز کے ہاتھوں میں ہے۔ ان میں سے 22 پاکستان کے ساتھ ہیں‘ ان کا خیال ہے ہم ہر مشکل گھڑی میں پاکستان میں پناہ لیتے ہیں‘ ہم نے اگر اسے ناراض کر دیا تو ہم کل کہاں جائیں گے۔ جب کہ باقی 13 پاکستان کے سخت مخالف ہیں اور بدقسمتی سے یہ اس وقت فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ 13 طالبان لیڈر بھی برس ہا برس پاکستان میں رہے جہاں ان کی جی جان سے حفاظت کی گئی۔ اسوقت طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوانزادہ ہیں۔ وہ 1979 میں خاندان سمیت کوئٹہ شفٹ ہوئے اور 1996 تک کوئٹہ میں رہے۔ انہوں نے تعلیم بھی پاکستانی مدارس سے حاصل کی‘ وہ سال 2001 میں دوبارہ کوئٹہ میں پناہ گزین ہوگئے۔ پاکستان نے انھیں دوبارہ 20 سال تک دنیا بھر سے چھپا کر رکھا لیکن آج ہیبت اللہ پاکستان کے دشمن نمبر ون ہیں‘ اور بھارت اور امریکا دونوں سے ڈالر وصول کر کے پاکستان پر حملوں کی اجازت دیتے ہیں۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ صدر ابراہیم طالبان کے نائب وزیر داخلہ ہیں‘ اصل وزیر داخلہ سراج الدین حقانی ہیں لیکن پاکستانی ہمدرد ہونے کی وجہ سے سپریم کمانڈر نے ان کے اختیارات سلب کر کے صدر ابراہیم کو دے دیے ہیں‘ یہ بھی پاکستان کے سخت مخالف ہیں‘ ان کی زندگی کا بڑا حصہ پشاور میں گزرا اور پاکستان نے ان کی میزبانی کی۔ اسکے بعد ملا عبدالغنی برادر نائب وزیراعظم ہیں‘ انھوں نے ملاعمر کے ساتھ مل کر طالبان تنظیم بنائی تھی‘ وہ 21 سال کوئٹہ میں رہے لیکن آج یہ بھی انڈیا اور امریکہ نواز ہیں اور پاکستان سے نفرت کرتے ہیں۔
سینیئر اینکر پرسن بتاتے ہیں کہ ملا محمد یعقوب دراصل طالبان کے سابق امیرالمومنین ملا عمر کے بڑے بیٹے ہیں۔ یعقوب اس وقت طالبان کے وزیر دفاع اور ڈپٹی کمانڈر ہیں‘ وہ بھی طویل عرصہ کوئٹہ میں رہے لیکن آج کل یہ پاکستان کے مخالف ہیں۔ انکے ذاتی کردار بارے بھی قصہ سن لیجیے۔ ملا یعقوب سراج الدین حقانی کے گھر میں رہتے تھے جہاں اسامہ بن لادن کے نائب ڈاکٹر ایمن الظواہری بھی چھپے ہوئے تھے‘ ملا یعقوب نے دوحا میں امریکیوں کو ظواہری کی پناہ گاہ کا بتا دیا اور امریکا نے 31 جولائی 2022کو ڈرون حملے کے ذریعے انھیں مار دیا۔
جاوید چوہدری کے بقول ملا یعقوب نے اس ’’وفاداری‘‘ کا بھاری معاوضہ وصول کیا۔ ان کے بعد ملا عبدالحق واثق طالبان کے انٹیلی جنس چیف ہیں‘ وہ گوانتانا موبے میں قید تھے‘ ان کی رہائی میں پاکستان نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا لیکن یہ موصوف بھی اب را کے ذریعے بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ ملا محمد زئی ہلمند قندہار اور نیم روز میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے کیمپس کے نگران ہیں۔ ملا محمد زئی جلاوطنی کے زمانے میں ایران میں رہے تھے۔ ان کے علاوہ ملا عبدالقیوم ذاکر پاک افغان بارڈر کا کمانڈر ہے۔ قندہاری اور سخت مزاج قیوم پکتیا میں ٹی ٹی پی کا البدر ٹریننگ کیمپ چلا رہا ہے‘ اس نے پاکستان میں انگور اڈہ کے لیے 300‘ میران شاہ کے لیے 200 اور اسلام آباد‘ راولپنڈی اور کوئٹہ کے لیے 500 دہشت گرد بھجوائے تھے‘ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے اسکی باقاعدہ گفتگو ریکارڈ کی جس میں وہ پاکستان میں ٹارگٹ بتا رہا تھا‘ قندہار میں اس وقت بھی ملا عمر کے گھر میں 300 خودکش حملہ آور تیار بیٹھے ہیں۔ ہلمند کا کور کمانڈر ملا شرف الدین تقی افغانستان میں موجود بلوچ دہشت گردوں کو لڑنے کی تربیت دے رہا ہے جب کہ قندہار اور کابل میں انڈین دفاعی ماہرین طالبان کو میزائل بنا کر دے رہے ہیں۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اب لڑنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ورنہ طالبان انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کو تباہ کر دیں گے۔
