PTI والے استعفوں کی تصدیق کیوں نہیں کروانا چاہتے؟

اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تحریک انصاف کی 130 ارکین اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق کا عمل شروع ہونے کے بعد عمران خان کی اپنے اراکین کو تصدیقی عمل میں شامل نہ ہونے کی ہدایت سے یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ آیا پی ٹی آئی کے چیئرمین اب بھی پارلیمنٹ کا حصہ رہنے کی گنجائش برقرار رکھنا چاہتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ جب تک استعفیٰ دینے والے اراکین اسمبلی ذاتی طور پر پیش ہوکر اپنے فیصلے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کرتے، ان کے استعفے قبول نہیں کیے جا سکتے۔ قومی سیکرٹریٹ کے مطابق تمام 130 استعفے ٹائپ شدہ ہیں اور ان کی ایک ہی تحریر ہے جبکہ قانون کے مطابق استعفیٰ اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ہونا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہو تو استعفے دینے والے کو سپیکر کے سامنے پیش ہو کر اپنے فیصلے کی تصدیق کرنا ہوتی ہے۔
سب سے یاری ڈال کر بھاری پڑنے والے آصف علی زرداری
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کی جانب سے اپنے اراکین اسمبلی کو دی گئی تازہ ہدایت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید وہ ابھی تک استعفوں کے معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے اور اس معاملے کو لٹکا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی عمران نے اپنے اراکین اسمبلی سمیت قومی اسمبلی سے استعفے دے دیے تھے جنہیں کچھ مہینوں بعد واپس لے لیا گیا تھا۔ اس دوران پچھلے چند روز سے ایسی افواہیں گردش میں ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت قومی اسمبلی سے استعفے واپس لینے کا سوچ رہی ہے۔ اس حوالے سے پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں بھی بحث ہوئی لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ فواد چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی سے استعفے واپس لینے کا حتمی فیصلہ نہیں ہو پایا اور عمران خان اپنے سابقہ موقف پر قائم ہیں۔ فواد کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کے پاس اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے پیش نہ ہونے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ تمام 130 اراکین اسمبلی کے استعفے ایک ساتھ منظور کر لیے جائیں بجائے کہ کوئی گیم ڈالنے کی کوشش کی جائے۔
دوسری جانب اسمبلی ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری اور شاہ محمود قریشی سمیت جن اراکین قومی اسمبلی نے ایوان میں کھڑے ہو کر اپنے استعفوں کا اعلان کیا تھا ان کے استعفے قبول ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ شہباز حکومت نے قومی اسمبلی کی 40 سیٹوں پر ضمنی انتخاب کروانے کا ذہن بنا لیا ہے اور استعفوں کی تصدیق کا عمل بھی اسی لیے شروع کیا گیا ہے۔ پلان کے مطابق قومی اسمبلی کے ان حلقوں سے تحریک انصاف کے اراکین کے استعفے قبول کر لیے جائیں گے جہاں پر مخلوط اتحاد میں شامل جماعتوں کی پوزیشن مضبوط ہے اور انہیں الیکشن جیتنے کا یقین ہے۔ حکومت ان 40 نشستوں کو جیت کر نہ صرف اتحادی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے نکل آئے گی بلکہ صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب بنانے کے لئے بھی مطلوبہ نمبرز حاصل کر لے گی۔
دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ ایک درجن سے زائد پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی استعفے دینے کے موڈ میں نہیں اور وہ راجہ پرویز اشرف کو اپنے فیصلے سے بھی آگاہ کرچکے ہیں جس کے بعد ہی اراکین اسمبلی کو تصدیق کے لیے 6 جون کو طلب کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے مستعفی اراکین قومی اسمبلی کا موقف ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے ہاتھوں ان کے استعفے پہلے ہی منظور ہوچکے ہیں لہذا تصدیقی عمل کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ عمران کی جانب سے اپنے ممبران کو استعفوں کے تصدیقی عمل میں شامل ہونے سے روکنے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکے اور چاہتے ہیں کہ معاملہ لٹکا رہے۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں اپنے کچھ ممبران اسمبلی پر شک ہے کہ وہ سپیکر کے سامنے پیش ہو کر اپنے استعفے واپس لے لیں گے۔
راجہ پرویز اشرف کی جانب سے اراکین اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے بلائے جانے کے بعد سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا کوئی رکن سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہیں ہوگا۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے استعفوں پر پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے اور قاسم سوری بطور قائم مقام سپیکر کی حیثیت سے پی ٹی آئی کے تمام ارکان کے استعفے منظور کر چکے ہیں۔‘
سابق وزیراعظم عمران خان بھی اپنے ایک بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ استعفے واپس نہیں لیے جائیں گے اور نہ ہی اسمبلیوں میں بیٹھیں گے۔ لیکن قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے پی ٹی آئی کے رہنمائوں کے استعفوں کے پہلے سے منظور ہونے کے بیان کو مسترد کردیا ہے۔ حکام کے مطابق اراکین کے استعفوں کا فیصلہ ابھی ہونا ہے اور اس کے لیے مستعفی ہونے والے اراکین سے تصدیق کرنا لازم ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق 10 جون تک مستعفی ہونے والے تمام اراکین کی سپیکر آفس آمد اور استعفوں کی تصدیق کے لیے انتظار کیا جائے گا۔ اگر 10 جون تک مستعفی ارکان سپیکر کے روبرو پیش نہیں ہوتے تو سپیکر آگے کا لائحہ عمل سامنے لائیں گے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق اگر 10 جون تک ارکان پیش نہیں ہوتے تو سپیکر استعفوں کا ایک بار پھر جائزہ لیں گے اور تمام استعفوں کا پیٹرن اور دستخطوں کو دوبارہ میچ کیا جائے گا۔ ایک اسمبلی اہلکار کے مطابق: ’اس دوران جو استعفے درست سمجھے گئے اور اگر سپیکر مطمئن ہوئے تو وہ استعفے منظورکرلیے جائیں گے اور اگر سپیکر مطمئن نہیں ہوتے تو کچھ استعفے مسترد بھی کئے جا سکتے ہیں۔ انکے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کی یہ صوابدید ہے کہ اگر وہ مطمئن ہیں کہ ارکان نے کسی دبائومیں آکر نہیں بلکہ اپنی مرضی سےاستعفے دیے ہیں تو وہ استعفے تصدیق کیے بغیر بھی منظور کر سکتے ہیں۔‘
قومی اسمبلی میں کارروائی اور طریقہ کار کے قائدہ 43 جو نشست سے استعفیٰ سے متعلق ہے کی شق اے کے مطابق رکن اپنے ہاتھ سے لکھا گیا استعفیٰ سپیکر کو ذاتی حیثیت یا کسی کے ذریعے بھیجتا ہے اور یہ اطلاع دیتا ہے کہ استعفیٰ رضاکارانہ طور پر دیا گیا ہے اور اصلی ہے۔ اگر سپیکر مطمئن ہے کہ استعفیٰ اصل ہے اور مرضی سے دیا گیا ہے تو سیکرٹری قومی اسمبلی نوٹیفیکیشن جاری کرکے الیکشن کمیشن کو کاپی بھجوائیں گے۔
دودری جانب پارلیمانی امور کے ماہر ظفراللہ خان نےکہا ہے کہ رولز کے مطابق استعفے کی تصدیق کے لیے رکن کا ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ضروری ہے۔ ’ممکن ہے کہ کئی ارکان تصدیق کے لیے آئیں اور کچھ نہ آئیں لیکن تصدیق ضروری ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں 1990 کی دہائی میں جب کراچی آپریشن شروع ہوا تو متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے اپنی نشستوں سے استعفے دے دیے تھے اور وہ اراکین گرفتار بھی ہو چکے تھے۔ اس وقت کے سپیکرقومی اسمبلی گوہر ایوب نے استعفوں کی تصدیق پر زور دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ’اراکین کو استعفوں کی تصدیق کے لیے میرے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر اراکین پیش نہیں ہوتے تو میں استعفے کیسے منظور کروں؟‘ ظفراللہ خان نے کہا کہ قاسم سوری کے استعفے منظور کرنے کا موقف درست نہیں اور کہا کہ ’قاسم سوری نے استعفے کس طرح منظور کرلیے انہوں نے استعفوں کی تصدیق کی تھی؟‘ ظفراللہ خان کے مطابق: ’2014 میں جب استعفے دیے گئے تھے تب پی ٹی آئی کے تمام اراکین گروپ کی صورت میں استعفوں کی تصدیق کے لیے آنا چاہتے تھے جو مناسب نہیں تھا کیوں کہ استعفے انفرادی معاملہ ہے۔ اس بار سپیکر نے تمام اراکین کے لیے وقت مقرر کرکے انہیں انفرادی طور پر بلایا ہے۔‘
