خان کی چوائس اچکزئی اب تک اپوزیشن لیڈر کیوں نہیں بن پائے؟

عمران خان کی جانب سے ایک ماہ پہلے پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے باوجود ابھی تک ان کی تقرری نہیں ہو پائی۔ محمود اچکزئی کے راستے میں نہ صرف سرکار رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے بلکہ تحریک انصاف کی قیادت بھی ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ انہیں بڑا اعتراض یہ ہے کہ خان نے اپنی جماعت کی بجائے ایک پرائی جماعت کے سربراہ کو اپوزیشن لیڈر کے لیے کیوں نامزد کیا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں سپیکر ایاز صادق جبکہ سینیٹ میں چیئرمین یوسف رضا گیلانی کو صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔ جب تک ان دونوں ایوانوں کے پریذائیڈنگ افسران یعنی ایاز صادق اور گیلانی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کی نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے اپنے دستخطوں کے ساتھ جمع کروائی گئی درخواست کی تصدیق نہیں ہوتی، یہ عمل مکمل نہیں ہو پائے گا۔ قومی اسمبلی میں آزاد قرار دیے گئے تحریک انصاف کے ارکان کی طرف سے جمع کروائی گئی اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی درخواست وصولی کا اعلامیہ ابھی تک سپیکر چیمبر سے جاری نہیں ہو پایا۔ یہ درخواست ابھی تک سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے روبرو پیش نہیں ہوئی جو کہ غیر ملکی دورے پر تھے۔ گزشتہ ماہ قومی اسمبلی کے ستر سے زیادہ آزاد ارکان کے دستخطوں سے ایک عرضداشت سپیکر سیکریٹریٹ میں دائر کی گئی تھی لیکن سپیکر چیمبر کی جانب سے اس بارے ابھی تک کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق قائد حزب اختلاف کی نشست پر تقرری سے پہلے سپیکر ایوان میں اس منصب کے خالی ہونے کا اعلان کرینگے جس کے بعد ارکان سے نامزدگی کے لئے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔
جن ارکان کی طرف سے محمود اچکزئی کی قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی عرضداشت پر دستخط کئے گئے ہیں ان کی حیثیت آزاد رکن کی ہے وہ قبل ازیں خو د کو سنی اتحاد کونسل سے وابستہ ظاہر کرتے رہے ہیں جس کے اپنے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کو دس سال کی سزائے بامشقت سنائی جاچکی ہے اور انہیں نا اہل قرار دیا جاچکا ہے۔ اب خو د بھی قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔ قائد حزب اختلاف کے تقرر سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی موصول ہونے والی درخواست پر ارکان کی جانب سے کیے گے دستخطوں کی انفرادی طور پر تصدیق کرینگے۔ اگر کسی ایک بھی رکن کے دستخط دو نمبر نکلے اور ان کی تصدیق نہ ہوسکی تو پوری درخواست کو مسترد کردیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پچھلے ماہ عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدوں کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کی نامزدگیاں کی گئی تھیں حالانکہ دونوں کا طریقہ انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ اس فیصلے نے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ناراضی اور مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا۔ محمود اچکزئی پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں جبکہ علامہ عباس ناصر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ ہیں۔ تاہم عمران خان نے پھر بھی انہیں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی نااہلیوں کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ میں ان دونوں کو اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا جسے پی ٹی آئی میں اظہار عدم اعتماد کے طور پر دیکھا گیا۔
اس سے پہلے 6 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 9 مئی 2023 کے حملوں میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے تحریکِ انصاف کے 9 اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز اور عمر ایوب خان بھی نااہل قرار دیے گئے اراکین پارلیمان میں شامل تھے۔ عمر ایوب خان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے۔ اسی طرح سینیٹ میں شبلی فراز اپوزیشن لیڈر تھے۔ ان دونوں کی نااہلی کے بعد یہ دونوں عہدے خالی ہو چکے ہیں۔ ان دونوں ارکانِ پارلیمان کو آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون ایچ کے تحت نااہل قرار دیا گیا جس کے تحت سزا یافتہ شخص پارلیمان کا ممبر نہیں رہ سکتا۔
جب میڈیا کی جانب سے محمود اچکزئی اور عباس ناصر کی نامزدگیوں پر پی ٹی آئی کے اندر اختلافات بارے پوچھا گیا تو بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہم میں سے کسی کو اس حوالے سے کوئی اعتراض نہیں۔ جب عمران خان کی ہدایات ہمارے پاس آتی ہیں تو ان پر من و عن عمل ہوتا ہے اور کسی قسم کا اعتراض نہیں اٹھایا جاتا۔ تاہم تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمران خان کے اس فیصلے پر سخت نالاں ہیں اور محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنوانے کے لیے کوشش بھی نہیں کر رہے۔
یاد رہے کہ عمران خان نے ماضی میں محمود اچکزئی کو کرپٹ شخص قرار دیا تھا لیکن اب اسی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرتے ہوئے انہوں نے ایک اور بڑا یوٹرن لیا ہے۔ خان صاحب ماضی میں بطور وزیراعظم اچکزئی کو چادر اوڑھنے پر جوکر قرار دے کر ان کی نقلیں اتارتے رہے ہیں۔ عمران کی جانب سے محمود اچکزئی کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی پرانی ویڈیوز ایک بار پھر وائرل ہوئیں، جن میں وہ اچکزئی کے سٹائل میں چادر اوڑھ کر ان کا مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسی ہی ایک وائرل ویڈیو میں عمران نے محمود اچکزئی کے چادر اوڑھنے کے انداز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ’جوکر‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ کچھ عرصے کے لیے تو میں بھی اس جوکر کے ہاتھوں پاگل بن گیا تھا اور اس کی عزت کرنے لگا تھا۔ عمران خان نے الزام عائد کیا کہ اچکزئی ایک کرپٹ شخص ہے جس نے اپنے 8 رشتہ دار کو دھاندلی کے زور پر اسمبلی میں پہنچا دیا اور اپنے بھائی کو گورنر بنوا دیا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سنی اتحاد کونسل کے ارکان قومی اسمبلی بلوچستان کے ایک رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن کا امیدوار نامزد کرنے پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس فیصلے سے ان کی صفوں میں پھوٹ پڑنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں چونکہ محمود اچکزئی کے علاوہ ان کی جماعت میں کوئی دوسرا بندہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ نااہل قرار دیے جانے والے عمر ایوب خان تحریک انصاف کے مرکزی لیڈر تھے جبکہ محمود اچکزئی کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ماضی میں عمران خان حکومت کے سب سے بڑے ناقد تھے۔ تحریک انصاف کے باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ذیادہ تر ارکان قومی اسمبلی نے نہ صرف محمود خان اچکزئی بلکہ علامہ عباس ناصر کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
