طالبان کی دہشت گردی فوجی طاقت سے روکنا ممکن کیوں نہیں ؟

 

 

 

تحریک طالبان کی جانب سے پاکستان بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو صرف فوجی طاقت کے زور پر روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے عوام میں بڑھتی ہوئی سیاسی بیگانگی اور بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔ دونوں صوبوں کی مقامی آبادی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان بداعتمادی آخری حدوں کو چھو رہی ہے، لہذا دہشت گردوں سے مقابلہ کرنا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سرحد پر پاکستانی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد عارضی جنگ بندی تو ہو گئی ہے لیکن صورت حال کسی وقت بھی دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ دونوں ممالک کی فورسز کا تصادم ہوا ہو لیکن حالیہ جھڑپیں یقینی طور پر شدید تھیں جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستانی فوجی قیادت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرحدی چوکیوں پر افغان سکیورٹی فورسز کے حملے کے ردعمل میں کئی گھنٹوں تک شدید ترین فضائی بمباری کی۔ پاکستانی فضائیہ اور ڈرونز نے پاک افغان  سرحد کے ساتھ افغانستان کے اندر افغان طالبان اور پاکستانی طالبان دونوں کے ٹھکانوں پر شدید ترین بمباری کی جس سے بھاری نقصان ہوا۔

 

دراصل پاک افغان جھڑپوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب پچھلے ہفتے پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں اور ڈرونز نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر کمانڈر نور ولی محسود اور ان کے ساتھیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔ یاد رہے کہ نور ولی محسود کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستانی حملے میں اس کی ہلاکت کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اس حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ اسے اپنی سیکیورٹی فورسز پر سرحد پار سے بڑھتے ہوئے حملوں کیخلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

 

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد حملوں میں فوجی افسران سمیت پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد شہید ہوچکی ہے۔ یہ سال گزشتہ دہائی کا سب سے خون ریز سال ثابت ہوا ہے۔ ایسے میں پاکستانی فوجی قیادت کا افغان طالبان انتظامیہ کے خلاف صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے جو ٹی ٹی پی کے دھڑوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے مسلسل انکاری ہے۔ تحریک طالبان کے جنگجو ان پناہ گاہوں کو سرحد پار حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 

زاہد حسین کے مطابق اس حملے کے وقت افغان وزیر خارجہ دہلی میں موجود تھے لہذا اگلے روز افغان سکیورٹی فورسز نے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر حملے کر دیے۔ پاکستانی فضائیہ نے ان حملوں سے مزید فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں اپنے اہداف پر پہلے سے بھی زیادہ بمباری کی۔ پہلا موقع نہیں کہ پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہو لیکن حالیہ حملے سب سے زیادہ تباہ کن تھے۔ ان حملوں میں 200 سے زیادہ افغان سکیورٹی فورسز اہلکار اور ٹی ڈی پی کے درجنوں دہشت گرد مارے گئے۔ اس کارروائی کو افغانستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے طالبان فورسز نے جوابی کارروائی میں متعدد پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے اور دو درجن پاکستانی فوجیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا۔

 

اگرچہ قطر اور سعودی عرب کی مداخلت پر پاک افغان سرحدی جھڑپیں عارضی طور پر رک چکی ہیں لیکن صورت حال اب بھی انتہائی نازک ہے۔ پاک افغان سرحدیں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمد و رفت معطل ہو چکی ہے۔ زاہد حسین کا کہنا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بگڑتا ہوا تنازع علاقائی سلامتی کے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئیں کہ جب اسحٰق ڈار کے حالیہ دورہ کابل کے بعد کچھ مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی تھی اور پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ چین نے بھی کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے باقاعدہ سرکاری سطح پر مذاکرات جاری تھے۔

 

ادھر اسلام آباد نے بھی کابل کی طرف جانے والے کچھ تجارتی راستے جو کئی ماہ سے بند تھے، دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم سرحدی جھڑپوں کے بعد چند دنوں میں صورت حال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ پاکستان کے خصوصی ایلچی کی قیادت میں ایک وفد معمول کی ہفتہ وار ملاقات کے لیے افغانستان جارہا تھا، لیکن کابل نے وفد کی میزبانی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ کابل کی طرف سے یہ انکار تب کیا گیا جب افغان وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر تھے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کابل اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات میں کافی بہتری آئی ہے جبکہ اسی دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات شدید تنازعات کا شکار رہے ہیں۔

 

زاہد حسین کے بقول اگرچہ انڈیا نے طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا لیکن اب اس نے کابل میں اپنے دفتر کو سفارت خانے کی سطح پر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہی افغان طالبان ہیں جنہیں ماضی میں بھارت پاکستان کی پراکسیز قرار دیا کرتا تھا۔ لیکن موجودہ علاقائی جغرافیائی سیاست میں ‘میرے دشمن کا دشمن، میرا دوست ہے’ کی پالیسی چلتی نظر آتی ہے، نئی دہلی اور کابل کے بڑھتے ہوئے تعلقات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ پرانا انڈو افغان اتحاد دوبارہ زندہ ہو رہا ہے جو پاکستان کی مغربی سرحد کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

افغانستان بار بار پاکستان سے پنگے بازی کیوں کر رہا ہے؟

پاکستانی سیکیورٹی ادارے طویل عرصے سے بھارت پر الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروپوں کی حمایت کرتا ہے جو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ زائد حسین کہتے ہیں کہ سرحد پار شدت پسندوں ٹھکانوں سے لاحق پاکستان کو سلامتی خطرے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ ملک میں عسکریت پسندی میں اضافے کی واحد وجہ نہیں ہے۔ ہمیں اپنی انسداد دہشت گردی کی پالیسیز کی ناکامی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بلاشبہ ہمارے پاس اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کبھی بھی طویل المدتی اور مربوط پالیسی نہیں رہی ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے میں ہماری غیر مستقل مزاجی دہشت گردی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یاد رہے کہ فوجی ترجمان نے حال ہی میں پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی ذمہ داری عمران خان کی پچھلی حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ اس دور میں ہزاروں افغان جنگجوؤں کو پاکستان واپس لا کر بسایا گیا جو آج دوبارہ اپنے پاؤں جما چکے ہیں۔ تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسطرح کے بڑے پالیسی فیصلے سویلین حکومتوں کو کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ عمران دور میں بھی اگر تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو واپس لا کر بسانے کا فیصلہ ہوا تو اس کے پیچھے تب کے آرمی چیف جنرل قمر باجوا اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید تھے۔ یہ فیصلہ تب کی نئی افغان طالبان حکومت کے دباؤ پر کیا گیا تھا جسے اس وقت قریبی اتحادی قرار دیا جاتا تھا۔ لہذا یہ فیصلہ فوجی قیادت کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

 

Back to top button