مولانا فضل کو دشمن کی صفوں میں دھکیلنا عقلمندی کیوں نہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو فوج مخالف تقریر کی پاداش میں دشمن کی صفوں میں دھکیلنے کی پالیسی دانشمندانہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے الفاظ کا چناؤ بہتر نہیں تھا، تاہم انہیں صفِ دشمناں میں دھکیلنا ہرگز عقل مندی نہیں اور نہ ہی پاکستان اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔

بلال غوری نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کیا، جس میں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے سیاسی کردار، ان کی طویل جدوجہد اور حالیہ تنازع کے تناظر میں ان پر ہونے والی تنقید کا تفصیلی جائزہ لیا۔ بلال غوری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کے دینی مقام کا تعین تو مذہبی علماء ہی کر سکتے ہیں، تاہم سیاست کے میدان میں وہ انہیں غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل رہنما سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق مولانا نے محض 27 برس کی عمر میں جمعیت علمائے اسلام کی قیادت سنبھالی، اس وقت ملک میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی اور بیشتر مذہبی جماعتیں فوجی حکومت کے ساتھ کھڑی تھیں۔ ایسے ماحول میں مولانا فضل الرحمن کے پاس ضیاء الحق سے مفاہمت کر کے اقتدار تک رسائی حاصل کرنے یا جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کے دو آپشن موجود تھے، مگر انہوں نے مشکل راستہ منتخب کرتے ہوئے جمہوریت کی حمایت کی اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے افغان جہاد کے دوران بھی ہتھیار اٹھانے اور مسلح لشکر بنانے سے گریز کیا، جس کے بعد یہ کردار دیگر مذہبی رہنماؤں نے سنبھالا۔ اسی طرح جب اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا گیا تو مولانا نے اپنے سیاسی نظریات کی بنیاد پر اس اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ بلال غوری نے لکھا کہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں مولانا فضل الرحمن کو قومی اسمبلی کی امور خارجہ کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا۔ اسی دور میں افغان طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا اور پاکستان سے گندم اور ڈیزل کی فراہمی کے لیے حکومتی اجازت نامے جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا پر ڈیزل پرمٹ لینے کے الزامات برسوں سے عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ان الزامات کے حق میں آج تک کوئی قابل اعتماد دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔

ان کے بقول اگر ایسے پرمٹ جاری ہوئے ہوتے تو ان کا سرکاری ریکارڈ ضرور موجود ہوتا، مگر مولانا کے شدید سیاسی مخالفین بھی اقتدار میں رہتے ہوئے اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ غوری کے مطابق حالیہ متنازع تقریر کے بعد ایک بار پھر مولانا فضل الرحمن کو "مولانا ڈیزل” کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر انہوں نے اس لقب کی اصل تاریخ جاننے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا کو یہ لقب معروف مزاح نگار عطاالحق قاسمی نے دیا تھا، تاہم قاسمی نے خود اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے نہ کبھی اپنے کسی کالم میں مولانا فضل الرحمن کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی اور نہ ہی اس حوالے سے کبھی معافی مانگی۔

بلال غوری کے مطابق مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ "مولانا ڈیزل” کی اصطلاح پہلی مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے فلور پر استعمال کی تھی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ کھنگالنے کے بعد بتایا کہ 9 جون 1996ء کو سپیکر یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خواجہ آصف نے سوال و جواب کے دوران یہ الفاظ ادا کیے، تاہم سپیکر نے فوراً انہیں ذاتی حملوں سے باز رہنے کی ہدایت کی، جس پر خواجہ آصف نے معذرت بھی کی۔ بلال غوری نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن کی ماضی کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ جب شدت پسند جہادی تنظیموں نے پاکستان میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع کیا تو مولانا فضل الرحمن نے سب سے پہلے ان حملوں کو حرام قرار دیا، جس کے نتیجے میں خود ان پر دو خودکش حملے ہوئے جبکہ ان کے متعدد قریبی ساتھی دہشت گردی کا نشانہ بن کر جان کی بازی ہار گئے۔ ان کے مطابق اگر مولانا فضل الرحمن اپنے ہم مسلک شدت پسند عناصر اور ریاست کے درمیان رکاوٹ نہ بنتے تو حالات مزید سنگین ہو سکتے تھے۔ بلال غوری نے کہا کہ ایک زمانے میں مولانا فضل الرحمن نے آئینی ترامیم کے لیے جنرل مشرف کا ساتھ دیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اس کی آمریت کی مخالفت کر کے اپنی اس غلطی کا مداوا بھی کر دیا تھا۔ انکا کہنا تھق اگر مولانا فضل الرحمن نے جذبات میں آ کر نامناسب الفاظ استعمال بھی کیے تو اسے نظر انداز کرنا زیادہ مناسب رویہ ہوتا۔ ان کے مطابق مولانا جیسے مخلص سیاسی رہنماؤں کو صفِ دشمناں میں دھکیلنا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ پاکستان اس کے منفی نتائج کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا۔

Back to top button