پاکستان سخت ترین سیاسی کنفیوژن کا شکار کیوں ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت سخت ترین سیاسی کنفیوژن اور بھنبل بھوسے کا شکار ہے جس سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بھنبل بھوسہ خالص پنجابی کا لفظ ہے جسکا مطلب کنفیوژن اور ناقابل حل معمّہ یا ایسی صورتحال ہے جسے سمجھنا ناممکن ہو۔ کئی دور ایسے ہوتے ہیں جن میں نت نئے بھنبھل بھوسے اور بحران سامنے آ جاتے ہیں جنکا حل آسان نہیں ہوتا۔ موجودہ دور بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کی آج کا سب سے بڑا بھنبل بھوسہ یہ ہے کہ کیا پاکستان جمہوری نظام کے تحت چل رہا ہے یا ہائبرڈ نظام کے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ملکی پالیسیاں ٹھیک سمت میں جا رہی ہیں یا اُلٹ سمت میں؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ افغانستان اور انڈیا کے ساتھ سرحدیں گرم رکھنا کوئی بہادری ہے یا ایک سٹرٹیجیک غلطی؟ اگلا سوال یہ ہے کہ کیا آئین پر عملدرآمد ہو رہا ہے یا اُسے کہیں طاق پر رکھا ہوا ہے؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے یا نہیں۔ آخری سوال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ سے ہماری دوستی عارضی اور وقتی ہے یا دائمی؟؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس بھنبھل بھوسہ میں کچھ اہم ترین سیاسی سوال بھی جواب طلب ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا قیدی نمبر 804۔کسی کرشمے سے رہا ہو پائے گا یا اب اندر ہی بند رہے گا ؟ کیا یہ قیدی روحانیت سے بھرپور اپنی تیسری اہلیہ بشری بی بی کی پیش گوئی کے مطابق کسی انقلاب کا منہ دیکھ پائے گا، کیا ایسا انقلاب برپا ہونے کی امید بَر آئیگی یا اس کا کوئی امکان نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا فوج اور حکومت میں جتنی اچھی آج چل رہی ہے اسی طرح چلتی رہے گی یا کل کو ون پیج پھٹ جائے گا؟ سوال یہ بھی یے کہ وزیراعظم شہباز شریف سیاسی سپیس نہ ہونے کے باوجود سر نیچا کر کے چل رہے ہیں کیا اسکا کوئی سیاسی فائدہ ہوگا یا جو ہے وُہ بھی گنوا بیٹھیں گے؟
سہیل وڑائچ کے بقول ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ نواز شریف سکون کی زندگی سے دوبارہ سیاسی جنون کی طرف لوٹیں گے یا نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کی فوج سے قربت میں اضافہ فی الحال مریم نواز شریف کو اگلی ٹرم کیلئے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننے سے روک پائے گا یا نہیں؟ اگلا سوال یہ ہے کہ کیا آصف زرداری اسی طرح پس منظر میں بیٹھے نوں لیگی چچا بھتیجی کی گڈی چڑھتے دیکھتے رہیں گے یا پھر کوئی ماسٹر سٹروک کھیل کر بلاول کو پھر سے فوج کا فیورٹ بنانے کی کوشش کرینگے؟ سوال یہ بھی ہے کہ جن 100 ارب ڈالرز سے ملک کی اقتصادی تقدیر بدلنے کے دعوے کیے گئے تھے وہ کب آئینگے؟ اگلا کنفیوژن یہ ہے کہ ہماری فوج اور حکومت کی امریکہ سے دوستی اور قربت شوشا تک ہی رہے گی یا اسکا ادارہ جاتی اثر بھی آئیگا؟ امریکہ ہمیں تھپکیاں ہی دے گا یا ڈالروں کی کھیپ بھی روانہ کرے گا؟
سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ بہت اہم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اسکے معاشی فوائد بھی ملیں گے؟ خلیج میں پاکستان کا رسوخ اور مقام بڑھا ہے کیا اسکے نتیجے میں ایران اور خلیجی ریاستیں، بھارت کو اپنے اپنے ملکوں سے نکال سکیں گی یا ہماری پھنے خانی صرف میٹنگز تک ہی محدود رہے گی؟ ایک اور بڑا بھنبھل بھوسا یہ ہے کہ ہمارا تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے جبکہ تاجر اور صنعتکار اسکی نسبت بہت کم ٹیکس دیتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ زمیندار اور کسان کے ساتھ مسلسل زیادتی ہو رہی ہے۔ ان سے گندم اور چاول سستا خریدا جاتا ہے اور زمیندار کو کھاد اور ادویات مہنگی دی جاتی ہیں۔ کسان کا گنّا سستے داموں خرید کر اسے ادائیگی تک نہیں کی جاتی اور شوگر مل مالکان چینی برآمد کرکے منافع کماتے ہیں، ہر سال یہی ہوتا ہے، کیا یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا؟ تمام تر دعوئوں کے باوجود زراعت جدید خطوط پر استوار نہیں ہو سکی۔ ہماری وہی چار فصلیں ہیں جو کہ صدیوں سے اُگائی جا رہی ہیں۔ ٹریکٹر، تھریشر اور ٹیوب ویل ضرور آ گئے ہیں لیکن نہ پانی کے بے جا استعمال کا کوئی حل نکالا گیا اور نہ نئی فصلوں پر تجربات کے ذریعے زراعت کو جدید بنایا گیا۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا کسان ایسے ہی مرتا رہے گا ؟ کیا وہ کبھی اپنی قسمت نہیں بدل پائے گا؟ کیا صدیوں کا یہ گھن چکر، یہ برسوں کا گورکھ دھندا، یہ نسلوں کا بحران کبھی حل ہوگا ؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایک تازہ بھنبھل بھوسہ پاکستانی فوج کو غزہ امن فوج کا حصہ بنانے کا ہے۔ لیکن اصل کنفیوژن یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کی امن فوج فلسطینیوں کی حفاظت کرے گی یا پھر حماس کو اسرائیلی فوج کے خلاف حملےکرنے سے روکے گی؟ اگر امن فوج فلسطینیوں کی حمایت کرے گی تو امریکہ اور اسرائیل اسے جانب دار قرار دیں گے، اور اگر وہ حماس کے راستے کی رکاوٹ بنی تو کافر ٹھہرے گی۔ لہذا کنفیوژن تو ہے۔
