بدزبانی کرنے والے سہیل آفریدی اب میٹھی زبان کیوں بولنےلگے؟

مقتدر حلقوں کی جانب سے مسلسل زبان درازی پر وارننگ ملنے کے بعد سہیل آفریدی پیار کی زبان بولنے لگے۔ کل تک تنقید اور جارحیت کی سیاست کے نمائندے سمجھے جانے والے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا آج مصالحت اور مکالمے کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سہیل آفریدی کی جانب سے ریاستی پالیسیوں کو مسلسل ہدف تنقید بنانے کے بعد طاقتور حلقوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کی بچی کھچی قیادت کو واضح پیغام بھجوا دیا ہےکہ اگر وزیراعلیٰ اپنے جارحانہ طرزِ سیاست سے باز نہ آئے تو اس کے نتائج نہ صرف ان کے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں نکل سکتے ہیں بلکہ پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں اپنے سیاسی وجود کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں کی جانب سے دی گئی وارننگ کے بعد سہیل آفریدی کے لہجے اور طرزِ سیاست میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ سہیل آفریدی کا جارحانہ انداز نرم گفتاری اور مفاہمانہ لہجے میں بدل چکا ہے۔ وہی سہیل آفریدی جو کچھ عرصہ قبل وفاق کے خلاف سخت بیانات اور سیاسی مزاحمت کے علمبردار سمجھے جاتے تھے، اب اچانک یوٹرن لیتے ہوئے مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے صوبے کے امور چلانے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا یہ بدلتا رویہ سیاسی مبصرین کے نزدیک نہ صرف بدلتے حالات کا عکاس ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبائی قیادت سمجھ گئی یے کہ ٹکراؤ کی سیاست پارٹی کو تکڑے ٹکڑے کر سکتی ہے اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ جارحیت کی بجائے مفاہمت سے مسائل کا حل نکالا جائے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے لب و لہجے میں یہ تبدیلی محض وقتی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی حقیقت پسندی کی طرف ایک قدم ہے۔ سہیل آفریدی اگر اس نئی روش پر قائم رہے تو نہ صرف اپنی حکومت کو استحکام دے سکتے ہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کی راہ بھی نکال سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن، آفتاب شیرپاؤ، ایمل ولی خان، سراج الحق اور امیر مقام سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے روابط بڑھانے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب وہ تصادم کے بجائے مشاورت اور ہم آہنگی کی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جو اُن کی نئی مفاہمتی حکمتِ عملی کا واضح ثبوت ہے کہ اب وہ جارحانہ طرز سیاست کی بجائے مفاہمتی سیاست سےصوبے کے معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کا یہ مشاورتی عمل اس امر کا غماز ہے کہ وہ اب صوبے کے وسیع تر مفاد میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مفاہمانہ طرز سیاست ایک مثبت سیاسی پیشرفت ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی، بدامنی اور معاشی مشکلات جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، جن سے نمٹنے کے لیے محاذ آرائی نہیں بلکہ قومی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سہیل آفریدی کے لہجے میں یہ نرمی محض وقتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ عملی مجبوری بھی ہے کیونکہ وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ مسلسل تناؤ کے باعث صوبے کو مالی مشکلات، ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹوں اور امن و امان کے بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جس سے چند دنوں میں ہی آفریدی کا اقتدار ڈھولنے لگا ہے یہی وجہ ہے کہ اب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشاورت اور تعاون کے راستے کو ترجیح دی ہے۔ اب تو ان کے قریبی حلقے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صوبے کے حالات جذباتی سیاست کے متحمل نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سہیل آفریدی کو مبارکباد دینا اور وفاق سے تعاون کی پیشکش کرنا بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ اقدام بتاتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود وفاقی حکومت صوبے کے استحکام کے لیے اشتراکِ عمل پر آمادہ ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگر صوبائی حکومت بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھی تو نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی ممکن ہو سکے گی۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں بھی سیاسی رویوں میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پشاور میں ہونے والے ایک اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ سیاسی سختی کے باوجود قومی مفادات کو مقدم رکھنا اور فوج کے ساتھ تعاون کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح پنجاب میں شاہ محمود قریشی، فواد چودھری اور عمران اسماعیل کی ملاقات کو بھی سیاسی حلقے اہم قرار دے رہے ہیں، مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے سابق رہنمااسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے مابین موجود ڈیڈ لاک ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جس سے آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کیلئے ریلیف کے بند راستے کھلنے کے ساتھ ساتھ کئی آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مقتدر حلقوں کی جانب سے دوٹوک وارننگ ملنے کے بعد پی ٹی آئی کی سیاست آہستہ آہستہ احتجاجی مزاحمت سے سیاسی حقیقت پسندی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پارٹی کے اندر بھی یہ احساس جنم لے رہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے مستقل تصادم اور ادارہ جاتی تنقید نہ صرف سیاسی نقصان کا باعث بن رہی ہے بلکہ پی ٹی آئی پر عوامی اعتماد کو بھی مجروح کررہی ہے۔اسی لئے سہیل آفریدی سمیت جارح پی ٹی آئی رہنما سمجھ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کی بقا جارحیت میں نہیں بلکہ مکالمے اور اشتراکِ عمل میں ہے۔
تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ سہیل آفریدی کے لہجے اور طرز سیاست میں آنے والی یہ تبدیلی پائیدار ثابت ہوگی یا سامنے آنے والے مفاہمتی بیانات محض وقتی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ اگر وزیراعلیٰ واقعی صوبے کے مسائل کے حل کے لیے خلوصِ نیت سے وفاق اور تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہیں، تو یہ خیبر پختونخوا کے لیے ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر، اگر یہ مصالحت وقتی سیاسی ضرورت تک محدود رہی تو صوبہ ایک بار پھر بداعتمادی اور تناؤ کے گرداب میں پھنس سکتا ہے۔ جس کا حتمی نتیجہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا سے بھی چھٹی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
