پاک فوج کو غزہ امن منصوبے کا حصہ کیوں نہیں بننا چاہیے؟

سینیئر اینکر پرسن اور صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان روزانہ انڈیا کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور افغان طالبان کو بھی بھارت کا سہولت کار کہتا ہے، لیکن ہمارے حکمران اس ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کا حقدار قرار دے رہے ہیں جس نے انڈیا کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
روزنامہ جنگ کیلئے اپنی تجزیے میں حامد میر ان خود ساختہ درویشوں پر تنقید کی ہے جو بظاہر امن پسندی اور رواداری کا راگ الاپتے ہیں لیکن انکا دل آزادی کی دو تحریکوں کیخلاف نفرت سے بھرا نظر آئیگا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خود ساختہ درویش کشمیر کی تحریک آزادی کو بھارت اور پاکستان کی دوستی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ آجکل یہ خود ساختہ درویش فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کو ایک شدت پسند گروہ قرار دیکر اسکا صفایا کرنا چاہتے ہیں اور حماس کیخلاف کارروائی کیلئے پاکستانی فوج کو غزہ بھجوانا چاہتے ہیں حالانکہ پاکستانی فوج ایسی کسی کارروائی کا حصہ بننے کو تیار نہیں جس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ اسرائیل کو فائدہ ہو۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ایسے نام نہاد درویش اور سلطان اسرائیل کیساتھ دوستی کے حق میں دلائل تراشنا شروع کرینگے۔ جب ہم جیسے جاہل اور جذباتی لوگ اسرائیل کے ساتھ دوستی کو اقبال اور جناح کے نظریات سے بے وفائی قرار دینگے تو یہ خود ساختہ درویش تلوارسونت کر سامنے آ جائیں گے۔ آج ساری مہذب دنیا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو دور جدید کا ہٹلر اور اس صدی کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دے رہی ہے لیکن ہمارے خود ساختہ درویش حماس کیخلاف نفرت کی آگ میں جل رہےہیں ۔ ان جعلی درویشوں،صوفیوں اور علماء نے شرم الشیخ میں حماس اور اسرائیل میں امن معاہدے کے بعد گلا پھاڑ پھاڑ کر کہاتھا کہ اب تو حماس نے بھی اسرائیل سے دوستی کرلی تو پھر پاکستان میں اسرائیل کیخلاف احتجاج کی کیا ضرورت ہے ؟
لیکن ہم جیسے ’’جاہل اور جذباتی ‘‘ لوگوں نے بار بار خبردار کیا کہ حماس کی طرف سے اسرائیلی پرغمالیوں کی رہائی کے بعد غزہ پر دوبارہ بمباری شروع ہو جائے گی ۔اب جبکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد روزانہ غزہ پر بمباری ہو رہی تو پاکستان کی حکومت بھی اسرائیل کی مذمت کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ ایک اور ستم یہ ہوا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ جسے ہم نوبل امن انعام کیلئے بار بار نامزد کئے جا رہے تھے اُس نے پاکستان کے دشمن بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون کا دس سالہ معاہدہ کر لیا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ٹرمپ نے بار بار پاکستان کے ہاتھوں سات بھارتی طیاروں کی تباہی کا ذکر کیا اور نریندر مودی کو خوار بھی کیا لیکن ٹرمپ یہ سب اپنے فائدے کیلئے کر رہے تھے۔
حامد میر کے بقول صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ بھارت کی طرف سے روس کے ساتھ تیل کی خریداری بند کی جائے اور بھارت اس خطے میں امریکا کی شرائط پر چین کے خلاف دفاعی تعاون کو آگے بڑھائے۔ ٹرمپ بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی قائم نہ رہے۔ وہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو معاہدہ ابراہیمی میں شامل کرنا چاہتے ہیں ۔ مسئلہ فلسطین حل کئے بغیر پاکستان اور اسرائیل میں سفارتی تعلقات کو قائم کرانے کے بعد وہ غزه امن پلان کی طرز پر ایک کشمیر امن پلان بھی سامنے لائیں گے۔ ٹرمپ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایک تقریر کرنا چاہتے ہیں۔ اس تقریر میں وہ کہیں گے دیکھو میں نے ایک اور امن معاہدہ کروا دیا اور پھر نریندر مودی بھی انہیں نوبل امن انعام کیلئے نامزد کر سکتے ہیں جسکے بعد کئی خود ساختہ درویش ٹرمپ کی محبت میں ڈوب کر پاؤں میں گھنگرو باندھ لیں گے۔ گھنگرو باندھ کر وہ خودساختہ ملنگ کے مرتبے پر فائز ہو جائیں گےاور ناچنا شروع کر دیں گے۔
لیکن حامد میر کہتے ہیں کہ ہم جیسے جاہل اور جذباتی لوگ ابھی تک یہی سمجھتے ہیں کہ جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا اور مسجد اقصٰی سے اسرائیل کا قبضہ ختم نہیں ہوتا، تب تک پاکستان معاہدہ ابراہیمی کا حصہ نہیں بنے گا اور حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے اپنی فوج بھی غزہ نہیں بھیجے گا۔ ہماری اسرائیل سے کوئی دشمنی نہیں، ہم تو فیض، جالب اور فراز کی طرح سر زمین فلسطین پر صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ہیں۔ اب یہ طے ہو جانا چاہیے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، ہمارا کا کوئی وزیر اعظم صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے نریندر مودی کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جھومتے ہوئے تصویریں نہیں بنوائے گا۔
