فوجی قیادت عمران کو ڈیل آفر کرنے پر کیوں تیار نہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ عمران خان جب بھی اڈیالہ جیل سے باہر آئیں گے، فوج سے ڈیل کے ذریعے ہی آئیں گے، ورنہ بقیہ زندگی وہیں گزاریں گے، لیکن انکا کہنا تھا کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کسی ڈیل آفر نہیں کی گئی، چاہے موصوف اس حوالے سے جتنے بھی دعوے کرتے رہیں۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ داغوں کی طرح ڈیل بھی اچھی ہوتی ہے لیکن عمران خان کو ابھی تک کوئی ڈیل آفر نہیں کی گئی۔ انہوں نے اس تاثر کی سختی سے نفی کی کہ فوج کی جانب سے عمران خان کو ڈیل کی پیشکش کی گئی ہے لیکن وہ اصولوں پر ڈٹے ہیں اور عوام کی خاطر سمجھوتہ کرنے سے انکاری ہیں۔

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ انہوں نے حال ہی میں عمران خان کے لیے ہمدردیاں رکھنے والی ایک تحمل مزاج خاتون سے سمجھنے کی کوشش کی کہ وہ کیا نظریہ ہے جس پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے عمران خان جیل میں ہیں۔ حماد کے بقول آج کل سیاسی گفتگو زیادہ تر پھیپھڑوں کے زور پر کی جاتی ہے، دلیل بھی پھیپھڑوں سے دی جاتی ہے اور شعور بانٹنے کا کام بھی انہی سے لیا جاتا ہے۔ ان حالات میں سیاسی گفتگو سے پرہیز دانائی کا مظہر ہے۔ لیکن کبھی کبھی کسی بہ ظاہر معقول شخص کو دیکھ کر آپ یہ رسک لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ پچھلے ہفتے ہم نے یہ رسک لیا، اور عظمیٰ نسیم نامی خاتون سے عمران خان کی سیاست سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ عظمیٰ ہماری بیگم صاحبہ کی کنیرڈ کالج کے زمانے سے سہیلی ہیں، ان کے والد فوج کا حصہ رہے، شادی کے بعد وہ خاوند کے ہم راہ ترکی جا بسیں اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔ سیاسی طور پر وہ عمران خان کی حامی ہیں۔ سیاسی گفتگو کے دوران نہ ان کی رگیں پھولتی ہیں نہ کف اگلتی ہیں، تحمل سے بات سن بھی لیتی ہیں۔ ہم نے سوچا ان کوائف کی حامل شخصیت سے مکالمے کا موقع دوبارہ جانے کب ملے، سو ہم نے ندیدوں کی طرح ان سے باتیں کیں۔ پہلے انہوں نے پاکستان میں جمہوری قدروں اور جمہوری اداروں کے زوال پر سیر حاصل گفتگو کی، پارلے مان کی بے توقیری اور روایتی میڈیا کے ناقابل رشک کردار کا احاطہ کیا، انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے لتے لیے اور پھر اس آہنی ہاتھ کو خون آلود قرار دیا جو سیاسی مخالفین سے نپٹنےکیلئے استعمال ہوتا ہے۔

حماد غزنوی کے بقول عظمی خاتون کی اکثر باتیں معقول تھیں اور ان سے اختلاف کی گنجائش کم کم تھی۔ آخر میں انہوں نے تیقن سے حکم صادر کیا کہ جو جو موجودہ نظام کے خلاف شمشیر عریاں نہیں ہے وہ اس’’جرم‘‘ میں حصہ ہے۔ ان سے پوچھا کہ عمران خان جن باجووں کے کاندھے پر سوار ہو کر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تھے اس بارے اب آپ کیا نکتہ نظر رکھتی ہیں۔ خاتون نے ترنت جواب دیا کہ دو غلط مل کر ایک صحیح نہیں بنا سکتے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ باجوا دور میں ان کی حمایت کیوں کر رہی تھیں؟ انہوں نے کہا بہت سی باتیں ہم نے حال ہی میں سمجھی ہیں، اور یہ شعور بھی انہیں عمران خان نے ہی دیا ہے۔

جب خاتون سے پوچھا گیا کہ کیا عمران خان اپنے خالق سے جھگڑے کے نتیجے میں جیل پہنچے ہیں یا وہ کسی اصول پر کھڑے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ عمران اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے کے باعث اڈیالا جیل میں قید ہیں، وہ بھی ڈیل کر کے باہر جا سکتے تھے مگر وہ چاہتے ہیں کہ قانونی راستے سے باہر آئیں۔ جب پوچھا گیا کہ کیا قانون کا راستہ راولپنڈی سے ہو کر جاتا ہے، جن سے خان مذاکرات کرنا چاہتے ہیں؟ اس ہر موصوفہ فرمانے لگیں کہ اس ملک میں قوانین پر خاک عمل ہوتا ہے۔ قانونی راستے سے عمران خان کیسے جہل سے باہر نکلے گا؟

حماد غزنوی کے بقول ان کے ذہن میں موجود سوالات یہ تھے کہ کیا عمران جمہوریت کے سپاہی ہیں جو ان کی فوج کے ساتھ لڑائی ہے؟ یا کیا وہ آئین کے محافظ ہیں جس پر ان کا فوج کے ساتھ اختلاف ہوا؟ بظاہر تو ایسا کچھ نہیں چونکہ عمران خان فوج کے کندھوں پر بیٹھ کر ہی تو اقتدار میں آئے تھے۔ ہم نے خاتون سے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اگر عمران خان حکومت میں آئیں تو لوگوں کی ان سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟ انکے بقول انہوں نے یہ معاملہ عمران خان کی پچھلی وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کی ایک دہائی کی کارکردگی کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی؟

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ ان سوالات کے جواب میں عمران کی حمایتی خاتون نے بتایا کہ عمران طبقاتی لڑائی میں نچلے طبقے کے ساتھ کھڑ ے ہیں، وہ نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا چاہتے ہیں، اور اسی لیے ان کی اقتدار میں واپسی ضروری ہے۔ خاتون کے مطابق خان صاحب کی جانب سے بطور وزیراعظم ماضی میں صحت کارڈ اور لنگر خانے جیسے اقدام اسی ہدف کے تعاقب میں اٹھائے گئے تھے۔

حماد بتاتے ہیں کہ ہماری گفتگو یہاں تمام ہوئی۔ عمران کی ایک’’معتدل، معقول اور متوازن‘‘ حامی کی رائے ہم نے پورے اخلاص سے آپ تک پہنچا دی ہے، آپ اس سے جو چاہیں نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ہم صرف ایک نکتے پر اظہار رائے کرینگے، یعنی عمران’’ڈیل‘‘ نہیں کرینگے۔ ان سب باتوں سے ہٹ کر کے کوئی انہیں ڈیل آفر کر بھی رہا ہے کہ نہیں، اس کی ضرورت بھی سمجھی جا رہی ہے کہ نہیں، اس کیلئے ریاست پر کوئی داخلی یا خارجہ دباؤ ہے بھی کہ نہیں؟ ایک گرفتار سیاستدان جیل سے باہر آنے کیلئے جو بھی راستہ نکالتا ہے، اسکے مخالفین اس راستے کیلئے ’’ڈیل‘‘ کا منفی لفظ استعمال کر کے سیاسی بیانیہ تخلیق کر رہے ہوتے ہیں۔ تاریخی طور پر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کو جب طاقت کے زور سے باندھ لیا جاتا ہے تو وہ مکر کرتے ہیں، انہیں چکر دیتے ہیں، غچہ دیتے ہیں، سادہ لفظوں میں صیاد کو بے وقوف بنا کر آزاد ہو جاتے ہیں۔ اور جیسے ہی پہلا موقع آتا ہے، معاہدہ توڑتے ہیں، شرائط پس پشت ڈالتے ہیں اور اپنے سیاسی ہدف کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے مختلف مواقع پر یہ’’ڈیل‘‘ کی اور پھر پہلا موقع ملنے پر ڈیل دینے والوں سے حساب چکتا کر دیا۔ نواز شریف نے تو ڈیل کرنے کے کچھ ماہ بعد ہی باجوہ اور عمران دونوں کی چھٹی کروا دی تھی۔ہم نے یہ بات عظمیٰ نامی خاتون کے بھی گوش گزار کی مگر انہوں نے فرمایا کہ کپتان اپنے نظریے پر ڈٹ کے کھڑا ہے اور کبھی’’ڈیل‘‘ نہیں کرے گا۔ ہم نے ان کے جذبات کے احترام میں مسکرانے پر اکتفا کیا۔ مگر دل ہی دل میں کہا کہ عمران جب بھی جیل سے باہر آئے گا ’’ڈیل‘‘کر کے ہی آئے گا۔ آپ بس دیکھتے جائیے۔

Back to top button