پاکستان کو صدر ٹرمپ سے زیادہ امیدیں کیوں نہیں لگانی چاہئیں؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں اس لیے اگر امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم مودی آنے والے دنوں میں دوریاں ختم کر کے پیار کی پینگیں بڑھاتے نظر آئیں تو پاکستان کو مضطرب نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو سکول کے بچوں کی طرح ٹرمپ کو اس بات پر مجبور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ یا صرف ہمارا دوست رہے یا پھر بھارت کا۔

 

روزنامہ نوائے وقت کے لیے اپنے تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کی پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کے ساتھ آؤٹ آف دا وے جا کر محبت دکھانے کے باوجود انہیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ مغالطہ نہیں ہوا کہ ٹرمپ خود کو بھارت سے اتنا دور کر دے گا کہ وہ روس کے ساتھ چلا جائے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی وجہ سے امریکہ کا نیٹو میں شریک ہوئے بغیر ’’اتحادی‘‘ کہا جاتا تھا۔ لیکن ’’نان نیٹو اتحادی‘‘کا درجہ بھی ہمیں یورینیم کی افزودگی اور استعمال کے لئے ویسا اچھا معاہدہ فراہم نہ کر سکا جیسا کہ بھارت نے افغانستان کے تناظر میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے کے باوجود حاصل کر لیا۔

 

نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد دراندازی اور تخریب کاری کو روکنے کے نام پر اسرائیل نے انڈیا کو اپنے جاسوسی ماہرین اور جدید آلات کے ذریعے بے مثال مدد فراہم کی۔ اسرائیل اور بھارت کے مابین تعلقات آج اس دور سے کہیں گہرے ہوچکے ہیں اور اسرائیل امریکہ کا قریب ترین حلیف ہے۔ کلنٹن اور بش کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دورِ اقتدار میں بھارت کے مزید قریب آتے ہوئے نریندر مودی کا ’’ذاتی دوست‘‘ بھی ہوگیا۔ ان دونوں نے ایکدوسرے کی انتخابی مہم میں حصہ ڈالنے کے لئے پہلے ٹیکساس اور بعدازاں مودی کے آبائی گجرات میں جلسوں سے خطاب کیا۔ مودی کے ناز نخرے اٹھاتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار کا آغاز پاکستان کو برابھلا کہنے سے شروع کیا۔

 

لفظی گولہ باری کے بعد ٹرمپ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو وائٹ ہائوس بلوایا۔ ان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ داستان سنائی کہ جاپان کے شہر اوساکا میں بھارت کے وزیر اعظم نے اس سے درخواست کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرے۔ لیکن بھارت نے نہایت مکاری سے فقط ایک مختصر بیان کے ذریعے اس دعویٰ کی تردید کر دی۔ البتہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا مستقل حصہ بنانے کے لئے ایک جامع منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا۔

 

نصرت جاوید کہتے ہیں بالآخر اگست 2021 میں وہ ہو گیا جس کا مجھے اندیشہ تھا۔ مودی سرکار نے آرٹیکل 370 نافذ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی آزاد حیثیت ختم کر دی۔ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہو کر وائٹ ہاؤس آنے کے بعد اکثر لوگوں کو شبہ تھا کہ وہ پاکستان کے لئے خطرناک حد تک بھارت کے زیادہ قریب ہو جائے گا۔ اس حوالے سے امریکہ میں مقیم عاشقانِ عمراننخقن اپنی ترجیحات سے مغلوب ہو کر ضرورت سے زیادہ ’’پرامید‘‘تھے۔ لیکن وہ یہ بات فراموش کرگئے کہ امریکہ اگر واقتعاََ جمہوریت کا دلدادہ ہوتا تو جنرل ضیاء اور جنرل مشرف اس کے پسندیدہ ترین حلیف نہ رہے ہوتے۔

 

سینیئر صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عاشقان عمران کو مایوس کیا مگر ہم پاکستانیوں کی اکثریت اس سے خوش ہونا شروع ہو گئی۔ رواں برس مئی میں ہوئی پاک-بھارت جنگ کو ’’ایٹمی‘‘ ہونے سے روکنے کے لئے اس نے حقیقتاََ کلیدی کردار ادا کیا ہے لیکن۔ نریندر مودی انتہائی ڈھٹائی سے ٹرمپ کا کردار جھٹلاتا رہا۔ چنانچہ خوشامد پسند ٹرمپ اپنے دوست مودی کی ڈھٹائی سے چڑ گیا اور اس نے پاک بھارت جنگ کے دوران انڈیان فضائیہ کے تباہ ہونے والے جہازوں کی تعداد گنوانا شروع کر دی تاکہ مودی کو شرمندہ کیا جا سکے۔ جنگی حقائق کے مسلسل ذکر سے ٹرمپ بھارت کی سبکی تک ہی محدود نہیں رہا۔ اس نے امریکہ آنے والی انڈین برآمدات پر 50 فی صد ڈیوٹی عائد کرتے ہوئے بھارتی معیشت کو بڑی چوٹ لگا دی۔

 

نصرت جاوید کے مطابق ٹرمپ کا بنیادی گلہ یہ ہے کہ بھارت روس سے تیل خرید کر اس کے لئے یوکرین پر مسلط کردہ جنگ جاری رکھنے کے لئے سرمایہ فراہم کر رہا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ روس سے بھارت ایک قطرہ تیل بھی خریدے۔ روسی تیل اگرچہ بھارت سے کہیں زیادہ چین خریدتا ہے۔ لیکن چین کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانے پر ٹرمپ ابھی تک آمادہ نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی ٹیک انڈسٹری اور خصوصاََ مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے کے لئے اسے چین میں بننے والی چپ Chip  کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی ایک ارب سے زیادہ افراد پر مبنی ’منڈی‘ کو بھی کاروباری ذہنیت کا حامل ٹرمپ زیادہ دیر تک نظرانداز نہیں کرسکتا۔

 

نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ اب مودی اور ٹرمپ کے مابین رابطے بحال ہو رہے ہیں۔ ان دونوں کے مابین دیوالی کے تہوار کے بہانے فون پر جو گفتگو ہوئی اس کے نتیجے میں جلد ہی امریکہ بھارت سے درآمد ہونے والی اشیاء پر ڈیوٹی کے حوالے سے نرمی دکھائے گا۔ اس تاثر کو یقینی بنانے کے لئے ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں دیوالی منانے کی ایک تقریب بھی منعقد کی۔ وہاں موجود مہمانوں میں ایف بی آئی کا بھارت نڑاد سربراہ اور امریکہ میں بھارتی سفیر بھی موجود تھے۔ چنانچہ مجھے یقین ہے کہ مودی اور ٹرمپ میں ’’مک مکا‘‘ ہوگیا تو ہمارے ہاں کئی افراد مایوس ہوئے طعنہ زنی پر اترآئیں گے۔ لیکن سفارت کاری کو محض سفارت کاری کے طورپر ہی لیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو دوست بناتے ہوئے امریکہ نے ماضی میں بھی بھارت کو کبھی مخاصمت کی حد تک ناراض نہیں کیا۔ فقط صدر نکسن کے دور میں اندراگاندھی کی حکومت کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کسی حد تک مخاصمانہ ہوگئے تھے۔ اس کے باوجود جب اندرا نے ماضی کے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تو امریکہ ہماری مدد کو نہیں آیا۔

نائن الیون کے ہائی جیکرز نے پاکستانیوں سے تربیت لی تھی؟

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت، چین کے ساتھ دوستی اور وسطی ایشیاء تک رسائی کی بدولت پاکستان کی اپنی اہمیت ہے جسے بھارت کے تناظر میں رکھ کر جانچنا حماقت ہے۔ اس کیے ہمیں ٹرمپ کو سکول کے بچوں کی طرح اس امر پر مجبور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمارا دوست رہے یا بھارت کا۔

 

 

Back to top button