علیمہ سے عمران کی جانشینی چھیننا ممکن کیوں نہیں رہا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کے جیل جانے کے بعد سے ان کی ہمشیرہ علیمہ خان بلا شرکت غیرے نہ صرف پارٹی کی مالکن بن چکی ہیں بلکہ بانی تحریک انصاف کی جانشین بھی بن گئی ہیں اور یہ جانشینی ان سے چھیننا کسی اور پی ٹی آئی رہنما کے لیے ممکن نہیں رہا۔

عمران خان کے سابقہ بہنوئی حفیظ اللہ نیازی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ مارچ 2023 میں جب خان نے چکنے لونڈے مراد سعید کو اپنا ممکنہ جانشین بتایا تھا تو اسکا اصل مقصد ’’مراد کو آگے لانا نہیں بلکہ شاہ محمود قریشی کو پارٹی سنبھالنے سے روکنا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ یہاں جب کسی جماعت کو مقبولیت ملتی ہے تو اس کی تنظیم برباد ہو جاتی ہے، 70 کی دہائی میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کی مثالیں موجود ہیں۔ جماعت اسلامی تنظیمی طوربپر منظم ترین جماعت تھی لیکن اس کی عوامی مقبولیت صفر تھی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی اگرچہ غیرمعمولی مقبول طور پر عوام میں مقبول تھی لیکن اس کی تنظیم ہڑبونگ کا شکار تھی۔

حفیظ اللہ نیازی بتاتے ہیں کہ عمران خان نے الیکشن 2002 میانوالی سے لڑنے کا فیصلہ کیا تو مجھے میانوالی منتقل ہونا پڑا۔ ہم سال بھر کی محنت شاقہ سے الیکشن جیت گئے۔ یہ جیت عمران خان کی سیاسی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی چنانچہ عمران کا کہنا تھا کہ جس طرح تم نے میانوالی کا الیکشن منظم کیا اور مجھے جتوایا، اسی طرح مجھے میری تحریک انصاف بھی منظم کر دو۔ وہ بتاتے ہیں کہ میرا ماضی میں اسلامی جمیعت طلبہ سے تعلق رہا ہے جس کی تنظیم مثالی ہوتی تھی۔ 70 کی دہائی میں جمعیت کے سرگرم کارکن کی حیثیت سے میں نے تنظیم سازی کے بنیادی اصول سیکھے اور اپنائے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ تنظیم اور مقبولیت کا توازن قائم رکھنا ایک مشکل عمل ہے۔ جمعیت مقبولیت کے ریکارڈ تو توڑ رہی تھی لیکن اسکی تنظیم اسی رفتار سے متاثر ہو رہی تھی ۔

اسی طرح اوّل روز سے تحریک انصاف کبھی ایک منظم پارٹی نہیں بن پائی جس کی وجہ عمران خان کی مقبولیت ہے۔ آج تحریک انصاف ملک کی مقبول سیاسی جماعت ضرور ہے، لیکن اسکی تنظیم پہلے سے بھی بدتر نظر آرہی ہے ۔ نیازی کہتے ہیں کہ ہمیشہ سے تاثر یہی رہ ہے کہ عمران خان اپنے جانشین کے انتخاب میں دلچسپی نہیں رکھتے، چنانچہ ہمیشہ نمبر دو پوزیشن بارے ابہام رہا ہے۔ 30 اکتوبر 2011 کو لاہور کا جلسہ عمران خان کی سیاست میں گیم چینجر بنا۔ لیکن حیرت کہ اتنے بڑے جلسہ کے بعد بھی کوئی بڑا سیاستدان پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہو رہا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ میں نے درجنوں معروف سیاستدانوں کی لسٹ بنائی اور ان سےملاقاتوں کی ٹھانی۔ ان میں ایک نمایاں نام شاہ محمود قریشی کا تھا، میں عمران خان سے ملاقات کی دعوت لیکر انکے گھر پہنچا۔ طویل نشست کے بعد جب شاہ صاحب نے تحریک انصاف میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی تو شرط یہ رکھی کہ’’میں ومران کا نمبر 2 یعنی کہ جانشین بنوں گا۔ عمران نے مجھے شاہ صاحب کو پنجاب کی حد تک محدود رکھنے کا اجازت نامہ دیا تھا لیکن میں نے مجبور ہوکر شاہ محمود کو وائس چیئرمین کا عہدہ سونپ دیا۔ اس ملاقات سے واپس آکر میں عمران کو عمران کو بتقیا تو وہ بھنائے ضرور مگر مان گئے۔

حفیظ اللہ کہتے ہیں کہ اس پیرائے میں الیکشن 2008 کا احاطہ ضروری ہے۔ جب عمران نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو وہ عملاً اپنی سیاست ختم کر چکے تھے اور مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گھر چکے تھے۔ موصوف کا تو یہ خیال تھا کہ ن لیگ سے اتحاد کئے بغیر اب سیاست آگے بڑھانا ممکن نہیں رہا۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے بہت زور لگا کر عمران کو اس ذہنی کیفیت سے نکالا۔ اپریل 2008 میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے مرکز اور پنجاب میں اتحادی حکومتیں بنائیں تو لامحالہ اپوزیشن کی SLOT خالی ہو گئی۔ میری نظریں اس SLOT پر تھیں کیونکہ اب یہ عمران کو باآسانی ملنے کو تھی۔ لہٰذا جب 2011 کے اختتام تک عمران ملک کی بڑی اپوزیشن پارٹی بن کر اُبھرے تو مجھے قطعاً حیرت نہیں ہوئی تھی۔

وہ بتاتےنہیں کہ عمران خان کی فیملی کی سرشت غیرسیاسی ہے۔ چنانچہ 30 اکتوبر 2011 کے جلسے سے پہلے ان کی بہنوں کی سیاست سے لاتعلقی سمجھ میں آتی ہے ۔ لاہور کے جلسے سے عمران کی سیاسی مقبولیت سامنے آئی تو بہنوں کا جوش میں آنا فطری بات ہے، ایسے میں علیمہ خان پارٹی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنے لگیں۔ تاہم عمران خان موروثی سیاست کے مخالف ہونے کی وجہ سے ایسی دخل اندازی کو ناپسند فرماتے تھے ۔ 2013 میانوالی کے ضمنی الیکشن پر علیمہ خان کی الیکشن لڑنے کی خواہش سامنے آئی تو عمران خان نے سختی سے رد کر دی۔ جب 2014 کا اسلام آباد دھرنا ہوا تو عمران کی بہنیں وہاں موجود تو تھیں لیکن متحرک نہیں تھیں۔

حفیظ اللہ نیازی بتاتے ہیں کہ جب 2018 میں عمران خان وزیر اعظم بنے تو ان کی بہنیں حکومت سے لاتعلق رہیں، حکومت اور اپوزیشن دونوں جگہ عمران کی فیملی کو کہیں سپیس نہ ملی اور نہ ہی انہوں نے حوصلہ افزائی کی۔ 5 اگست 2023 کو عمران گرفتار ہوئے تو علیمہ خان نے پہلے اٹک جیل اور پھر اڈیالہ جیل کے باہر واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ ’’ہمارا کوئی سیاسی کردار نہیں ہے۔ لیکن گاہےگاہے علیمہ کا سیاسی رول اب سب کے سامنے عیاں ہے۔ اس وقت وہ پارٹی سنبھال کر اس کی جانشین بن چکی ہیں خصوصا بشری بی بی کے جیل جانے کے بعد سے۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ علیمہ خان کا PTI سیاست پر چھا جانا عمران خان کے پسند ناپسند سے قطع نظر ایک فطری عمل ہے۔ علیمہ خان کو پچھلے دو سال میں جتنی میڈیا کوریج اور پروجیکشن ملی ہے یہ اسکا منطقی نتیجہ ہے کہ اب پارٹی قیادت ان کو منتقل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ بھی انہیں لیڈر بنانے کی کوشش کر رہی یے۔ پہلے علیمہ کو گرفتار کیا گیا، پھر ایک ایک کر کے ان کے دونوں بیٹوں کو گرفتار کیا گیا جسکی کوئی تک نہیں بنتی تھی۔ چنانچہ اب پی ٹی آئی پر علیمہ خان کے حقوق جانشینی اور بھی مستحکم ہو گے ہیں۔ علیمہ کے بیٹوں کی گرفتاری پر تو PTI کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔

حفیظ اللہ نیازی بتاتے ہیں کہ میرے بیٹے اور عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی کو 10 سال قید کی سزا ہوئی مگر اس پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ اور تحریک کی سرد مہری دیدنی تھی۔ علیمہ خان نے مجال ہے دو سال میں حسان خان کا کبھی نام بھی لیا ہو ۔ لیکن جب علیمہ کے اپنے بیٹوں کی گرفتاری ہوئی تو ابہیں حسان کا نام بھی ساتھ لینا پڑا۔ حفیظ اللہ نیازی کے بقول انہیں ایک ادارے کے ایک سینئر افسر نے علیمہ کی عمران سے ہونے والی گفتگو بتائی جس میں وہ اپنے بھائی کو بتا رہی تھیں کہ حسان کو PMLN نے بذریعہ حفیظ اللہ نیازی پلانٹ کر رکھا ہے۔ جب حسان خان کو دس سال قید کی سزا ہوئی تو یہ بھی کہا گیا کہ میں اپنے بیٹے کی امیج بلڈنگ کروا رہا ہوں۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اب جبکہ میری کتاب میں علیمہ خان باقاعدہ نمبر ون لیڈر ہیں، انکی جانشینی میں پارٹی نے انتشار کی طرف جانا یے اور باہمی بداعتمادی نے فروغ پانا ہے ۔ البتہ ! عمران خان کے ماننے چاہنے والے علیمہ کی ڈیفیکٹو قیادت میں متحد و متفق ہیں۔ عمران خان کی غیر موجودگی میں قیادت کا خلا نمایاں تھا جو اب پُر ہو چکا۔ لیکن یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کی تدبیر ہے یا بدتدبیری، وقت ہی بتائے گا، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پارٹی کی جانشینی سنبھالنے کے بعد علیمہ خان اسٹیبلشمنٹ کیلئے مزید مشکلات پیدا کریں گی یا اسکے لیےفائدہ مند رہیں گی۔ نتیجہ جو بھی نکلے لیکن ایک بات طے ہے کہ اب علیمہ خان سے جانشینی واگزار کروانا ممکن نہیں رہا۔ آج سوال یہ نہیں کہ عمران خان اپنا کوئی جانشین چاہتے ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ’’بہ امر مجبوری اس جانشین کو قبول کر پائیں گے‘‘؟

Back to top button