کیا پاکستان کی روس اور چین سے دوستی امریکہ کو ناراض کرے گی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ چینی یوم انقلاب کی پریڈ کے دوران روس، شمالی کوریا اور چینی قیادت کے ساتھ پاکستانی اور ایرانی قیادت بھی موجود تھی جو امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام تھا، لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان ان تین امریکی مخالفین کے ساتھ کھڑا ہونے کے باوجود امریکہ سے اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھ پائے گا یا نہیں؟

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دو بڑی عالمی طاقتوں کی آویزش اور لمبی سرد جنگ کے بعد سے دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نئے اتحاد بن رہے ہیں، پرانی دوستیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ سرد جنگ کے بعد سے دنیا میں عدم توازن اور کنفیوژن کی جو صورتحال تھی اس میں وقت گزرنے کیساتھ نئے اب متحارب بلاکس بن رہے ہیں۔ چین میں ہونے والی یوم انقلاب کی حالیہ فوجی پریڈ میں روس، چین اور شمالی کوریا کا اظہار یکجہتی یقینا امریکہ کے نئے متحارب فریق کے ابھرنے کا آغاز ہے ۔یہ نیا مقابلہ کیا رخ اختیار کریےگا یہ تو آئندہ دنوں میں پتہ چلے گا لیکن بدلتی دنیا میں سب سے زیادہ کنفیوژڈ، غیر محفوظ اور اکیلے مسلم ممالک ہی ہیں۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سرد جنگ کے دوران دو عالمی پاورز کی لڑائی کی وجہ سے بیشتر مسلم ممالک غلامی سے آزاد ہوئے، سرد جنگ کے دوران زیادہ تر مسلمان ممالک ماسوائے چند ایک کے امریکہ اور یورپ کے اتحادی رہے مگر سرد جنگ کے دوسرے بڑے حریف کا لیبیا، عراق، ایران اور شام کو بھی بڑا سہارا رہا۔ ایک زمانے میں مصر بھی روس کا اتحادی رہا مگر پھر انور السادات نے اپنا وزن امریکی پلڑے میں ڈال دیا۔
نائن الیون کے بعد مسلم دنیا نشانہ بن گئی، افغانستان کے بعد عراق کی باری آئی، صدر صدام اقتدار سے نکالنے کے بعد پھانسی چڑھائے گئے۔ لیبیا میں خانہ جنگی ہوئی اور پھر صدر قذافی قتل کر دیے گئے۔ شام میں خونریز جنگ ہوئی جس کے بعد دہائیوں سے حکمران خاندان کے بشار الاسد کو فرار ہو کر ماسکو میں پناہ لینی پڑی۔ پھر غزہ اور لبنان پر حملوں میں امریکہ اور اسرائیل مخالف فلسطینی حریت پسندوں کو چن چن کر نشانہ بنایاگیا۔ آخر میں ایران کی باری آئی اور چند ہی دنوں میں اسکے نیوکلیئر اثاثے، جرنیل اور سائنس دان رخصت کردئیے گے، گویا اس وقت اسلامی دنیا میں امریکہ مخالف بلاک کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ میری حقیر رائے میں روس نے مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک سے اپنا ہاتھ اٹھالیا ہے اور بدلے میں صرف یوکرائن مانگ لیا ہے۔ یہ نئی صورتحال اسلامی دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ایک طرف تو ان میں سرے سے نہ اتحاد ہے اور نہ مستقبل قریب میں اسکا امکان ہے۔ دوسری طرف نئے بننے والے بلاکس میں کہیں بھی نہ تو ان کے پاس فیصلہ کن اختیار ہے اور نہ ہی انہیں کوئی اہمیت حاصل رہی ہے۔ چین اور روس، امریکہ کی مخالفت میں ایران، عراق ، لیبیا، شام اور یمن کی حمایت کرتے رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ روس اور چین دونوں کو اسلامی انتہا پسندی کا سامنا ہے اور وہ خود اس خطرے سے نمٹنے کیلئے اپنے وسائل صرف کررہے ہیں، گویا کسی بھی مسلم ملک کے انتہا پسندانہ مذہبی عزائم کیخلاف امریکہ روس اور چین اکھٹے ہونگے۔

سلطنت عثمانیہ کیخلاف عرب بغاوت سے پہلے برطانیہ اور فرانس نے افریقہ کے مسلمان ممالک کو اپنی کالونی بنا لیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کے قیام اور سرد جنگ کے آغاز کے بعد مسلمان ممالک کو آزادی، خود مختاری یا نیم آزادی ملی تو عمومی طور پر دوطرح کے ردعمل سامنے آئے۔ اکثر مسلم ممالک کا حکمران طبقہ مغربی ممالک کو اپنا حلیف بناکر خود کو طاقتور سمجھنے لگا۔ عوامی طور پر معاشرہ مغرب کی سائنسی ترقی اور جدید طرز زندگی سے متاثر ہوا، مغربی تعلیم ،طور طریقوں اور فلسفہ زندگی نے مسلمانوں پر گہرے اثرات ڈالے، ترکی میں مصطفیٰ کمال پاشا کی سربراہی میں ایک تحریک نے جنم لیا ،مصر میں محمد عبدہ نے نظام تعلیم تبدیل کرنے اور نئی اسلامی تشریحات پر زور دیا، سعد زغلول نے برطانیہ سے آزادی کی تحریک چلائی، ان تحریکوں کے نتیجے میں مغرب اور اسلام کے ملاپ سے ایک نئی سوچ نے جنم لیا۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ انڈیا میں سرسید احمد خان اور علامہ اقبال نےمسلمانوں کو تعلیم، اجتہاد اور نئے نظریات سے ہم آہنگی کا درس دیا۔ اقبال نے تو مسلمانوں کو مغرب سے مرعوب ہونے کی بجائے اپنی شناخت قائم رکھنے پر زور دیا۔ اس دوران مغرب سے متاثرہ تحریکوں کے بالکل مخالف ایک نئی سوچ نے بھی جنم لیا جس نے مسلمانوں کے زوال کو مذہبی فکر سے دوری کیساتھ جوڑا اور مسلمانوں کی مذہبی نشاۃ ثانیہ پر زور دیا۔ ترکی میں کمالسٹ حکمرانوں نے اسلام پسند تحریکوں کو اٹھنے نہ دیا مگر ابھی تک ان تحریکوں کے اثرات اردوان کی شکل میں کہی ںنہ کہیں نظر آتے ہیں۔ تاہم مصر میں اخوان المسلمین اور پاکستان میں جماعت اسلامی نے مکمل اسلامی نظام کو مسلمانوں کا ہدف اور انکی ترقی کا واحد راستہ قرار دیا۔ جماعت اسلامی نے پرامن سیاسی تحریک کے ذریعے اسلامی انقلاب کا راستہ اپنائے رکھا مگر اخوان المسلمین پر تشدد راستے پہ گامزن ہوگئی۔ یہ تحریک نہ صرف مصر میں انور السادات کے قتل پر منتج ہوئی بلکہ اس قتل کا معاون ایمن الظواہری پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ ساز بھی نکلا۔ اخوان المسلیمین کی سوچ میں انتہا پسندی آتی گئی۔ افغانستان کے اندر روس کیخلاف جنگ نے دنیا بھرکے مسلم انتہا پسندوں کو اسلامی جہاد کے نام پر اکٹھا کیا، اس زمانے میں اس کاز کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی چنانچہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک حتیٰ کہ امریکہ اور روس تک اسکے اثرات پہنچے۔

لیکن سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ بعد ازاں نائن الیون نے امریکہ کو جہادی خطرے کیخلاف لڑنے پر مجبور کیا۔ دوسری طرف افغان جہاد کے دوران جنگی تربیت حاصل کرنے والے چیچن جہادیوں نے جب ماسکو میں سینکڑوں شہریوں کو قتل کیا تو وہاں سے بھی شدید رد عمل آیا جس کے بعد دنیا بھر میں جہاد کے ذریعے اسلامی نشاۃ ثانیہ کا خواب ادھورا رہ گیا۔حزب اللہ کی لبنان میں تباہی اور غزہ میں حماس قیادت کے خاتمے کے بعد اسلامی دنیا ایک دفعہ پھر بڑے فکری بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف اسے اپنی بقاکی جنگ لڑنی ہے، اور اپنی انفرادیت برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کرنی ہے تو دوسری طرف نئے زمانے کیساتھ قدم ملا کر بھی چلنا ہے۔

چین میں ہونے والی حالیہ فوجی پریڈ کے بعد پہلی بار امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے روس، چین اور شمالی کوریا کے اتحاد پر منفی ردعمل آیا ہے۔ اس نئی پیش رفت کے بعد اسلامی ممالک کیلئے ایک نیا مخمصہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ آنیوالے دور میں کس راستے کا انتخاب کریں، حالانکہ روس یا چین کی کسی اسلامی ملک سے دشمنی نہیں لیکن چینی فوجی پریڈ میں جن دو مسلم ممالک کی شرکت کو نوٹ کیا گیا ان میں پاکستان اور ایران شامل ہیں۔ کسی زمانے میں امریکہ کا قریب ترین حلیف اسلامی ملک سعودی عرب تھا لیکن حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد سے پاکستان بھی امریکہ کے قریب ترین حلیفوں میں شمار ہونے لگا ہے۔ یہ بھی قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مصالحت میں پاکستان نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ حیران کن طور پر پاکستان چین کے بھی بڑے اتحادیوں میں نہ صرف شمار ہوتا ہے بلکہ حالیہ فوجی پریڈ میں اس کا اظہار بھی ہوا ہے، کہا جارہا ہے کہ پاکستان ، چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں توازن رکھنے میں کامیاب ہو جائیگا۔ مگر بدلتے ہوئے حالات میں مسلم ممالک بالعموم اور پاکستان بالخصوص دوراہے پر کھڑے ہیں۔ مسلم دنیا میں اسوقت کوئی ایسا بڑا لیڈر یا ملک نہیں جس کی قیادت پر سب کا اتفاق ہو۔ فکری اور نظریاتی طور پر مذہبی انتہا پسندی کیخلاف بین الاقوامی اتحاد کے بعد سے طالبان، القاعدہ، اخوان، آئی ایس آئی ایس کے راستے پر چلنا خطرناک اور تباہ کن ہو چکا۔ دوسری طرف مسلم ممالک میں جمہوریت ابھی تک ابتدائی منزلوں میں ہے اکثر ملکوں میں تو بادشاہی اور آمرانہ نظام قائم ہیں جبکہ تقریباًہر اسلامی ملک میں جہادی گروپس سب سے بڑی اپوزیشن ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسرائیل نے لبنان ، شام، غزہ اور ایران میں گرائونڈ فورس نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے نشانے لگائے۔ مسلم دنیا جب تک تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی میں قدم نہیں جماتی انکی دولت، طاقت حتیٰ کہ نیوکلیئر صلاحیت بھی انہیں دستِ نگر ہی رکھے گی، انکی آزادی، خود مختاری یا مکمل خوشحالی ہمیشہ کمپرومائز ہی رہے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلم دنیا کیا اس بار کوئی مثبت انگڑائی لیکر آزادی، جمہوریت اور خوشحالی کی طرف بڑھے گی یا نہیں؟۔

Back to top button