کیا بلاول مولانا کو آئینی ترمیمی پیکج پر راضی کر پائیں گے؟

تمام تر دعووں کے باوجود آئینی ترمیم کی عدم منظوری کے بعد اب پیپلز پارٹی نے یو آئی کی مشاورت سے متفقہ آئینی ترامیمی پیکج لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے آئینی ترامیمی پیکیج کے حوالے سے شہباز شریف نے بلاول کو پورا مینڈیٹ دیتے ہوئے گرین سگنل دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ پارلیمنٹ کے ہونے والے اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کی جانے والی ترامیم کی پیشوائی پیپلزپارٹی کرے گی،نئی مفاہمت سے تحریک انصاف کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں، ذرائع کا دعوی ہے کہ ستمبر کے آخری ہفتے تک آئینی ترامیم کا متفقہ مسودہ تیار ہو جائے گا جبکہ دونوں ایوانوں کا اجلاس اکتوبر کے پہلے ہفتے میں طلب کیا جائے گا ،اس حوالے سے خورشید شاہ نے ترامیم تیار کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اہم ترین آئینی ترامیم کو متفقہ طور پر منظوری کے لئے پیش کرنے میں غیر معمولی تاخیر کے بعد اب یہ آئینی ترامیم پیپلزپارٹی پیش کرے گی جنہیں وہ مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت العلمائے اسلام کی سرگرم اعانت سے مرتب کرے گی توقع ہے کہ پیپلزپارٹی ہی اس کے مسودے کو پائلٹ کرے گی جو 1973ء کے آئین کی خالق ہے اور پاکستان مسلم لیگ نون کے ساتھ مل کر اس نے آئین کی معرکۃ الآرا اٹھارویں ترمیم بھی منظور کرائی تھی۔ اب آئین کی چھبیسویں ترمیم کا سہرا بھی مسلم لیگ نون کے سر نہیں بندھ سکے گا یہ اعزاز بھی پیپلزپارٹی کے حصے میں آئے گا۔حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کونئی حکمت عملی کے لئے با اختیار بنادیا ہے۔
عدالتی اصلاحات کیلئے ترمیم کی منظوری میں سرگرم ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن کے مطالبے پر آئینی ترامیم کے مسودے میں متعددتبدیلیاں کردی گئی ہیں ، ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بلاول بھٹو کی کوششوں سےکم سےکم ایجنڈےپر آئینی ترامیم بارے متعددنکات پر مولانا سے اتفاق ہوگیا ہے۔مولاناکے مطالبے پر ملٹری کورٹس سےمتعلق ترامیم واپس لی گئی ہیں ، ججز کی مدت ملازمت 68 سال تک بڑھانے کی شق بھی واپس لی جا چکی ہے جبکہ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن اور حکومت میں آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔نئی ترامیم کےمطابق آئینی عدالت کا سربراہ سپریم کورٹ سے ریٹائرڈ جج ہوگا، آئینی عدالت کےسربراہ کا تقررپہلی باروزیراعظم کی ایڈوائس پرصدر کرینگے، جبکہ آئینی عدالت کے باقی ججز کا تقرر پانچوں ہائیکورٹس سےاہلیت کی بنیاد پر ہو گا، آئینی عدالت پانچ سے سات ججز پر مشتمل ہو گی اور آئینی عدالت صرف آئینی امور سے متعلق مقدمات سنے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ مولانافضل الرحمٰن اورحکومت میں آرٹیکل 63 اےمیں ترمیم پر اتفاق ہوا، جس کے تحت فلور کراسنگ پرووٹ شمار تصورہو گا۔
خیال رہے کہ 16ستمبر کو رات گئے بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن کی ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مولانا سے کوئی اختلاف کی بات نہیں اور دونوں جماعتوں نے معترضہ شقیں بل سے نکال کر متفقہ مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
پیپلز پارٹی رہنماسید خورشید شاہ کے مطابق ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کے عوام، ملک اور قوم، آئین اور قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے مطابق ہم قانون سازی کریں، قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمٰن باہمی مشارٹ اور اتفاق رائے سے آگے بڑھے گی۔ خورشید شاہ کے بقول مولانا کو منانے یا جھگڑنے کی بات نہیں ہے، ہم نے وزیر اعظم کو اعتماد میں لیا کہ ہم بل پر مولانا صاحب سے بات کریں گے اور جب ہم اور مولانا صاحب متفق ہوں گے تو حکومت کو بتائیں گے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ کل خصوصی کمیٹی میں بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن بھی شریک تھے، وہاں یہ بات ہوئی کہ ہم اور آپ مل کر تمام وہ شقیں جس پر کسی ایک کو بھی اعتراض ہے اس کو الگ رکھتے ہیں اور آخر میں ایک متفقہ مسودہ پارلیمانی عمل سے گزار کر ساتھ پیش کریں جس پر دونوں میں اتفاق ہوا۔ دونوں جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ہم بیٹھتے ہیں، ڈرافٹ پیپلز پارٹی بھی دے گی اور جے یو آئی بھی دے گی، اختلاف کی کوئی بات نہیں ہے، پیپلز پارٹی کی توجہ آئینی عدالتوں بارےترمیم لانے پر ہے جس پر مولانا صاحب نے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے۔
