عمران عدم اعتماد کا سامنا کریں گے یا اسمبلی توڑ دیں گے؟

اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے مطلوبہ نمبرز گیم پر فوکس کرلیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ پہلے مرحلے میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی تاکہ ایوان زریں کا قبضہ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ذیادہ آسانی سے ووٹ آوٹ کیا جا سکے۔

دوسری جانب اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو وزیراعظم عمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے سے پہلے ہی قومی اسمبلی توڑ سکتے ہیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا لیکن اب اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں میں اتفاق رائے ہو گیا یے کہ پہلے مرحلے میں اسپیکر کو نکالا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں کبھی کسی وزیر اعظم کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی تحریک عدم اعتماد اس لیے کامیاب نہیں ہوئی کہ سپیکر اسمبلی حکومتی جماعت کا آدمی ہوتا تھا لہذا اس مرتبہ پہلے اسپیکر کی کرسی پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وزیراعظم کو نکالنے کا کام آسان ہو جائے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے میں زیادہ دیر نہیں کی جائے گی اور تحریک عدم اعتماد جنوری کے آخری یا فروری کے پہلے ہفتے میں لائے جانے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا شروع کر دیا ہے اور دو بڑی حکومتی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور قاف لیگ کی قیادت سے بھی رابطے کیے جارہے ہیں۔

اپوزیشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے خود کو نکالنے کے حوالے سے دی گئی دھمکی اسی پیرائے میں لی جانی چاییئے کیوں کہ انہیں اپنا مستقبل تاریک ہوتا دکھائی دے رہا ہے اس لئے وہ اپنے لانے والوں کو دھمکی دے رہے ہیں جن کا ہاتھ اٹھنے سے ان کا اقتدار ختم ہو سکتا ہے۔خیال رہے کہ 23 جنوری کے روز وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں اور اگر انہیں اقتدار سے نکالا گیا تو وہ اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تو میں چپ چاپ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہا ہوں لیکن اگر مجھے نکالنے کی کوشش کی گئی تو میں سڑکوں پر نکل آؤں گا اور جس کے بعد ایسا کرنے والوں کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔ دوسری جانب وزیراعظم کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ اپنا وقت پورا ہوتا دیکھ کر عمران اب گیدڑ بھبکیوں پر اتر آیا یے۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب، بہتر ہو گا کہ آپ اپنا سامان اٹھائیں اور گھر چلے جائیں تاکہ عوام شکرانے کے نفل ادا کرسکیں۔

لاہور:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نجی ٹی وی کا رپورٹر جاں‌ بحق

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں کے پیش نظر حکمران تحریک انصاف کی قیادت اپنی صفوں میں پڑنے والی دراڑیں بھرنے کی سر توڑ کوشش کررہی ہے کیونکہ اتحادی جماعتیں آپس میں مربوط ہونے کے بجائے دست گریباں دکھائی دیتی ہیں۔ وزیر دفاع پرویز خٹک، نور عالم خان اور میجر طاہر صادق جیسے ممبران اسمبلی کھل کر وزیراعظم پر تنقید کر چکے ہیں جب کہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر بھی ان کی پیٹھ پیچھے اچھی بات نہیں کرتے۔

دوسری جانب نور عالم خان کو تو اظہار وجوہ کا نوٹس دیا جاچکا ہے تاہم پرویز خٹک اور طاہر صادق کی تنقید کو مصکحت کے تحت نظرانداز کردیا گیا ہے حالانکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں انہوں نے کھل کر اپنے حکومت مخالف خیالات کااظہار کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت مشکل صورتحال کا شکار ہیں لہذا اپنے مزاج کے برعکس تحمل سے چلنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی لیے پرویز خٹک سے جھگڑے کے بعد انکے خلاف کوئی ایکشن لینے کی بجائے وزیراعظم نے انہیں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کا سربراہ بنادیا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے باغی رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ دو درجن کے قریب حکومتی ممبران اسمبلی پر مشتمل ایک فارورڈ بلاک بنانے جارہے ہیں جو تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کے وقت ماضی میں کپتان کا ساتھ دینے والی اسٹیبلشمنٹ نے ان کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تو ان کا دھڑن تختہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اس مرتبہ اپوزیشن بھی پکے پاؤں تحریک عدم اعتماد لانے چاہتی ہے لہذا پہلے مرحلے میں اپنی عددی اکثریت ثابت کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو نشانہ بنایا جائے گا۔

تاہم اپوزیشن کے کچھ رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو وزیراعظم اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے سے پہلے ہی قومی اسمبلی توڑ سکتے ہیں لہذا بہتر ہوگا کہ براہ راست انہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔

Back to top button