کیا جسٹس منصور علی شاہ واقعی اگلے چیف جسٹس بن سکیں گے ؟

سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کو اگلا چیف جسٹس بنانے کی بجائے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے عہدے میں توسیع کی افواہیں اب دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان افواہوں کا خاتمہ تب شروع ہوا جب وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے جیو نیوز کے پروگرام میں بتایا کہ جسٹس منصور علی شاہ ہی اگلے چیف جسٹس ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی جسٹس قاضی فائز عیسی خود کہہ چکے ہیں کہ ان کی جگہ منصور علی شاہ اگلے چیف جسٹس بنیں گے کیونکہ وہ توسیع نہیں چاہتے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی راستہ بھی یہی ہے اور اسکے علاوہ کوئی اور تجویز زیر غور نہیں۔

آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھاکہ مخصوص نشستوں بارے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے اتحادی حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی مگر تب بھی عدلیہ سے متعلق کوئی ترمیم منظور نہیں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس مجھ سے ملاقات میں خود کہہ چکے ہیں وہ توسیع نہِیں لینا چاہتے۔ لیکن وفاقی وزیر قانون کی گفتگو کا خلاصہ یہی ہے کہ حکومت کے پاس پارلیمینٹ میں اب چونکہ دو تہائی اکثریت برقرار نہیں رہی اور ججز کی معیاد میں توسیع کے لیے آئینی ترمیم پاس نہیں ہو سکتی لہازا  منصور علی شاہ ہی اگلے چیف جسٹس ہوں گے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ ماہ سے جسٹس منصور علی شاہ کو حکومتی حلقوں میں ایک عمرانڈو جج شمار کیا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے متعدد ایسے فیصلے ہیں جن سے عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کو براہ راست فائدہ ہوا۔ اس حوالے سے سب سے اہم فیصلہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں دینے کے حوالے سے تھا جس پر عمل درامد روکنے کے لیے حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے ترمیم کی۔ اس ترمیم کو تحریک انصاف چیلنج کر چکی ہے اور اس حوالے سے اونٹ کس کروٹ بیٹھنا ہے یہ ابھی طے ہونا ہے۔ تاہم اب ایسی خبریں سننے میں آ رہی ہیں کہ منصور علی شاہ کے ساتھ تمام معاملات طے ہو چکے ہیں اور انہی کو اگلا چیف جسٹس بنایا جائے گا۔

حکومت کا ججز کی تقرری کا طریقہ بدلنے کے لیے ترمیم کا فیصلہ

اس حوالے سے سینیئر صحافی نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ذہن سازوں کا ایک طاقتور گروہ رواں برس کے آغاز سے یہ دعویٰ کیے چلے جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس نے چونکہ عمران خان کی اقتدار میں واپسی روکنے کے لیے ان کا انتخابی نشان-بلا- چھینا تھا اس لیے انہیں عہدے میں توسیع دے کر دو یا تین سال کے لیے مزید برقرار رکھا جائے گا۔ نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے زہن سازوں  کے بنائے گے تاثر کے مطابق موجودہ چیف جسٹس کو سنی ان کہانیوں کا وہ ’طوطا‘ بنا کر دکھایا جارہا ہے جس میں ایک طاقتور ترین ’جن‘ کی ’جان‘ ہوتی ہے۔ یہ وہی طوطا ہے جس سے نجات پا کر جن بے اثر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اگر موجودہ چیف جسٹس توقع کے مطابق رواں برس کے اکتوبرکے درمیان اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تو 8 فروری کے الیکشن  کی بنیاد پر اٹھایا حکومتی ڈھانچہ دھڑام سے گر جائے گا۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اس لیے تحریک انصاف والے یہ ڈھنڈورا پیٹتے چلے ارہے ہیں کہ موجودہ حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ چیف جسٹس صاحب ریٹائرہوں۔ مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کیسے روکی جائے۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے میعاد عہدہ میں توسیع کے لیے آئین میں ترمیم درکار ہے۔ ممکنہ ترمیم کے لیے حکومت کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی اجتماعی تعداد میں سے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ لیکن جو نمبرز حکومت کو درکار ہیں وہ فی الحال میسر نہیں۔ اس کے باوجود مسلسل دہائی مچائی جارہی ہے کہ اگست کا آخری ہفتہ شروع ہوتے ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے جو اجلاس ’اچانک‘ بلا لیے گئے ہیں ان کا مقصد آئین میں ترمیم کے ذریعے ’عدالتی اصلاحات‘ کے نام پر متعدد نئے قوانین متعارف کروانا ہیں۔ میں اس تھیسس کو رد کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا کہ حکومت وقت اپنی بقا کے لیے چیف جسٹس کی میعاد عہدہ میں توسیع چاہ رہی ہو گی۔ صاف ظاہر کہ اپنی خواہش کو عملی صورت دینے کے لیے اس کے پاس وہ نمبرز ہی موجود نہیں جو آئین میں ترمیم کے لیے درکار ہیں۔ ویسے بھی آئین میں ترمیم پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے نہیں ہوتی۔

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ انہیں الگ الگ منظور کرتے ہیں۔ 28 اگست کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا جو مشترکہ اجلاس بلایا گیا ہے اس کے ذریعے کچھ اور کام لینا مقصود ہو سکتا ہے۔ اگر موجودہ حکومت عدلیہ کو واقعتا چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ’قابو‘ میں رکھنا چاہ رہی ہے تو اس مقصد کے لیے ’کچھ اور نوعیت‘ کے قوانین متعارف کروائے جا سکتے ہیں جن کے لیے دو تہائی اکثریت درکار نہیں۔

Back to top button