خیبر پختونخواہ میں طالبان کا کنٹرول، دہشت گردی انتہا پر پہنچ گئی

دس سال گزرنے کے باجود دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مظابق عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے جہاں دہشت گردی کے شکار علاقوں میں غربت، بے روزگاری اور پسماندگی بڑھی ہے وہیں دوسری جانب خیبر پختونخوا میں دہشتگردانہ واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 14 اضلاع میں دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت،سہولت کاری اوراغوا برائے تاوان کے 477 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ انسداد دہشت گردی کے صوبائی دفتر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبےکے 26 اضلاع میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران 117مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 229 کو گرفتار کیا گیا جبکہ انہی اضلاع میں دہشتگردی کے 237 واقعات میں 65 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ 86 زخمی ہوئے۔ اس سال اب تک دہشت گردی کے سب سے زیادہ 40 واقعات شمالی وزیرستان میں پیش آئے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان دوسرے اور ضلع ٹانک اس حوالے سے تیسرے نمبر پر رہے۔

کیا جسٹس منصور علی شاہ واقعی اگلے چیف جسٹس بن سکیں گے ؟

دہشت گردی کے واقعات میں اضافے پر اپنے رد عمل میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کا کہنا تھا،”وزیرستان میں اکثر علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے عام شہریوں کے تحفظ کا تصور ختم ہوچکا ہے۔ دہشت گردوں کے راستے میں تھوڑی سی رکاوٹ عوام کی جانب سے مزاحمت اور احتجاج کی وجہ سے ہے۔‘‘انکا مزید کہنا تھا، ”انفرادی طور ان طالبان کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا اور اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھنے سے انہیں کوئی وقتی فائدہ ہوگا تو یہ بالکل درست نہیں کیونکہ یہ سب کچھ ہم افغانستان میں دیکھ چکے ہیں۔ ‘‘محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف واحد حل سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے، جس میں کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر اقدامات اٹھائے جائیں ۔ تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس حساس معاملے پر بھی سیاست بازی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب مبصرین کے مطابق قبائلی اضلاع میں زیادہ تر لوگوں کا انحصار افغانستان سے تجارت سے وابستہ ہے لیکن حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان اورافغانستان کے ساتھ چاربڑی گذرگاہیں طورخم ،خرلاچی، انگوراڈہ اور غلام خان زیادہ تر بند رہتی ہیں، جس کی وجہ سے بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اسی بے روزگاری کے ہاتھوں پریشان نوجوان بعض دفعہ عسکریت پسند تنظیموں کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔حکومت کی غیر مستحکم داخلہ اور خارجہ پالیسیاں بھی دہشت گردی کے خاتمے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر روابط استوار کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنےوالے ادارے دہشت گردی میں ملوث بعض افراد کو حراست میں تو لیتے ہیں تاہم ناقص تفتیش اورشواہد کی کمی کی وجہ سے اکثر ان مشتبہ افراد کو ریلیف مل جاتا ہے۔ عدالتوں میں دہشت گردی سے متعلق سینکڑوں کیسز زیر سماعت ہیں ان کیسز کے لیے پولیس، سی ٹی ڈی اورسرکاری پراسیکیوٹرز پرمشتمل جائنٹ ایکشن کمیٹیان تشکیل دی جانی چاہیں تاکہ ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جا سکے۔

Back to top button