کیا سعودیہ کی خاطر پاکستان نیوکلیئر ہتھیار بھی استعمال کرے گا ؟

 

 

 

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدے نے مغربی دنیا کو پریشان کر دیا ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا مشکل وقت میں پاکستان سعودی عرب کی حفاظت کے لیے اپنے نیوکلیئر ہتھیار بھی استعمال کرے گا؟

 

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا سٹریٹجک معاہدہ کئی اعتبار سے غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے جس کے اثرات پر دنیا بھر میں بحث ہورہی ہے۔ مسلم دنیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اسے خاص توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ابھی اس پر کئی ممالک کا ردعمل محتاط ہے، بھارت نے کھل کر تبصرہ نہیں کیا، امریکی بھی صورتحال کا جائزہ ہی لے رہے ہیں۔ ایرانی ردعمل ممکن ہے اعلانیہ سامنے نہ آئے، مگر بہرحال تہران میں بھی اس پیشرفت کا گہرائی سے تجزیہ ہورہا ہوگا۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے البتہ اس میں خاصا کچھ ہے، بہت دلچسپ، اہم اور غیر متوقع۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی اس حوالے سے اپنی تحریر میں کہتے ہیں کہ اس معاہدے نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ یہ ہر اعتبار سے سرپرائز ثابت ہوا۔ کسی بھی عالمی انٹیلی جنس ایجنسی نے اس قسم کے معاہدے کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔ کہیں پر ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملا۔ یہ بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر ایک سال سے کام ہورہا تھا لیکن اسے خفیہ رکھا گیا۔ ایران اور اسرائیل کی جنگ نے بھی اس سوچ کو تقویت بخشی ہوگی کہ اب اپنے تحفظ کے لیے سعودیہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کر سکتا، اس کے علاوہ یہ امکان بھی ہے کہ اسرائیل کے قطر پر حملے نے معاملے کو تیز تر کر دیا اور پھر ایک ہفتے کے اندر ہی یہ بڑی دفاعی ڈیل ہوگئی۔

 

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونے والے معاہدے کی مرکزی شق یہ ہے کہ دونوں کا دفاع مشترکہ ہو گا، اور ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہوگا۔ اس اعتبار سے تو پاکستان پر حملے کی صورت میں سعودی عرب کی جانب سے فوجی اور ہر قسم کی مدد متوقع ہونی چاہیے۔ تاہم عامر خاکوانی کے مطابق مختلف تجزیہ کار اسے مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی نیوکلیئر چھتری کے نیچے آ گیا ہے۔ ایسا تاثر بھی گیا ہے کہ دفاعی اور عسکری اعتبار سے طاقتور اور مضبوط پاکستان نے اپنے ایک دیرینہ قریبی دوست ملک کو اپنے تحفظ میں لے لیا ہے۔ اس سے پاکستان کا قد زیادہ بلند ہوا ہے۔

 

پاکستان کے سابق وزیر اور خارجہ امور کے تجزیہ کار مشاہد حسین کا تو خیال ہے کہ پاکستان نے خاموشی سے عرب دنیا کی حفاظت کی ذمہ داری امریکہ سے چھین کر اپنے ذمے لے لی ہے۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ سعودیہ نے اپنی حفاظت کی خاطر پاکستان سے یہ معاہدہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بوقت ضرورت سعودی عرب کو جوہری تحفظ بھی دے گا؟ زلمے خلیل زاد نے ٹوئیٹ میں دلچسپ نکتہ اٹھایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’کیا اس معاہدے میں خفیہ شرائط ہیں؟ اگر ہیں تو وہ کیا ہیں؟ کیا یہ معاہدہ سعودی عرب اورشاید دوسروں کی امریکی ڈیٹرنس اور دفاع پر اعتماد میں کمی کا اشارہ ہے؟ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار اور ترسیل کا نظام ہے جو اسرائیل سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ یہ ایسا میزائل نظام بھی تیار کررہا ہے جو امریکا میں اپنے اہداف تک پہنچ سکتا ہے، سوالات بہت سے ہیں۔۔۔۔۔۔۔’

 

دوسری جانب پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے پر بھارت کا ردعمل محتاط رہا ہے۔ انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق ‘ہم اس پیشرفت کے مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ لیکن انڈین حکومت قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔’ تاہم بھارتی تشویش چھپائے نہیں چھپ رہی، وہاں کئی دفاعی تجزیہ کاروں نے اس پر تشویش ظاہر کی ہے، کانگریس رہنمائوں نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بھارتی اثرورسوخ میں کمی آئی ہے۔

 

مغربی تجزیہ کار اور عسکری ماہر سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس کافی تعداد میں نیوکلیئر ہتھیار اور میزائیل موجود ہیں جو 3 ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں۔ پاکستان کا میزائل شاہین تھری نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے والا میزائل تصور ہوتا ہے، یہ ہائپر سونک میزائل ہے اور اس کی رفتار 8 سے 10 میک تک بتائی جاتی ہے۔ پہلے تاثر یہ تھا کہ اس کی رینج 2700 کلومیٹر تک ہے، مگر مغربی عسکری حلقوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے دانستہ طور پر اس کی رینج کم بتائی ہے، ورنہ یہ آسانی سے 3300 سے 3500 کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے، یاد رہے کہ اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب پاکستان سے 3200 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔

 

ادھر عرب تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب نے پہل کی ہے اور ایک طرح سے یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور شاید عمان بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدے کا حصہ بن جائیں۔ تاہم ضروری نہیں کہ ایسا عجلت میں ہو، ابھی تو ہر ملک یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ امریکا اس پر کیا ردعمل دیتا ہے؟ کیا خبر کہ پاکستان کے ساتھ اگلا دفاعی معاہدہ کئی مسلم ممالک مل کر کریں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ کو ایسے معاہدے ہضم ہوں گے یا نہیں کیونکہ ان سے مشرق وسطی میں اسکی اہمیت کم ہو جائے گی۔

Back to top button