اسلام آباد ہائی کورٹ کے عمرانڈو ججز کا چیف جسٹس پر حملہ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بغاوت پھوٹ پڑی، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے مابین گروپنگ کھل کر سامنے آ گئی۔ عدالت عالیہ کے 5عمراندار ججز چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحاق خان نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو آئین کی پامالی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کر دیں۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے مبینہ جعلی ڈگری کیس میں بطور جج فرائض کی ادائیگی سے روکنے کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا، جسٹس جہانگیری نے چیف جسٹس کے فیصلے کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے فوری عدالتی فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی ہے۔ جسٹس جہانگیری کی جانب سے دائر درخواست میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، رجسٹرار اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں انفرادی طور پر اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ دائر کی گئی درخواستوں کا متن تقریباً ایک ہی ہے، درخواستوں میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیارات سے تجاوز، بینچوں کو مرضی کے مطابق تشکیل دینا، ہائی کورٹ رولز کو نظر انداز کرنا، مرضی کے ججوں کو نوازنا اور باقی ججوں کے ساتھ امتیازی رویے کے قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کو چارج شیٹ کیا گیا ہے۔ عمراندار ججز کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ انھیں بطور غیر جانب دار منصف شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ججوں کا کام مقدمہ بازی کرنا نہیں ہوتا، لیکن موجودہ غیر معمولی حالات ہیں ایک بڑا سوالیہ نشان موجود ہے کہ آیا ہم قانون کی حکمرانی کے تحت چل رہے ہیں یا افراد کی حکمرانی کے تحت۔ اسی لیے انھوں نے آخری چارے کے طور اپنی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی ہیں تاکہ بطور عدلیہ کے اراکین اور پاکستانی شہری،کچھ سیدھے سادے سوالات کے جواب حاصل کیے جا سکیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ فیصلہ کرے کہ کیا آئینی طور پر ہائی کورٹ کے کسی جج کو صرف اپنے عدالتی فرائض کی انجام دہی سے روکا جا سکتا ہے کیا کسی جج کے خلاف دائر کی جانے والی ایسی کوئی بھی درخواست آئینی طور پر قابل سماعت ہوتی ہے؟درخواستوں میں ججوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ انتظامی اختیارات کو ہائی کورٹ کے ججوں کے عدالتی اختیارات کو کمزور کرنے یا ان پر غالب آنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جبکہ چیف جسٹس ہائی کورٹ اس وقت جب کسی بینچ کو مقدمہ دیا جا چکا ہو، نئے بینچ تشکیل دینے یا مقدمات منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
عدالت نے خدیجہ شاہ سمیت 8 ملزمان کے وارنٹ جاری کر دیے
درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا کہ آئینی طور پر چیف جسٹس اپنی مرضی سے دستیاب ججوں کو فہرست سے خارج نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس اختیار کو ججوں کو عدالتی ذمہ داریوں سے ہٹانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔سپریم کورٹ سے یہ بھی کہا گیا کہ بینچوں کی تشکیل، مقدمات کی منتقلی اور فہرست جاری کرنا صرف ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی منظوری سے بنائے گئے قواعد کے مطابق کیا جا سکتا ہے، بینچوں کی تشکیل، روسٹر ہائی کورٹ رولز اور مقدمات کی منتقلی سے متعلق فیصلہ سازی صرف چیف جسٹس کے اختیار میں نہیں ہو سکتی کیونکہ ماسٹر آف دی روسٹر کے اصول کو سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ختم کر دیا گیا ہے۔
درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا کہ 3 فروری اور 15 جولائی کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز کے ذریعے بنائی گئی انتظامی کمیٹیاں اور ان کے اقدامات قانونی بدنیتی پر مبنی، غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔ درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ان نوٹیفکیشنز اور کمیٹیوں کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ ’درخواست گزار جج یہ سوالات اپنے آپ یا اپنے ادارے کو متنازع بنانے کے لیے نہیں اٹھا رہے بلکہ اس بات کو سمجھنے کے لیے اٹھا رہے ہیں کہ وہ کس طرح اپنے اس فریضے کو پورا کر سکتے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت آئین اور قانون کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے اس حلف کے پابند ہیں جس کے مطابق وہ آئین کا تحفظ، حفاظت اور دفاع کریں گے اور ہر شخص کے ساتھ بلا خوف و خطر، بلا امتیاز، بلا جھکاؤ اور بلا عناد قانون کے مطابق انصاف کریں گے۔‘
ہائی کورٹ کے ججوں نے گذشتہ برس چھ ججوں کے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خطوط کو بھی سپریم کورٹ میں دائر درخواست کا حصہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری سمیت اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچوں درخواستگزار جج اپنی درخواستوں کی ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں پیروی کریں گے۔
