کیا سپریم کورٹ نواز شریف کی تاحیات نااہلی ختم کر دے گی؟

27 جنوری کو سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے پٹیشن دائر کئے جانے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا پانامہ کیس میں سزا پانے والے نواز شریف کی نااہلی ختم ہوجائے گی اور دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے انکا راستہ ہموار ہو جائے گا؟
یاد رہے کہ یہ وہی پٹیشن ہے ہے جس کی بنیاد پر وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے دنوں یہ دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف کی نا اہلی ختم کروا کر انہیں چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنانے کیلئے سازش کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے شازیب خانزادہ کے پروگرام میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو سیاسی معاملات میں پارٹی نہیں بننا چاہیے۔ تاہم احسن بھون کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی مسئلہ ہے کیونکہ کسی پارلیمنٹرین کی تا حیات نا اہلی کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں، لہذا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کی درستی کے لیے پٹیشن دائر کی گئی ہے۔
27 جنوری کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں وفاق کو فریق بناتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے اور آرٹیکل 184 کے اختیار کے تحت سپریم کورٹ بطور ٹرائل کورٹ امور انجام نہیں دے سکتی۔ اس سلسلے میں مزید موقف اختیار کیا گیا کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہیں ملتا اور عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے۔
پٹیشن میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اپیل کے حق کے بغیر کسی امیدوار کو تاحیات نااہل قرار دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اپنے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا حالانکہ کسی رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینا صرف الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔ پٹیشن کے مطابق سپریم کورٹ بلدیاتی انتخابات میں قرار دے چکی ہے کہ منتخب نمائندگان کو عوام سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ غلطی کرنے والوں کو نظرثانی اور معافی کا حق نہ دینا اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ سپریم کورٹ بار کی پٹیشث میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان کے مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
کپتان کے سپانسر عارف نقوی کو 24 ارب جرمانہ، کاروبار کالعدم
خیال رہے کہ 14 اپریل 2018ء کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے تحت آئین کی اس شق کے ذریعے نااہل قرار دیے گئے ارکانِ پارلیمنٹ تاحیات نااہل ہوں گے۔ اس سے پہلے نواز شریف اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے ارکان اسمبلی کی نااہلی کی مدت کتنی ہوگی، جس کے بعد اس مدت کا تعین کرنے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ آئین کی اس شق کے ذریعے نااہل قرار دیے گئے ارکانِ پارلیمنٹ تاحیات نااہل ہوں گے۔ تب کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے 13 درخواستوں کی سماعت کے بعد 14 فروری 2018 محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت میں جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے شخص کی نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی اور وہ شخص عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار کے مطابق ہے اور اس کی یہی ممکنہ تشریح بنتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی اپنی حثیت ہے، جس کا مقصد پارلیمان میں دیانتدار، راست گو اور شفاف اراکین منتخب ہوں۔ اس فیصلے کے تحت نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کو تاحیات قرار دیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل کے تحت اراکین کا صادق اور آمین ہونا ضروری ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی اور جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ رہے گا نااہلیت بھی رہے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا اور جب تک عدالتی ڈیکلیریشن موجود رہے گی، 62 ون ایف کے تحت نااہلی ہمیشہ برقرار رہے گی۔
