کیا برطانوی حکومت نواز شریف کو تحفظ دے رہی ہے؟

وزیرا عظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی فراغت کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کو حالیہ بریفنگ میں یہ تاثر دیا کہ دراصل برطانوی حکومت شریف فیملی کو سزائیں
دلوانے کی راہ میں حائل ہے۔ شہزاد اکبر کی اس بونگی سے مایوس ہو کر کپتان نے انہیں مستعفی ہونے کا کہہ دیا۔
سنیئر صحافی نصرت جاوید اپنے تازہ سیاسی تجزیئے میں بتاتے ہیں کہ گزشتہ دنوں ہوئے کابینہ کے ایک اجلاس میں وزیر اعظم نے شہزاد اکبر صاحب سے شریف خاندان کی مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے برطانوی حکومت کے ساتھ روابط کے بارے میں تندوتیز سوالات کئے۔
وہ ان کا تسلی بخش جواب فراہم نہ کر پائے اور الٹا یہ تاثر دیا کہ جیسے برطانوی حکومت بھی شریف خاندان کو عبرت کا نشان بنانے کو آمادہ نہیں۔ شہزاد اکبر کے اس اعتراف کے بعد وزیر اعظم کو ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ بالآخر دکھی دل سے استعفیٰ دینے کو مجبور ہوئے۔
شہزاد اکبر کی کپتان کی ٹیم میں شمولیت کے حوالے سے نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان گزشتہ کئی دہائیوں سے لاہور کے شریف خاندان کو وطن عزیز کا مہا چور اور لٹیرا ثابت کرنے کو تلے بیٹھے ہیں۔ اگست 2018ء میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے اس الزام کو ٹھوس حوالوں کے ساتھ ثابت کرنا ان کی حکومتی ذمہ داری بن گئی۔
اس ذمہ داری کو نبھانے کے لئے انہیں ذہین وفطین مصاحبین کی معاونت درکار تھی اور شہزاد اکبر نے وزیر اعظم کے روبرو خود کو دورِ حاضر کا حتمی تفتیش کار بناکر پیش کردیا۔ مرزا صاحب کا دل لبھادینے والا منجن کابنیادی طور پر یہ دعویٰ تھا کہ برطانیہ بھی اپنے ملک میں دیگر ممالک کی کرپٹ اشرافیہ کی منی لانڈرنگ کے ذریعے خریدی جائیدادوں کا سراغ لگانے کو تلا بیٹھا ہے۔
حکومت پاکستان اگر شریف خاندان کے خلاف بدعنوانی کے ثبوت برطانوی حکومت کو باقاعدہ انداز میں فراہم کردے تو وہاں کی تفتیشی ایجنسیوں کا کام آسان ہوجائے گا۔انہوں نے شریف خاندان کے خلاف ٹھوس شواہد جمع کرلئے تو برطانوی عدالتیں انصاف فراہم کر دیں گی۔ اس کی بدولت عمران خان اور ان کی جماعت کے لئے یہ بیانیہ فروغ دینا آسان ہوجائے گا کہ شریف خاندان کو پاکستان ہی نہیں برطانیہ جیسے ملک کی قطعی آزاد عدلیہ نے بھی بدعنوان قرار دیا ہے۔
کیا سپریم کورٹ نواز شریف کی تاحیات نااہلی ختم کر دے گی؟
وہ عمران حکومت کو انتقامی کارروائی کا دوش نہیں دے سکیں گے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ سچی بات یہ بھی ہے کہ یہ چورن میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کے سامنے بھی رکھا جاتا تو ہم اس کی افادیت فی الفور تسلیم کر لیتے۔ لہٰذا عمران خان نے بہت اخلاص سے مرزا صاحب کو قدم بڑھانے والی تھپکی لگا دی۔ مرزا صاحب کی خوش بختی یہ بھی ہوئی کہ عمران خان صاحب کے اقتدار سنبھالتے ہی برطانیہ کا ایک سابق وزیر داخلہ پاکستان بھی آیا۔وہ پاکستانی نژاد تھا۔
اس کے ساتھ ہمارے وزیر اعظم کی ملاقات بھی ہوئی۔ ہم سادہ لوح پاکستانیوں کی اکثریت اس گماں میں مبتلا ہوگئی کہ شریف خاندان اب بچ نہیں پائے گا۔ یہ گمان بھی ہوا کہ چونکہ عمران خان برطانیہ کی حکمران اشرافیہ میں بھی بہت مقبول ہیں۔ ان کی خواہش پر ہوئی تحقیقات تیز رفتاری سے شریف خاندان کو بے نقاب کردیں گی۔
دریں اثناء برطانوی حکومت کو تحقیقات پر اُکسانے اور ان کی جانب سے ہوئی تفتیش کو تیز تر بنانے کے لئے شہزاد اکبر مرزا برطانیہ کے پھیرے لگانا شروع ہوگئے۔البتہ میڈیا کی کامل آزادی کے موجودہ موسم میں میرے اور آپ جیسے پاکستانیوں کو خبر ہی نہیں کہ بدعنوانی کے حتمی محاسب ہوتے ہوئے شہزاد اکبر مرزا نے برطانیہ کے کتنے دورے کئے ہیں۔
ہمارے دئیے ٹیکسوں سے اس مشقت میں کتنی رقم خرچ ہوئی۔ہماری پارلیمان میں براجمان اپوزیشن والے بھی وقفہ سوالات کی بدولت اس ضمن میں کماحقہ جوابات حاصل کرنے پر توجہ نہیں دے پائے۔ شہزاد اکبر کی آنیاں جانیاں برطانیہ ہی نہیں دیگر کئی ممالک میں بھی جاری رہیں۔
انہوں نے شاندار سیزن لگایا مگر جس کا وعدہ تھا وہ ڈیلیور نہ کرپائے۔ بقول نصرت جاوید بہت سے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ شہزاد اکبر کی ’’آنیوں جانیوں‘‘سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی اُکتائے بیٹھے تھے۔ وہ لاہور جاتے تو پولیس اور دیگر تفتیشی اداروں کے سربراہان کو براہِ راست طلب کرتے۔ان اداروں کے افسران طے ہی نہ کرپاتے کہ عثمان بزدار یا شہزاد اکبر میں سے وہ کس کو جوابدہ ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب کی شکایتوں کو وزیر اعظم کئی ماہ تک نظرانداز کرتے رہے لیکن جب شہزاد اکبر نے اپنی ناکامی ماننے کی بجائے برطانوی حکومت پر شریف فیملی کی طرفداری کا الزام لگایا تو کپتان نے انہیں گھر جانے کا کہہ دیا۔
