کیا افغان حکومت پاکستان مخالف دہشت گردی روک پائے گی؟

پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والا امن معاہدہ برقرار رہنے کا انحصار اس سوال پر ہے کہ کیا افغان حکومت تحریک طالبان کو پاکستان مخالف دہشت گرد کارروائیاں کرنے سے روک پاتی ہے یا نہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا افغان حکومت بھارتی آسیب سے نکل کر ٹی ٹی پی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت کار سے دستبردار ہو جائے گی؟ اِس کا انحصار، افغان حکمرانوں کی سوچ اور نیّت پر ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغان حکومت اگر ایسا کرنے کی نیت رکھتی بھی ہے تو اگلا سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کرنے کی ’صلاحیت‘ بھی رکھتی ہے۔ کیا کابل کی انتظامیہ اِن منہ زور دہشت گرد تنظیموں کے ڈھانچے زمیں بوس کرنے اور انہیں غیر فعال کر دینے کی قدرت رکھتی ہے؟ انکا کہنا ہے کہ کسی بھی پائیدار حل اور دونوں ممالک کے اچھے تعلقات ِکار کیلئے، ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا ضروری ہیں۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ دوحہ معاہدے کے بعد مذاکرات کا اگلا اہم مرحلہ 25 اکتوبر ہے جس کی میزبانی ترکیہ کرے گا۔
سرِ دست، قطر اور دیگر ممالک کی کوششوں کا ثمر یہ نکلا ہے کہ دونوں ممالک، رسمی طور پر ’جنگ بندی‘ پر آمادہ ہوگئے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ سیز فائر کو غیرمعینہ مدت تک توسیع مل گئی ہے۔ افغانستان کے خلاف پاکستانی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں جن کے تحت پاکستان پر مسلسل حملے کرنیوالی تنظیم کی پناہ گاہوں اور تربیت گاہوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئی تھیں۔ سیز فائز یا جنگ بندی کی ترکیب اس اعتبار سے عجیب لگتی ہے کہ تحریک طالبان یا پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنیوالے گروہ نہ تو اِن مذاکرات کا حصہ ہیں اور نہ اُن میں سے کسی نے جنگ بندی کا واضح اعلان کیا ہے۔ اُن کی طرف سے ابھی تک دوست ممالک کے تعاون سے شروع ہونے والے مذاکراتی عمل پر بھی کوئی رسمی ردّعمل سامنے نہیں آیا۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں تو کیا اِس سے یہ سمجھا جائے کہ ٹی ٹی پی یا ایسی دیگر دہشت گرد جماعتوں کی ضمانت کابل کی افغان حکومت دے رہی ہے؟ یعنی یہ تنظیمیں، اپنا اپنا نظم رکھنے کے باوجود کابل انتظامیہ ہی کو اپنا رہبر و راہنما اور سرپرست خیال کرتی ہیں اور اُن کے حکم کی پاسداری کرتی ہیں۔ یہی بیانیہ پاکستان کا ہے اور اسی موقف کی بنیاد پر وہ کابل انتظامیہ سے تقاضا کر رہا ہے کہ وہ اپنی سرپرستی میں پرورش پانے اور اُن کے حکم کے تابع دہشت گرد عناصر کو لگام ڈالیں۔ پاکستان کا یہ انتہائی سیدھا سادہ مطالبہ عالمی ضابطوں کے مطابق ہے جس کی اہمیت کو ہمارے دوست ممالک بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس بارے طالبان کیا جواز یا دلیل دیتے ہیں؟ ابھی تک بات کھُلنے نہیں پا رہی۔ یہ معّمہ بھی حل ہونے میں نہیں آ رہا کہ کابل انتظامیہ کی پاکستان سے دشمنی کی حدوں تک پہنچ جانے والی پرخاش کے اسباب کیا ہیں؟ اُس نے اپنی حکمتِ عملی کو بھارت سے کیوں جوڑ لیا ہے اور اُس کے مقاصد کا آلۂِ کار کیوں بنتی جارہی ہے؟
عرفان صدیقی کے بقول طالبان حکومت کم وبیش پانچ سال پہلے بھی قائم تھی۔ دس سالہ مہم جوئی کے بعد روس افغانستان سے نکلا تو جہادی تنظیموں کی عمل داری شروع ہوئی۔ دس برس تک، افغان مزاحمت کے پہلو بہ پہلو، روس سے پنجہ آزمائی کے بعد پاکستان نے بھرپور کوشش کی کہ جہادی تنظیمیں آپس میں، الجھنے کے بجائے ایک مستحکم اور پائیدار حکومت قائم کرکے، ایک بڑی عسکری کامیابی کے ثمرات عوام تک پہنچائیں۔ ایسانہ ہوا تو قندھار سے طالبان کی نمُو ہوئی۔ ملا محمد عمر کی قیادت میں یہ تحریک آگے بڑھی۔ یہاں تک کہ 1996 میں کابل طالبان کی تحویل اور امیر المومنین ملّا محمد عمر کی فرماں روائی میں آ گیا۔ لیکن نومبر 2001 میں امریکہ اور نیٹو افواج کی یلغار پر یہ حکومت ختم ہوگئی۔
اہم بات یہ ہے کہ افغان طالبان کے پانچ سالہ عہد میں، وہ کچھ بہرحال نہیں ہوا جو گزشتہ چار برس سے جاری ہے۔ بلکہ یہ کہنے بے جا نہیں کہ گزشتہ 45 برس سے آتشکدہ بنے افغانستان اور آتی جاتی حکومتوں کے باوجود پاکستان کیخلاف کبھی دہشت گردی کی ایسی منظم، مسلسل اور خوں آشام کارروائیاں نہیں ہوئیں جو موجودہ افغان انتظامیہ کے چار سالہ عہد میں ہوئیں۔ گزشتہ برس، 2024 میں 2546 افراد پاکستان میں دہشت گردی کا نشانہ بنے جن میں مسلح افواج کے سینئر افسران کی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس سال کے پہلے 9 ماہ میں دہشت گردی سے مرنے والوں کی تعداد 2414 تک پہنچ چکی ہے۔ اِس قدر خوں ریزی کے بارے میں افغانستان کا محض یہ کہہ دینا کہ ’’یہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ پست درجے کا مذاق ہی کہلایا جا سکتا ہے۔
افغانستان سے ایک حملہ ہوا تو جواب میں 10 پاکستانی حملے ہوں گے
عرفان صدیقی کے مطابق قطر اور استنبول کے مذاکرات، کیا رُخ اختیار کرتے اور کتنے نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں؟ اس کا اندازہ بہت جلد ہوجائے گا۔ سارا انحصار طالبان حکومت پر ہے۔ کیا وہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں سے فاصلہ کرلینے اور انہیں بطور ایک ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت کار سے مکمل طورپر دستبردار ہوجائے گی؟ کیا وہ بھارت کے آسیب سے نکل کر، پاکستان کے ساتھ نئے تعلقاتِ کار پر آمادہ ہوجائے گی؟ اِس کا انحصار، افغان حکمرانوں کی سوچ اور نیّت، یعنی سیاسی عزم پر ہے۔
کابل انتظامیہ کی ’نیّت‘ اور ’صلاحیت‘ سے قطع نظر، ٹھوس اور پائیدار نتائج کیلئے ضروری ہے کہ دوست ممالک، ایک موثر نظم وضع کریں، اسکی ضمانت دیں اور اس پر عمل درآمد کا میکانزم بھی وضع کریں۔ ورنہ ساری مشق، مشقِ لاحاصل ہی رہے گی۔
