کیا اگلے چیف جسٹس منصور شاہ بھی بادشاہ گر بن کر حکومت گرائیں گے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے پاکستانی تاریخ میں عدلیہ کے شرمناک کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری جوڈیشری سیاست کی دلدل میں دھنس چکی ہے جس وجہ سے چیف جسٹس صاحبان بادشاہ گھر بننے کی کوشش کرتے ہوئے ولن بن کر فارغ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی عدلیہ نے اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال کروانی ہے تو اسے پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت سے باز رہنا ہو گا۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ اگلے چیف جسٹس منصور علی شاہ خود کو سیاست سے بچاتے ہوئے غیر جانبداری برتیں گے اور ماضی کے چیف جسٹس صاحبان کی طرح حکمران بننے کی کوشش نہیں کریں گے۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اگلے چیف جسٹس کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس بھی جج نے ماضی میں یکطرفہ مقبول یا غیر مقبول فیصلے کئے، وہ تاریخ میں کالے حروف سے ہی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کیے توقع یہی ہے کہ نئے چیف جسٹس خود کو سیاست سے بچاتے ہوئے غیر جانبداری برتیں گے اور نہ تو کسی کی خوشی کیلئے حکومت کو گرائیں گے اور نہ ہی غصے میں آ کر کسی بحران کو جنم دینگے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان کے سپریم ترین ادارے میں ’’منصور شاہی‘‘ دور کی آمد آمد ہے۔ نونی حکومت کی خوف سے گھگھی بندھی ہوئی ہے اور بقول خواجہ آصف دو ماہ میں انکی حکومت کی چھٹی کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ فوجی قیادت تشویش میں مبتلا ہے کہ اس نئے دور میں حالات اور فیصلوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا؟ ایک طرف منصور شاہی دور کی امد کے حوالے سے صف ماتم بچھی ہوئی ہے تو دوسری ڈھول تاشے،تُوتیاں باجے، دھمالیں اور لڈیاں ڈالی جا رہی ہیں کہ دو ماہ کے بعد مخلوط حکومت تہہ خاک ہو گی اور کپتان کا پھر سے بول بالا ہو گا۔
تاہم سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کسی نئے عدالتی دور کی آمد کے حوالے سے نہ اس طرح کے خدشات ہونے چاہئیں اور نہ اس طرح کی توقعات۔ اس وقت دونوں طرح کے جذبات غلط ہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدلیہ کا آئینی کردار من مرضی کی حکومتیں لانا اور انہیں گھر بھیجنا ہونا چاہیئے، کیا اس کا کردار کسی حکومت کیلئے خطرہ بننے والا یا کسی جماعت کیلئے سیاسی امید بننے والا ہونا چاہیئے؟ بدقسمتی سے چونکہ عدلیہ ماضی میں یہ کردار ادا کرتی رہی ہے، اس لئے خدشات اور توقعات کا جنم لینا خلاف حقیقت نہیں ۔ نئے آنے والے چیف جسٹس آئین پسند اور معتدل منصف کی حیثیت سے مشہور ہیں ،نامور سید فیملی کے چشم و چراغ ہیں،ان کے مالی معاملات کسی شک و شبے سے بالاتر ہیں اور اس کی تحقیق و تفتیش سے بھی یہی ثابت ہوا ہے ۔ ماضی کی کوئی بڑی غلطی ان کے سامان کی گٹھڑی میں موجود نہیں ہے، مگر بقول بے نظیر بھٹو شہید، عدالتوں کے کئی فیصلوں میں ’’چمک‘‘ در آتی ہے، ایک زمانے تک یہ ’’چمک‘‘ طاقت اور خوف سے آتی تھی مگر جب سے اخبارات کی سرخیاں اور ٹی وی سکرینوں کے ٹکر عدالتی خبروں سے چنگھاڑنے لگے ہیں تب سے شہرت اور مقبولیت کی چمک نے انصاف کے چہرے کو دُھندلا نا شروع کر دیا ہے ۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ جسٹس منیر اون ان جیسوں سے وابستہ پرانی غلطیوں کو تو چھوڑیں، حالیہ تاریخ میں بھی ججوں کے ہاتھوں پہاڑی غلطیوں کا ارتکاب اور انصاف کا قتل عام ہوا ہے۔ سیاسی ججوں کی جانب سے کبھی تو آئین بنانے والوں کی سوچ کے برخلاف آرٹیکل 63 کی نئی من مانی تشریح کی گئی، کبھی اپنے چیف جسٹس کو بچانے کیلئےآرٹیکل 109 کے ذریعے احتساب کا طریقہ ہی بدل دیا گیا، کبھی وزیر اعظموں کو نکالنے کیلئےآئین کی واضح دفعات کے باوجود آرٹیکل 184/3کو 58ٹو بی کا متبادل بنا دیا گیا، کبھی توہین عدالت اور کبھی میمو گیٹ کے جھوٹے اور من گھڑت افسانوں کے ذریعے منتخب حکومتوں کو کمزور کیا گیا۔ یہاں تو حب الوطنی کی جھوٹی آڑ لے کر سٹیل مل کی نجکاری کو بھی روکا گیا حالانکہ اس فیصلے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ کبھی اقامہ کا بہانہ بنا کر وزیر اعظم کو نشانہ بنایا گیا اور اقتدار سے ہی رخصت کر دیا گیا۔ یہ سب کرنے کے باوجود جسٹس افتخاروں، ثاقب نثاروں اور آصف کھوسوں کیلئے خیر ہی خیر ہے۔ یہ سب انصاف کر سب سے اونچی کرسی پر بیٹھ کر آئین کو مسخ کرتے ہوئے انصاف کا قتل عام کرنے کے باوجود ریٹائرمنٹ کے بعد آرام سے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے بڑی بے حیائی اور ڈھٹائی سے بڑی بڑی پینشنز کھا رہے ہیں۔ کیا عدالت ِعظمیٰ نے ان پہاڑی غلطیوں پر کسی ایک بھی چیف جسٹس کا احتساب کیا ہے؟ کیا پوری پاکستانی تاریخ میں آج تک کسی جج کو مارشل لا جیسے سنگین آئین شکنی کو جائز قرار دینے پر سزا ہوئی ہے؟ کیا آج تک کوئی فاضل جج ملک کو پٹڑی سے اتارنے کے الزام میں جیل گیا ہے؟ ہمارے جغادری سیاست دان ہوں، جرنیل ہوں یا جرنلسٹ، یہ سب احتساب کے شکنجے میں کسے جانے کے بعد عدالتوں میں مارے مارے پھرتے رہے ہیں۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ ہمارے بے ضمیر اور بد عنوان جج اپنے ہی ادارے کے احتساب سے مستثنیٰ کیوں ہیں؟
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ تینوں بڑے جیم یعنی جغادری سیاست کار، جرنیل یا جرنلسٹ تو اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتتے رہے۔ لیکن چوتھی بڑی جیم یعنی جج کیا کوئی فرشتے ہیں یا پھر خلائی مخلوق ہیں کہ عدلیہ انہیں ذوالفقار علی بھٹو جیسے کرشمہ ساز لیڈر کو بلا وجہ پھانسی چڑھانے کا جرم ثابت ہو جانے کے باوجود علامتی سزا تک نہیں دیتی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس انوار الحقوں، مولوی مشتاقوں اور نسیم شاہوں کی جانب سے بھٹو کو پھانسی چڑھانے کے فیصلے کو غلط تو قرار دیدیا مگر ان بڑے کے خلاف نہ تو ایک لفظ کہا اور نہ لکھا، نہ ہی ان لوگوں کو کوئی علامتی سزا دی گئی، نہ انکی مراعات واپس لی گئیں، نہ انکی تصویریں عدالتوں سے ہٹائی گئیں۔ عذر یہ پیش کیا گیا کہ اب اتنا وقت گزر چکا ہے کہ عدالت اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میڈیا کے سب سےبڑے ستون روزنامہ جنگ اور جیو کیساتھ ناانصافیاں کرنے والوں کو کیا سزا ملی، میر شکیل الرحمان کو بلا وجہ ایک برس تک پابند سلاسل رکھنے والوں کو پوچھا تک نہیں گیا۔ کیا مارشل لا کو جائز قرار دینے والے جسٹس منیروں اور ان جیسے دیگر ضمیر فروش ججوں کی تصویریں عدالتوں کی زینت رہنی چاہئیں جو اسمبلیاں توڑنے کی توثیق کرتے رہے۔ کم از کم عدالتیں یہ مثال تو قائم کریں تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ غلط فیصلوں اور چمکدار رویوں کی بھی کوئی سزا ہوتی ہے۔
سہیل وڑائج مزید کہتے ہیں کہ ایک آئین پسند شہری کی حیثیت سے مجھے علم ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نہ ماننا آئینی جرم ہے کیونکہ جب سب سے بڑی عدالت کا فائنل فیصلہ آ جاتا ہے تو پھر ریاست کے اداروں کیلئے اسے ماننا آئینی طور پر لازم ہو جاتا ہے۔ اس حقیقت کو ماننے کے بعد یہ تسلیم کرنا بھی لازم ہے کہ آئین نے تو پارلیمینٹ کو سپریم ترین ادارہ قرار دیا ہے۔ کسی بچے سے بھی پوچھ لیں، اس کو علم ہے کہ آئین نے پارلیمینٹ کو سپریم قرار دیا ہوا ہے۔ مگر یہ سب سے بڑی حقیقت عالم فاضل ججوں کو سمجھ نہیں آتی اور وہ بار بار اِسے نظرانداز کرتے ہوئے خود کو سپریم قرار دے دیتے ہیں۔ جس طرح سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نہ ماننا آئینی جرم ہے اسی طرح پارلیمینٹ کو سپریم نہ جاننا اس سے بھی بڑا اور سنگین آئینی جرم ہے۔ پہلے عدلیہ اور فوج ملے ہوتے تھے اس لئے ججز پارلیمینٹ کے خلاف فیصلے کر کے فوج کی قوت نافذہ کے تحت انہیں زبردستی منوا لیتی تھی، اب بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ۔ سپریم کورٹ کا اخلاقی اور آئینی رتبہ بلند سہی مگر اپنے فیصلوں کو روبہ عمل لانےکیلئے وہ حکومت اور فوج کی مرہون منت ہوتی ہے اسی لئے عدلیہ کا اگلا ’’منصور شاہی‘‘ دور اپنے فیصلوں کے نفاذ کے حوالے سے بحرانوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب بھی عدلیہ، فوج اور حکومت آمنے سامنے ہونگے، ایک نیا آئینی، عدالتی اور اخلاقی بحران پیدا ہو گا۔ ہم سالہا سال سے فوج کی آمریت، سیاست دانوں کی فسطائیت اور نوکر شاہی کی بےحسی کو برداشت کرتے آ رہے ہیں، جسٹس افتخار چودھری کے دور سے لیکر آج تک ہم عدلیہ کی آمریت کو بھی بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اگر ہمارے فاضل جج معیشت کے فیصلے بھی کریں گے، پوسٹنگ اور ٹرانسفرز کی بھی نگرانی کریں گے۔ آئی جی اور چیف سیکرٹریوں کو آئے روز طلب کریں گے، عوام کے منتخب کردہ وزرائے اعظم کو رخصت کریں گے اور ثاقب نثار کی طرح آنے والی حکومت کی انتخابی مہم چلائیں گے، ڈیم فنڈ اکٹھا کریں گے، اور ہسپتالوں کا معائنہ کرینگے، تو خود حکومت ہی کیوں نہیں سنبھال لیتے، جج حضرات سیاست دانوں کی چھٹی کرائیں اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دعر کی طرح چیف جسٹس حضرات گورنرز بن کر اقتدار سنبھال لیں۔ ایسا کرنے کے بعد ججز سیاست، معیشت اور سماج کے سدھار کا کام اپنے ذمے لے لیں، ہوسکتا ہے کہ یہ غیر منتخب قابل جج واقعی ملک کی تقدیر بدل دیں۔
